امریکا نے پاکستان میں حقانی نیٹ ورک ،کوئٹہ شوریٰ کو بڑا خطرہ قرار دیدیا

اسٹاف رپورٹ

واشنگٹن: ڈو مور کا مطالبہ کرنے والے امریکا نے نئی راگ الاپنا شروع کردی، امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود حقانی نیٹ ورک کی پناہ گاہیں اور طالبان کی کوئٹہ شوریٰ بڑا خطرہ ہے، جب کہ سینیٹر جیئن شاہین
 کے مطابق پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات  ناگزیر ہیں ۔

امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے تین رکنی وفد نے اکیس سے تیئس اگست تک پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا تھا۔ دورے سے واپسی پر ایک بیان میں امریکی سینیٹر کارل لیون اور چیف مرکلے کا کہنا تھا کہ اتحادی افواج اور افغان فورسز نے جنوبی افغانستان سے طالبان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔

اب طالبان کی زیادہ توجہ مشرقی افغانستان پر ہے۔ جس کے نتیجے میں پاکستان میں موجود حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کی کوئٹہ شوریٰ بڑا خطرہ بن گئے ہیں۔

سینیٹرز کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ان پناہ گاہوں سے سرحد پار کر کے امریکا، افغان اور اتحادی فوجوں پر حملے کرتے ہیں۔۔ اور پھر انہی پناہ گاہوں میں واپس چلے جاتے ہیں۔

سینیٹرز کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستانی حکام پر واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے ان پناہ گاہوں کا خاتمہ ضروری ہے۔ وفد میں شامل تیسری رکن جیئن شاہین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں انیس سو اسی سے اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔

پاکستان کیلئے مخصوص پریسلر ترمیم سے دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر پڑا۔۔ پاکستان نے تمام حالات میں امریکا کا بھرپور تعاون کیا، لیکن دو مئی کے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی آگئی۔ سماء / ایجنسیز

میں

کو

نے

decision

banned

trains

georgia

Tabool ads will show in this div