قاتل آئس اور نوجوان نسل

تحریر: سید امجد حسین بخاری

گذشتہ دنوں کامسیٹس یونیورسٹی اٹک کیمپس کا جوان سال طالب علم اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پایا گیا، پولیس تحقیقات کے مطابق نوجوان منشیات کی لت میں مبتلا تھا اور مبینہ طور پر آئس کی زیادہ مقدار لینے کی وجہ سے اپنی جان کی بازی ہار گیا۔ نوجوان کی موت نے مجھے اندر سے ہلا دیا، چند ماہ قبل مجھے تعلیمی اداروں میں منشیات کے حوالے سے ایک فیچر لکھنے کا ٹاسک دیا گیا،، جس دوران حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے،، عموما امیر اور خوشحال گھرانوں کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں منشیات کی لت میں مبتلا ہیں،، تعلیمی اداروں میں آئس کے استعمال میں خطرناک اضافہ ہوا ہے،، آئس افغانستان کے ذریعے پاکستان میں سمگل کی جاتی ہے اور اس کی قیمت پانچ سے دس ہزار کے درمیان ہوتی ہے،، منشیات سپلائی کرنے والے افراد سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے یہ زہر نوجوانوں کو فروخت کرتے ہیں،، ماہرین کے مطابق آئس ’میتھ ایمفٹامین‘ نامی ایک کیمیکل سے بنتا ہے۔ یہ چینی یا نمک کے بڑے دانے کے برابر ایک کرسٹل کی قسم کی سفید چیز ہوتی ہے جسے باریک شیشے سے گزار کر گرم کیا جاتاہے۔ جس کے لئے عموما بلب کے باریک شیشے کو استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض افراد اسے انجکشن کے ذریعے سے بھی جسم میں اتارتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق پڑھائی کا بوجھ نوجوانوں کو یہ نشہ لینے پر مجبور کرتا ہے، زہر کے تاجر پہلے پارٹیز میں مفت آئس دے کر اس کا عادی بناتے ہیں، جس کے بعد اسے مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس کے استعمال سے نوجوان بہت زیادہ متحرک ہوجاتے ہیں۔ نشہ کرنے کے بعد نشئی میں توانائی دو گنا ہوجاتی ہے اور وہ 24 سے 48 گھنٹوں تک جاگ سکتا ہے۔ جب کہ اس دوران اسے بالکل نیند نہیں آتی، تاہم جب نشہ اترتا ہے تو انسان انتہائی تھکاوٹ اور سستی محسوس کرتا ہے۔ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے لئے سرگرم افراد کے مطابق آئس کا استعمال کرنے والوں میں اکثریت طلبہ، تجارت پیشہ افراد، سیاستدانوں، سرکاری افسران اور طوائفوں کی ہے۔ گذشتہ سال رینجرز نے کراچی میں چھاپہ مار کر آئس بنانے والے ایک گروہ کے آٹھ افراد کو حراست میں لیا،، جو کراچی کے پوش علاقوں میں اس زہر کی سپلائی کرتے تھے۔ اسی طرح لاہور کے پوش علاقوں، نجی جامعات، ہاسٹلز اور فارم ہاوسز میں اس نشے کو سپلائی کیا جاتا ہے،، شہر اقتدار کی جامعات میں بھی بآسانی یہ آئس دستیاب ہے،، میڈیا رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی ملازمین اور دیگر افراد نوجوانوں کو آئس فراہم کرتے ہیں۔ دوسری جانب اس لت میں سب سے زیادہ مبتلا خیبر پختونخوا کے تعلیمی ادارے ہیں مگر اس جانب تو سرکاری سطح پر کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اور نہ ہی معاشرے کے بااثر افراد اس کے تدارک کے لئے سنجیدہ ہیں۔

قوم کے نوجوان تباہی کی منزلوں کی جانب گامزن ہیں مگر کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہے،، میری نظر میں اس کے سب سے زیادہ قصور وار والدین ہیں،، جو اپنے بچوں کی غلطیوں کو معمولی قرار دے کر نظر انداز کر دیتے ہیں،، حالانکہ یہ غلطیاں انہیں لمحہ بہ لمحہ موت کی وادی میں لے کر جا رہی ہیں،، مجھے شکوہ ہے طلبہ تنظیموں کے کارکنوں سے،، چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کے سر پھوڑ دینے سے گریز نہیں کرتے مگر پاکستان کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کر تے۔ میں نوحہ خواں ہوں، اس معاشرے کی سمت ظریفی پر، جو فضا میں اڑتے پرندوں کے پر نوچنے کے لئے تو تیار ہے لیکن موت کے منہ بھی جاتی انسانیت کو زندگی دینے کے لئے آواز بلند نہیں کرتا۔ مجھے دکھ ہے، اس پروفیسر مافیا پر جو اسائنمنٹ اور تھیسز کے نام پر طلبہ وطالبات کے مستقبل سے کھیل تو لیتے ہیں، جنہوں نے ذاتی پسند و ناپسند کو امتحان کی کامیابی کا معیار بنا دیا ہے، لیکن طالب علم کی تربیت کے لئے کردار ادا کرنے سے پس و پیش سے کام لے رہے ہیں،، میں گھوڑوں کی خرید و فروخت کے ماہر سیاستدانوں کا نوحہ کیسے لکھوں؟ ذاتی مراعات کا حصول جن کا مشن ہے،، مگر پاکستان کے کل کا درد انہیں بالکل بھی محسوس نہیں ہوتا،، قانون سازی کے لئے منعقد اجلاس، ایک دوسرے کی کردار کشی کی نظر ہوجاتے ہیں،، بیوروکریسی کو سازشوں کے جل بننے میں مصروف ہے،، کون ہے جو پاکستان کے نوجوانوں کو بچانے کے لئے کردار ادا کرسکتا ہے؟ یقیناً میں اور آپ اگر ذاتی حیثیت میں کوشش کریں تو اس لعنت کا خاتمہ کرسکتے ہیں،، آج طے کر لیں کہ ملک سے آئس جیسی لعنت کے خاتمے کے لئے کوشش کریں گے،، سرکاری اداروں کو ان قاتلوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے میں نے اور آپ نے مجبور کرنا ہے،، اٹھیے! اور اس لعنت کے خاتمے کے لئے اپنے حصے کی شمع جلائیں، قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے،، اپنے پاکستان کے کل کی حفاظت کر لیں۔

PARENTS

STUDENTS

colleges

Ice Drug

young generation

Methamphetamine

Tabool ads will show in this div