سورج سے اٹھنے والے شمسی طوفان کب اور کیوں بنتے ہیں؟؟

Nov 30, -0001

اسٹاف رپورٹ
کراچی : سورج سے اٹھنے والے طاقتور طوفانوں کی شدت میں مسلسل اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شمسی طوفان دراصل سورج کی سطح پر موجود مخصوص حصوں، جنہیں 'سن سپاٹس' کہا جاتا ہے، کے پھٹنے سے پیدا ہوتے ہیں۔


یوں سورج کی سطح پر بڑے بڑے شعلے اٹھتے ہیں۔ اس دوران برقی طور پر چارج شدہ ذرات خلا میں پھیل جاتے ہیں۔


سائنسدانوں کے مطابق یہ چارجڈ پارٹیکل جدید الیکٹرانک آلات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ خلائی طوفان نئی بات نہیں ہیں۔ پہلا بڑا شمسی طوفان اٹھارہ سو انسٹھ میں برطانوی خلا نورد رچرڈ کیرنگٹن نے ریکارڈ کیا تھا۔

انیس سو بہتّر میں ایک بڑے شمسی طوفان نے امریکی ریاست کے مواصلاتی نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا تھا۔


امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق انیس سو نواسی میں اس نوعیت کے ایک طوفان نے کینیڈا کے کیوبیک صوبے میں بجلی کے نظام کو متاثر کیا تھا۔

سائنسدانوں کے مطابق سورج کی اس سرگرمی میں اضافہ عمومی طور پر ہر گیارہ سال بعد ہوتا ہے۔


تاہم اس مرتبہ لمبے عرصے کے بعد اس سرگرمی میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے مطابق سال 2013ء میں ان شمسی طوفانوں کی شدت اپنی انتہا پر ہوگی۔


انہوں نے مشورہ دیا کہ مختلف ممالک کو ان شمسی طوفانوں کے انتہائی تباہ کن خطرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

سائنسدانوں کے مطابق بجلی کی ترسیل کے لیے بنائے گئے گرڈ اسٹیشنز، نیویگیشن سسٹم اور فضائی سفر اور رابطوں کے لئے ریڈیو کمیونیکیشن سسٹم اس شمسی طوفان سے متاثر ہوسکتے ہیں۔


سال 2008ء میں امریکا کی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایک بڑا شمسی طوفان کا ترینا نامی سمندری طوفان سے 20 گنا زیادہ تباہی لاسکتا ہے۔ سماء/ایجنسیز


ویڈیو دیکھنے کیلئے نیچے دیئے گئے ویڈیو کے لنک پر کلک کریں

اور

سے

records

infrastructure

Tabool ads will show in this div