مختلف سربراہان مملکت کی اعلیٰ عدالتوں میں طلبی پر رپورٹ

اسٹاف رپورٹ
کراچی : وزیراعظم یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کے معاملے پر آج عدالت عظمٰی میں پیش ہونے جا رہے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی سربراہ مملکت  کو عدالت نے طلب کیا ہو۔ ایسا امریکا سمیت دنیا کے کئی سربراہان مملکت کے ساتھ ہوچکا ہے جنہیں عدالتوں اور جرمانوں کا سامنا کرنا پڑا۔

امریکا کی دوسو سالہ عدالتی تاریخ کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ اس دوران ہونے والے اہم فیصلے ہیں۔ ان میں انیس سو چوہتر کے امریکا بنام رچرڈ نکسن کیس کو خصوصی اہمیت حاصل ہے جس میں امریکی سپریم کورٹ نے واٹرگیٹ سکینڈل کی تحقیقات کے دوران صدرنکسن کے اختیارات محدود کرنے کے حق میں متفقہ فیصلہ دیا۔

اسی طرح بل کلنٹن پہلے امریکی صدر ہیں جن پر مونیکا لیونسکی سے تعلقات کے معاملے میں جھوٹ بولنے پر بارہ اپریل انیس سو نناوے کو توہین عدالت کا الزام لگا اور انہیں جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔

سات اکتوبر دوہزارنو کو اطالوی وزیراعظم برلسکونی کو قانونی تحفظ فراہم کرنے والے متنازع قانون کو ملک کی اعلیٰ عدالت نے مسترد کر دیا جس کے بعد برلسکونی گزشتہ سال وزیراعظم ہونے کے باجود عدالت میں پیش ہوئے جہاں انہوں نے رشوت دینے کے الزام میں قائم مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

اسی طرح انیس سو اکانوے میں اُس وقت کے برطانوی وزیرداخلہ  کینتھ بیکر کو بھی توہین عدالت کے نوٹس کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ 

لائبریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر کو بھی صدر ہونے کے باوجود دوہزارتین میں خصوصی عدالت نے سزا سنا دی اور عدالت نے انہیں صدارتی استثنیٰ کے استعمال سے بھی روک دیا۔


امریکا میں صدور اور نائب صدور سمیت 200 سے زائد مراعات یافتہ شخصیات ایسی ہیں۔ جنہیں مختلف الزامات کے تحت بھاری جرمانے، سزائیں، مواخذے، قید کی سزائیں بھگتنے سمیت اپنے عہدوں سے محروم ہونا پڑا۔ سماء/ایجنسیز

میں

کی

پر

famine

رپورٹ

اعلیٰ

thai

transplant

Tabool ads will show in this div