کراچی کے بعد سندھ یونیورسٹی میں ہراسمنٹ کے کیسز سامنے آگئے

جامشورو: کراچی یونیورسٹی میں لیکچرار کی جانب سے طلبا کو ہراساں کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سندھ یونیورسٹی میں بھی ایسے کیسز سامنےآگئے۔

یونیورسٹی کی 10 سے 12 طالبات اپنی شکایات لے کروومن ڈویلپمنٹ کے دفتر پہنچ گئیں، طالبات کا موقف ہے کہ انہیں یونیورسٹی کی اینٹی پراسمنٹ کمیٹی پراعتبارنہیں ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر وومن ڈیولپمنٹ فوزیہ اشرف نے اس حوالے سے چونکادینے والے انکشافات کرتے ہوئے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔

فوزیہ اشرف کے مطابق یونیورسٹی میں ہراسمنٹ کا نشانہ بننے والی طالبات میرے پاس شکایات لے کر آئیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس حوالے سے یونیورسٹی کی ہراسمنٹ کميٹي کيا کررہي ہے، چیف جسٹس معاملے کا نوٹس لیں۔

دوسری جانب سما کی جانب سے معاملے پررجسٹرار سندھ یونیورسٹی ساجد قیوم کا موقف لیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہراسمنٹ سیل میں کوئی بھی شکایت کرسکتا ہے لیکن طالبات کی کوئی شکایت نہیں آئی۔

ساجد قیوم نے کہا کہ ہراسمنٹ کی شکایات ملنے پر معاملہ متعلقہ کمیٹی کو بھیجا جائے گا۔

sexual harassment

Sindh university

Tabool ads will show in this div