امریکا کی پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کی دھمکی

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ

سین فرانسسکو: پاکستان پر امریکا کے الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ کبھی امریکا کی جانب سے ڈو مور کا مطالبہ سامنے آتا ہے تو کبھی امریکا شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں تیزی کی راگ الپنا شروع کردیتا ہے۔

کابل میں نیٹو ہیڈ کوارٹر اور امریکی سفارتخانے پر طالبان کے حملوں کے بعد پاکستان پر امریکی الزامات کا سلسلہ ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا کہتے ہیں کہ حقانی گروپ پاکستان سے کابل میں کارروائیاں کر رہا ہے۔ جبکہ پینٹاگون نے پاکستان میں ایمن الظواہری کی موجودگی کا الزام عائد کیا ہے۔


امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا  نے کابل میں امریکی سفارت خانے اور نیٹو ہیڈ کوارٹرز پر حملوں کا الزام حقانی نیٹ ورک پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد گروپ پاکستان سے امریکی فورسز کیخلاف کارروائیاں کر رہا ہے۔

پاکستانی حکومت کو کئی مرتبہ حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کیلئے کہا گیا ہے لیکن  وہ گروپ کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی۔ حقانی گروپ کیخلاف اب امریکا خود کارروائی کرے گا۔

پینیٹا کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کیخلاف کس طرح کارروائی ہوگی۔ اس کی تفصیل فی الحال نہیں بتائی جا سکتی۔ تاہم دہشت گردوں کو اس طرح کی کارروائیاں نہیں کرنے دی جائیں گی۔

پینیٹا کا کہنا تھا کہ ہم  امریکی فوج کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ منگل کو کابل میں مسلح افراد نے  نیٹو کے ہیڈ کوارٹرز، امریکی سفارت خانے افغان انٹیلی جنس ایجنسی کے دفاتر کو نشانہ بنایا تھا۔ طالبان اتحادی اور افغان فوج کے درمیان 19 گھنٹے تک لڑائی جاری رہی تھی۔

نیٹو کمانڈر کے مطابق حملے میں ستائیس افراد مارے گئے تھے۔ افغانستان میں موجود امریکی سفیر ریان کروکر نے حملوں کا الزام حقانی گروپ پر عائد کیا تھا۔ دوسری جانب پینٹاگون  کے ترجمان جورج لٹل نے بھی الزام عائد کیا کہ القاعدہ کا سربراہ پاکستان میں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایمن الظواہری کی کسی اور ملک میں موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔ سماء / ایجنسیز

میں

کی

decision

banned

کیخلاف

Tabool ads will show in this div