بر طانیہ میں مسلمانوں کے خلاف پمفلٹ کی تقسیم

تحریر : ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور

پنش اے مسلم ڈے، یعنی مسلمان کو سزا دینے کا دن ، یہ پوسٹ گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ آپ میں سے اکثر نے اس پوسٹ کو پڑھا ہو گا۔ اس پوسٹ کے مطابق 3اپریل 2018 کو یہ دن منایا جا رہا ہے۔یہ پمفلٹ برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں تقسیم کئے گئے ہیں جس سے وہاں آباد مسلمانوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔

 کیا یہ وہاں کے مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی ایک سازش ہے ؟کیا یہ وہاں کے مسلمانوں کو ملک سے نکل جانے کی کوئی مہم کا حصہ ہے ؟کیا اس میں وہاں کی حکومت بھی شامل ہے؟ اگر شامل نہیں ہے تو پھر ایسے پمفلٹ کی تقسیم کا کیا جواز پیدا ہوتا ہے؟کیا وہاں اظہار رائےکایہ مطلب ہےکہ آپ کسی کی بھی عزت کواچھالیں،آپ کسی کے جذبات کو مجروع کریں،آپ کسی کو تکلیف پہنچائیں، میرے خیال میں وہاں کی حکومت کو فوری طور پر اس پر ایکشن لینے کی ضرورت ہے تا کہ کوئی ناگہانی صورت حال پیدا نہ ہو۔جن لوگوں کے بچے وہاں ہیں وہ پریشان حال ہیں۔ یوں تو وہاں آئے دن مسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہی رہتا ہے۔کبھی ان کو بسوں میں اور کبھی ان کو راہ چلتے تنگ کیا جاتا ہے،گالیاں دی جاتی ہیں اور تیزاب پھینکنے کے بھی واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

 یہی مسلمان برطانیہ اور یورپ کے ممالک کی ترقی میں اپنا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ چند انتہا پسند مسلمانوں کی سزا تمام مسلمانوں کو نہیں دی جا سکتی۔ برطانیہ اور یورپ میں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد رہائش پذیر ہے جو وہاں کئی نسلوں سے آباد ہیں۔بہت سےایسے مسلمان بھی ہیں جو اسی تہذیب کا حصہ بن گئے ہیں۔ وہاں رہائش پذیر مسلمان وہاں کے قانون کی پاسداری بھی کرتے ہیں۔ وہاں ووٹ بھی کاسٹ کرتے ہیں۔ وہاں گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں میں کام کر کے اپنا حصہ بھی ڈالتے ہیں، وہ کسی بھی طریقے سے وہاں کے شہریوں سے کم درجہ کے نہیں ہیں لیکن افسوس کہ ابھی بھی وہاں کچھ شرپسند لوگ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا محاسبہ کیا جائے اور انہیں فوری گرفتار کیا جائے تا کہ مسلمانوں کے خوف کو کم کیا جا سکے ۔ مختصراً میں اس پمفلٹ کی بات کرتا چلوں کہ اس میں لکھا گیا ہے کہ اگر آپ کسی مسلمان کو گالی دیں گے تو آپ کو 10 پوائنٹ ملیں گے اور اگر کسی مسلمان خاتون کا اسکارف اتاریں گے تو آپ کو 20 پوائنٹ ملیں گے ،اگر کسی مسلمان کے چہرے پر تیزاب ڈالیں گے تو آپ کو 50 پوائنٹ ملیں گیاور اگر کسی مسلمان کو اذیت دے کر زخمی کریں گے تو آپ کو 100پوائنٹ ملیں گے ،اگر مسلمان کو الیکٹرک شاک یا کسی راڈ وغیرہ سے ماریں گے تو آپ کو 250 پوائنٹ دیئے جائیں گے ، اگر آپ مسلمان کو بندوق،چھری یا کسی بھی اور طریقے سے قتل کریں گے تو آپ کو 500پوائنٹ دیئے جائیں گے، اور اگر آپ مسلمانوں کی عبادت گاہ مسجد کو آگ لگائیں گے یا کسی بم سے اڑا دیں گے تو آپ کو 1000 پوئنٹ ملے گا۔ ایک انتہائی شرمناک بات کہ اگر آپ خدا نخواستہ مکہ کو کوئی نقصان پہنچائیں گے تو آپ کو 2500 پوائنٹ دیئے جائیں گے۔ برطانیہ کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ وہاں مقیم مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنائے تاکہ وہاں کوئی نا خوشگوار واقعہ رونما نہ ہو برطانیہ میں مقیم مسلمان بھی اس دن خاص طور پر اپنی اور اپنی فیملی پر خصوصی طور پر نظر رکھیں۔ یہ سب اس پمفلٹ پر تحریر تھا جو میں نے اوپر بیان کیاہے یہ کسی ایسے گروہ کی سازش بھی ہو سکتی ہے جو مسلمانوں اور یورپی باشندوں کے درمیان نفرت کا بیج بونا چاہتے ہیں۔ یہ ایسے افراد یا ممالک کی سازش بھی ہو سکتی ہے جو مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ ہمیں سوچ و بچار سے کام لینا ہو گا۔ خدارا یہ مسلمانوں کے جذبات کو بھڑ کانے کی ایک سازش بھی ہو سکتی ہے۔ جسے ہم سب کو مل کر ناکام بنانا ہو گا ہمیں صبر و تحمل سے کام لینا ہو گا ۔خاص طور پر وہ مسلمان جو برطانیہ میں مقیم ہیں لیکن پھر بھی وہاں مقیم مسلمانوں کو اس دن اپنی جان و مال کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تما م مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت فرمائے۔

punish a muslim day

Tabool ads will show in this div