Technology

جدید دنیاکےآئن اسٹائن سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ انتقال کرگئے

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/03/GMF-STEPHEN-HAWKING-PKG-14-03.mp4"][/video]

لندن : عصر حاضر کے معروف برطانوی سائنسدان اور طبيعات کے پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ 76 سال کی عمر میں انتقال کرگئے، ان کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔

خاندانی ذرائع کے مطابق معروف برطانوی سائنسدان اور طبيعات کے پروفیسر اسٹیفن ہاکنگ 76 سال کی عمر میں انتقال کرگئے ہیں۔ اسٹیفن ہاکنگ جسمانی طور پر مفلوج ہونے کے باوجود ذہنی طور پر صحت مند تھے۔

ابتدائی زندگی

اسٹیفن ہاکنگ آٹھ جنوری 1942 کو برطانوی شہر آوکسفورڈ میں پیدا ہوئے۔ ہاکنگ کو جدید دنیا کا آئن اسٹائن کہا جاتا ہے، ہاکنگ کو آئن اسٹائن کے بعد دوسرا بڑا سائنسدان ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔

اعزازت اور خدمات:

اسٹیفن ہاکنگ کا زیادہ تر کام بلیک ہولز اور تھیوریٹیکل کاسمولوجی کے میدان میں ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ کو ٹائم مشین بنانے کے حوالے سے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ اسٹیفن ہاکنگ کو 2009 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں امریکا کے سب سے بڑے سول اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے اسٹیفن ہاکنگ کے 1966ء میں کیے گئے پی ایچ ڈی کا مقالہ جاری کیا گیا جس نے چند ہی دن میں مطالعے کا ریکارڈ توڑ دیا اور چند روز کے دوران اسے 20 لاکھ سے زائد مرتبہ پڑھا گیا اور 5 لاکھ سے زائد لوگوں نے اسے ڈاؤن لوڈ کیا۔ ان کو اس وقت شہرت ملی جب انہوں ںے موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے پیش گوئی کی کہ آنے والے سو سال دنیا کیلئے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں ۔ ان سالوں میں دنیا میں شہاب ثاقب بھی گریں گے اور یہاں کے انسانوں کیلئے زمین پر رہنا مشکل ہوجائے گا۔ انہوں ںے خبردار کیا تھا کہ مستقبل میں ایسے حالات ہوں گے کہ انسان کیلئے اس کرہ ارض پر جینا مشکل ہوجائے گا۔

کتاب:

اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب 'بریف ہسٹری آف ٹائم' ایک شہرہ آفاق کتاب ہے جسے ایک انقلابی حیثیت حاصل ہے۔

 

اسٹیفن ہاکنگ کی بیماری:

عمر کے آخری حصے میں سال 1963میں ہاکنگ موٹور نیورون نامی بیماری کا شکار ہونے کے باعث جسمانی طور پر مکمل مفلوج ہوگئے تھے، تاہم وہ ذہنی طور پر صحت مند تھے۔ اسٹیفن ہاکنگ کو پارکنسن کی بیماری کا بھی سامنا کرنا پڑا، جس سے ان کی قوت گویائی متاثر ہوئی اور وہ بولنے اور حرکت کرنے سے محروم ہوگئے، ان کے دوستوں نے ان کیلئے ایک کمپیوٹر تیار کیا تھا جو ان کے خیالات کو آواز کی صورت تبدیل کر کے ان کے دوسروں تک پہنچا دیتا تھا۔ اس وقت ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ زیادہ سے زیادہ چند ماہ تک زندہ رہ سکیں گی۔ اسٹیفن ہاکنگ پلکوں کی مدد سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے۔ اسٹیفن ہاکنگ کی وہیل چیئر اور چشمے سے منسلک مختلف اقسام کی مشینیں اور سینسر، جو ان کی آنکھ کے اشارے اور تھوڑی کی حرکت سے وہ سب کمپیوٹر کی اسکرین پر پیش کردیتے ہیں جو اسٹیفن ہاکنگ سوچ رہے ہوتے ہیں اور بولنا چاہتے ہیں۔

Stephen Hawking

Nobel Prize Winner

modern cosmology's brightest star

physicist

motor neurone disease

Tabool ads will show in this div