القاعدہ دہشتگرد برطانوی مخبر بھی تھ

پاکستان میں سنہ دو ہزار دو میں دو گرجا گھروں اور ایک ہوٹل پر دہشت گردی کے حملوں میں ملوث دہشت گرد مبینہ طور پر بیک وقت برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے لیے کام کر رہا تھا۔

برطانیہ کے مقتدر اخبار دی گارڈین نے امریکی فوج کے خلیج گوانتانامو میں بدنام زمانہ حراستی مرکز کے قیدیوں کی خفیہ فائلوں کے حوالے سے یہ تازہ انکشاف منگل کو اپنے شمارے کی شہ سرخی میں کیا ہے۔

الجیریا سے تعلق رکھنے والے عدیل ہادی الجیری بن ہملیلی کو جنہیں انتہائی خطرناک قاتل، اغواء کار، جرائم میں مددگار اور پیغام رساں قرار دیا گیا تھا سنہ دو ہزار تین میں پاکستان میں گرفتار کر کے خلیج گوانتانامو منتقل کر دیا گیا تھا۔

دی گارڈین نے دعوی کیا ہے کہ اس کو خلیج گوانتانامو کے سات سو انسٹھ قیدیوں کی فائلیں حاصل ہوئی ہیں اور ان ہی فائلوں میں عدیل ہادی کی فائل بھی شامل ہے۔ اس فائل کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار لکھتا ہے کہ ہادی سے تفتیش کرنے والے امریکی تفتیش کاروں کو یہ یقین تھا کہ ہادی برطانوی اور کنیڈین خفیہ اداروں کے مخبر کے طور پر بھی کام کر رہے تھے۔

    جب آپ اس انداز میں خفیہ معلومات اکھٹی کرتے ہیں اور جب آپ جانتے ہوئے بھی بہت سے معصوم لوگوں کو اٹھا لیتے ہیں اور ان پر تشدد کرتے ہیں تو آپ کو مصدقہ معلومات حاصل نہیں ہوتیں بلکہ آپ اپنے بہت سے دشمن بنا لیتے ہیں۔

کلائیو رچرڈ

پاکستان میں گرفتاری کے بعد پہلے انھیں افغانستان میں کابل کے شمال میں واقع بگرام کے حراستی مرکز لے جایا گیا جہاں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے اہلکاروں نے ان سے متعدد بار تفتیش کی۔

تفتیش کاروں نے اندازہ لگایا کہ ہادی نے کنیڈین اور برطانوی خفیہ اداروں کو اہم معلومات فراہم نہیں کیں اور وہ افغانستان اور پاکستان میں اتحادی فوجیوں کے لیے ایک خطرہ تھا۔

دی گارڈین اور نیویارک ٹائمز میں ان تازہ انکشافات میں القاعدہ کے رہنما اوسامہ بن لادن کے افغانستان کے پہاڑی سلسلے تورہ بورہ سے امریکی افواج کے حصارہ سے بچ نکلنے کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔

اوبامہ انتظامیہ نے گزشتہ روز ان معلومات کی اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وکی لیکس نے غیر قانونی طور پر حاصل کی تھیں۔

پینٹاگون کے پریس سیکیرٹری جیف مورل نے کہا تھا کہ گوانتانامو کے حراستی مرکز کے قیدیوں سے تفتیش پر مشتمل ان فائلوں کو یا جنہیں ’ڈیٹینی اسسمنٹ بریف‘ جس کا مخفف نام ڈیب ہے اکثر کیسوں میں صدر اوباما کی طرف سے تشکیل دی گئی ٹاکس فورس کے فیصلوں یا سفارشات سے رد کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ غیر قانونی طور پر حاصل کیے گئے ڈیب اب ان قیدیوں کے بارے میں تازہ تجزیہ کے صحیح غماز ہو بھی سکتے ہیں اور نہیں بھی ہو سکتے۔

عدیل ہادی الجیری بن ہملیلی نے انیس سو چھیاسی میں گیارہ سال کی عمر میں الجیریہ کے شہر اورن میں اپنے باپ کے گھر کو خیر آبار کہہ کر افغانستان میں سویت یونین کے خلاف جہاد میں شامل جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ہادی نے امریکی تفتیش کاروں کو بگرام میں بتایا کہ وہ گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے بعد سے پشاور میں قالینوں کا کاروبار کرتے تھے۔

لیکن امریکیوں کو یہ علم تھا کہ ہادی برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی سکس اور کنیڈین خفیہ ایجنسی کے لیے مخبر کے طور پر بھی کام کرتے ہیں۔

ان دونوں خفیہ اداروں نے انھیں گیارہ ستمبر سنہ دو ہزار ایک کے حملوں سے قبل ’ہیومنٹ‘ یا ہیومن انٹیلیجنس کے تحت سنہ دو ہزار میں ان کے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والی مختلف تنظیموں کے ارکان سے تعلقات کے مدنظر بھرتی کیا تھا۔

ان فائلوں سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ہادی نے کونسی اہم معلومات برطانوی اور کنیڈین خفیہ اداروں سے چھپائیں یا فراہم نہیں کیں۔

لیکن ان فائلوں میں ایسی معلومات درج تھیں جن سے پاکستان میں دہشت گردی کی تین وارداتوں میں ان کے ملوث ہونے کے شواہد تھے۔

خالد شیخ محمد نے امریکی تفتیش کاروں کو بتایا کہ مارچ دو ہزار دو میں ہادی اسلام آباد کے سفارتی علاقے میں قائم ایک چرچ پر گرینڈ حملے میں ملوث تھے جس میں ایک امریکی سفارت کار کی بیٹی بھی ہلاک ہونے والے پانچ افراد میں شامل تھی۔

اسی سال دسمبر میں پنجاب کے دیہی علاقے میں ہونے والے ایک چرچ پر حملے میں بھی خالد شیخ محمد نے ہادی کا نام لیا۔ اس حملے میں تین لڑکیاں ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس حملے کے لیے خالد شیخ محمد کے مطابق ہادی کو تین لاکھ روپے دیئے گئے تھے۔

چرچ پر ہونے والے ان حملوں کا ذمہ دار لشکر جھنگوی کو ٹھہرایا گیا تھا۔

امریکی خفیہ رپورٹس کے مطابق مئی سنہ دو ہزار دو میں کراچی کے ہوٹل شیرٹن کے باہر ہونے والے دھماکے میں بھی ہادی کا ہاتھ تھا۔ اس حملے میں گیارہ فرانسیسی انجینئر اور دو پاکستانی ہلاک ہو گئے تھے۔

لیکن یہ امریکی رپورٹس مصدقہ نہیں ہیں۔ خالد شیخ محمد کو تھائی لینڈ میں سی آئی اے کی ایک ’بلیک سائٹ‘ پر ان کی گرفتاری کے پہلے مہینے میں ایک سو تراسی مرتبہ ’واٹر بورڈنگ‘ کے ؛ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زیادہ تر معلومات تشدد کے ذریعے ہی حاصل کی گئی ہے۔

ہادی کے بارے میں یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ دہشت گردوں کے زیر زمین نیٹ ورک کا کئی دہائیوں سے حصہ تھے جو افغانستان اور پاکستان سے شمالی افریقہ تک پھیلا ہوا تھا۔

ہادی نے انیس سو چھیاسی میں گیارہ سال کی عمر میں الجیریا کے شہر اورن میں اپنے باپ کے گھر کو خیر آبار کہہ کر افغانستان میں سویت یونین کے خلاف جہاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

قانونی مدد فراہم کرنے والی تنظیم ریپریو کے رکن کلائیو رچرڈ نے کہا کہ ان فائلوں سے امریکی فوج کے خفیہ معلومات اکھٹا کرنے والے بیروکریٹس کی نااہلی عیاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ اس انداز میں خفیہ معلومات اکھٹی کرتے ہیں اور جب آپ جانتے ہوئے بھی بہت سے معصوم لوگوں کو اٹھا لیتے ہیں اور ان پر تشدد کرتے ہیں تو آپ کو مصدقہ معلومات حاصل نہیں ہوتیں بلکہ آپ اپنے بہت سے دشمن بنا لیتے ہیں۔

PAT

Pakistan Army

Tabool ads will show in this div