ایک پڑوسی ملک نے خطے کا امن داؤ پر لگ دیا ہے،صدر ممنون

اسلام آباد : صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا ہے کہ ہماری امن دوستی کو کمزوری سمجھنا خطرناک ثابت ہوگا، ایک پڑوسی ملک نے اپنی مہم جوئی سے خطے کا امن داؤ پر لگا رکھا ہے۔ پریڈ سے خطاب میں صدرمملکت ممنون حسین نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے دی جانے والی قربانیوں کے اعتراف میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے ایک نئے میڈل ”تمغہ عزم“ کا اعلان بھی کیا۔

یوم پاکستان پر منقعدہ پریڈ سے خطاب میں صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا تھا کہ ہماری تاریخ میں 23 مارچ جیسا کوئی اور دن نہیں، کیونکہ اس روز ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ غیر ملکی حکمرانوں اور متعصب اکثریت کے غاصبانہ طرزِ عمل کو شکست دے کر اپنی قسمت کے مالک خود بنیں۔

 

صدرمملکت نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران خطے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور جنگ وجدل نے علاقے کا امن و استحکام تباہ کر دیا ہے جس سے پاکستان بھی متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب اور رد الفساد جیسی کارروائیوں کے ذریعے اس چیلنج کا مقابلہ پورے عزم و ہمت سے کیا ہے اور قوم اس جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

 

صدر مملکت نے کہا کہ 23مارچ1940ءکو ہمارے بزرگوں نے ایک ایسا جدید، مضبوط اور جمہوری ملک بنانے کا عزم کیا تھا ہاں کوئی کسی پر ظلم نہ کر سکے اور نہ ہی کسی کا استحصال کیا جا سکے، ہم اس خواب کو حقیقت بنانے کی جدوجہد میں قربانیاں پیش کرنے والے اپنے قائدین، بزرگوں ، شہیدوں اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ عالمی امن و سلامتی کے لئے ہماری دوستی اور تعاون آنے والے دنوں میں مزید پھلے پھولے گا اور یہی ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد بھی ہے لہٰذا ہم خطے میں امن اور ترقی کے مخالفین کو خیرسگالی کا پیغام دینا ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہماری امن دوستی کو کمزوری سمجھنا خطرناک غلطی ہوگی۔

صدرمملکت نے کہا کہ قومی اور علاقائی تعمیر و ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہر قسم کی جارحیت، توسیع پسندی، استحصالی عزائم اور دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کی جائے، پاکستان اسی اصول پر کاربند ہے اور توقع رکھتا ہے کہ عالمی برادری بھی انہی مسلمہ اصولوں کی پاسداری کرے گی۔

صدرمملکت نے مزید کہا کہ خطے کی یہ صورتِ حال ایک مختلف عالمی نظام کے تحت رونما ہونے والے واقعات کا نتیجہ ہے تاہم اب بین الاقوامی سیاسی نظام ایک مرکز کے تابع نہیں رہا لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ اقوامِ عالم پر اپنی مرضی مسلط کر کے اپنی پسند کی دنیا تشکیل دی جاسکے، یہ عہد پر امن بقائے باہمی کے اصولوں کے مطابق ایک دوسرے کے جائز مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا تقاضا کرتا ہے، اس کے برعکس کسی قوم یا ملک پر اس کی مرضی کے خلاف بالادستی قائم کرنے کی ضد عالمی امن کوتباہ کر سکتی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ مشرق میں ہمارا ہمسایہ اپنی فوجی قوت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری پر جارحیت کے ذریعے بے گناہ شہریوں کے جان و مال کا نقصان کیا جا رہا ہےاور ہمارے ہمسایہ ملکنے اپنے اس غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل سے خطے کا امن داﺅ پر لگا رکھا ہے۔ بھارت کو خبردار کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری خالصتاً مقامی تحریک آزادی پر ظلم کے پہاڑ توڑنا بند کرے کیونکہ آزادی کی تحریکوں کو طاقت کے زور سے دبایا نہیں جا سکتا، مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے کے ذریعے حق خود ارادیت کی بحالی ہےاور پاکستان اس مقصد کے حصول کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

اس سے قبل صدر مملکت نے کہا کہ یہ شاندار پریڈ ہمارے خوابوں ہی کی ایک حسین تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم ترین قومی تہوار کے موقع پر ہمارے بہترین دوست بھی پریڈ سمیت یوم پاکستان کی دیگر تقریبات میں شریک ہیں اوراس مقصدکے لئے سری لنکا کے صدر میتھری پالا سری سینا بھی خصوصی طور پرپاکستان تشریف لائے ہیں جس پر پوری پاکستانی قوم انہیں خوش آمدید کہتی ہے۔ صدرمملکت نے کہا کہ ہم پوم پاکستان کے موقع پریڈ میں خصوصی شرکت کرنے والے ترکی، اردن اور متحدہ عرب امارات کے فوجی دستوں کابھی گرم جوشی سے خیرمقدم کرتے ہیں۔

mobile phone service

JF17

air show

GUN SALUTE

Parade Ground

23RD MARCH

pakistan day parade

TRAFFIC PLAN

Mazar-e-Iqbal

Tabool ads will show in this div