امریکی سینیٹرکی پھرپاکستان مخالف زہر فشانی،علیحدہ بلوچستان پر قرارداد پیش

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
واشنگٹن : امریکی ایوان نمائندگان میں بلوچستان کے حق میں خود ارادیت کی قرارداد پیش کی گئی جس پر ملک بھر سے شدید ردعمل سامنے آیا۔


اس قرارداد کو پیش کرنے والے ری پبلیکن رکن کانگریس ڈانا پاکستان کے کتنے بڑے خیر خواہ ہیں اس کا اندازہ ٹوئٹر پر ان کے پیغامات سے اچھی طرح لگایا جا سکتا ہے۔

ڈانا نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا ہے کہ امریکا پاکستان کو اربوں ڈالر امداد کے طور پر دے چکا ہے۔ 


یہ گینسٹر کبھی شکر گزار نہیں ہوتے، یہ اپنے کی لوگوں کا قتل کرتے ہیں اور انکی جومخالفت کرے اسے دھمکیاں دیتے ہیں جو قابل تحسین نہیں۔

ایک اور جگہ وہ امریکی امداد کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کرتے ہیں کہ امریکا نے پاکستان کو اربوں کی امداد دی۔ جب کہ پاکستان امریکیوں کے قتل عام کو چھپاتا ہے،


ان کو مسلح کرتا ہے جو امریکیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اب ان کے لئے کوئی امریکی امداد نہیں ہو گی۔

ایک اور جگہ کہتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ امریکا غیر ممنون پاکستان اور عراق کی آزادی کے لئے خون اور پیسے کی امداد کرنا بند کر دے۔


یہ دونوں ایک دوسرے کا قتل کرتے ہیں اور آزادی پر یقین نہیں رکھتے۔ صرف پاکستان کے داخلی معملات میں ہی نہیں بلکہ دوسرے ممالک کے معملات میں بھی دخل اندازی کا شوق رکھتے ہیں۔

امریکی ایوان میں بل پیش کرنے کے بعد وہ مشورہ دیتے ہیں کہ صرف کشمیر اور بلوچستان کے ہی نہیں بلکہ پورٹو ریکو کے عوام کو بھی اپنی حکومت کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے۔


ایک پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکا نے کئی غلطیاں کی ہیں اور انہیں سدھارنے کی ضرورت ہے۔


پاکستان کا چینی آمروں اور اسلامی شدت پسندوں سے بڑھتے تعلقات اسے امریکا سے دور اور ہمیں بھارت سے قریب کر رہا ہے۔ ایک پیغام میں کہتے ہیں مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ملا جنونی ہیں جو جوہری ہتھیاروں کو ہتھیانا چاہتے ہیں۔ سماء/ایجنسیز

پر

امریکی

washington

بلوچستان