کالمز / بلاگ

دل میں خوف سا کیوں ہے بھائی؟

 

اک خوف سا درختوں پہ طاری تھا رات بھر پتے لرز رہے تھے ہوا کے بغیر بھی

بات ہے عجیب سی لیکن کبھی کبھی ایسی باتوں سے بھی خوف محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے ہو جائیں حیران ۔ کوئی چھپکلیوں سے ڈرتا ہے تو کسی کی کاکروچ اور چوہوں سے جان جاتی ہے ۔ خوف اور ڈر کے کئی روپ ہیں ۔ کئی چیزیں کسی کیلئے فن تو کسی کیلئے فیئر ۔ غباروں میں بچوں کی جان ہوتی ہے مگر کئی افراد بھی ہوتے ہیں جو ان میں ہوا بھرنے کا عمل نہیں دیکھ سکتے ۔ انہیں یہی خوف دامن گیر ہوتا ہے کہ غبارہ ابھی پھٹا کہ پھٹا ۔

گرمی میں سکون پہنچانے کا سستا ذریعہ پنکھے ہیں ۔ کئی افراد کو یہ خوف ہوتا ہے کہ چھت پر لگا پنکھا ابھی گرا ۔ کسی کو موٹرسائیکل کی سواری سے خوف آیا ہے تو جہاز کی سواری سے ڈرنے والے بھی بہت ہیں ۔ کسی کیلئے بلند و بالا پہاڑوں پر چڑھنا کوئی مسئلہ نہیں تو کسی کیلئے تھوڑی سی چڑھائی کے ٹو کا پہاڑ بن جاتی ہے ۔

آپ کتنے بھی جتن کرلیں، دھوپ میں ایک چیز کا ساتھ ضرور ہوتا ہے اور وہ ہے سایہ ۔ اگر آپ کو اپنے سائے سے خوف ہے تو یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے ۔ ہے اشارہ اس بات کا کہ آپ تنہائی پسند ہیں، کئی افراد ایسے ہیں جنہیں اکثر زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

کوئی بلیوں کا دیوانہ تو کسی کو کالی بلی کے گزرنے کا خوف، کسی کو اندھیرے کا خوف تو کوئی روشنی کا دیوانہ ۔ کوئی سیڑھیاں چڑھنے سے تنگ تو کوئی لفٹ میں سواری کرنے سے خوفزدہ امریکی صحافی مائیکل وولف کی کتاب "فائر اینڈ فیوری" میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سپر پاور کی صدارت کا تاج سجانے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس جانے سے خوفزدہ تھے ۔ ان کے اعصابوں پر یہ خوف بھی سوار ہے کہ کہیں انہیں زہر نہ دے دیا جائے ۔

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے اک دن نکل نہ جاؤں ذرا اپنے آپ سے

برطانوی فلسفی فرانسس بیکن نے لکھا ''خوف سے زیادہ خوفناک چیز کوئی نہیں" ۔ خوف پا قابو پانا بظاہر آسان لگتا ہے لیکن جب یہ بلا اچانک حملہ آور ہوتی ہے تو سب دلائل حربے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ڈاکٹر سے مشورہ لینا تو دور کی بات ۔ گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا لوگ اپنی اس کیفیت کا ذکر بھی کسی سے نہیں کرتے ۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں انسانوں میں خوف کی موجودگی درحقیقت ذہنی بیماری ہوتی ہے جسے خوف واضطراب، ذہنی خلل یا بے چینی کا نام دیا گیا ہے ۔ جرمن سوسائٹی فار سائیکیاٹری اینڈ سائیکو تھیراپی کے ماہرین نے مزید ریسرچ کی ہے ۔ بتایا کہ دور حاضر میں شاید ہی کوئی دوسرا مرض اتنی تیزی سے پھیل رہا ہے جتنا کہ ذہنی خلل یا نقص ۔ دماغی نقص ان چار اہم ترین وجوہات میں شامل ہے جن کے سبب لوگ بہت سے کاموں کے لیے غیر موزوں یا نااہل قرار دے دیے جاتے ہیں ۔

ماہرین نفسیات کہتے ہیں مثبت سوچ کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے ۔ یہ کامیابیوں کی منزل تک پہنچاتی ہے تو خوف اور گھبراہٹ سے دور کرتی ہے ۔

کئی اہم شخصیات بھی خوف کی بیماری کا شکار دکھائی دیتے ہیں ۔ امریکی اداکارہ جینفر آنسٹن کو فضائی سفر خوفزدہ کر دیتا تو اداکار بلی باب قدیم فرنیچر سے دور بھاگتے ہیں ۔ خواتین کی یہ ہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے حسن کی تعریف کی جائے ۔ چاہے وہ آئینہ ہی کیوں نہ ہو ۔ لیکن امریکی اداکارہ پامیلا اینڈریسن شیشہ دیکھنے سے خوفزدہ ہوتی ہیں ۔ تتلیوں سے باغوں کی رونق ہوتی ہے ۔ نکول کڈمین اس خوبصورت اور رنگ برنگی مخلوق سے ڈرتی ہیں ۔ گرج چمک سے پاپ سنگر میڈونا کا خون خشک ہو جاتا ہے ۔

خوف کی چند قسمیں تو آپ نے دیکھ لیں ۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن اگر ہم اپنی زندگیوں میں خوف خدا شامل کرلیں تو تمام خوف اڑن چھو ہو جائیں ۔

خُدا کے خوف سے جو دل لرزتے رہتے ہیں انہیں کبھی بھی زمانے سے ڈر نہیں آیا

 

psychology

Tabool ads will show in this div