کرشناکی بوکھلاہٹ کی روایت برقرار،پاکستان سے ڈاکٹر چشتی کی رہائی کا مطالبہ

اسٹاف رپورٹر
ممبئی: بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا اکثر اپنی غلط بیانی اور بوکھلاہٹ کے باعث اکثر خبروں کی زینت بنتے رہے ہیں۔ کرشنا نہ صرف ملکی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی بوکھلاہٹ کا مظاہرہ پیش کر چکے ہیں۔

راجھیا سبھا کے اجلاس میں بھی ایس ایم کرشنا نے اپنی روایتی بوکھلاہٹ کو جاری رکھتے ہوئے بھارتی جیل  اجمیرمیں قید پاکستانی ڈاکٹر کی رہائی کامطالبہ الٹا پاکستان سے کردیا۔
راجیہ سبھا کے اجلاس میں رکن نے وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے پاکستانی قیدی ڈاکٹر خلیل چشتی کے متعلق سوال کیا جو اس وقت اجمیر جیل میں ہیں ،ایس ایم کرشنا پر پتہ نہیں پاکستان کا بھوت سوار تھا یا قیدیوں کیلئے ہمدردی وہ   ڈاکٹر چشتی کو بھارتی شہری سمجھ کر پاکستانی جیل میں قید ہونے کا ذکر کرنے لگے اور کہنے لگے کہ پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں رحم دلی کا مظاہرہ کرے۔

کرشنا کے اس جواب پر پورا ایوان حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھتا رہ گیا۔ کرشنا اپنی غائب اور غیر حاضری دماغی کے مظاہرے اور جذبات میں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ سونے پر سہاگہ ایس ایم کرشنا نے تو یہ تک کہہ دیا کہ ڈاکٹر چشتی بیچارے معذور ہیں اور وہیل چئیر تک محدود ہوگئے ہیں،ان کی عمر80برس ہے۔

اس سے بیشتر کے صورت حال مزید تفریح کا سبب بنتی کہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ایس ایم کرشنا کو شرمندگی سے بچایا اور معاملے کو سنبھالا۔

بھارتی وزیر داخلہ کو ہدایت کرتے ہوئے من موہن نے  کہا کہ وہ مسئلے پر راجستھان کی حکومت سے رابطہ کریں۔ سماء / ایجنسیز

کی

کا

سے

Tabool ads will show in this div