پڑھی لکھی خواتین سیاست اور قانون سازی میں کردار ادا کریں

اسلام آباد / کراچی : سینیٹ کی جنرل سیٹ کیلئے نامزد واحد خاتون امیدوار کنول شازوب نے ٹکٹ حاصل کرکے اس بات کو ممکن بنا دیا الیکشن لڑنا صرف پیسے والے یا جدی پشتی سیاست دانوں کی ہی میراث نہیں، بلکہ مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کے افراد بھی اس ایوان کی شان بڑھا سکتے ہیں۔

سما ڈاٹ کام کے ساتھ خصوصی نشست میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی نوجوان اور جیالی ٹائگریس آنے والے دنوں کیلئے خاصی پر امید نظر آئیں۔ سما کی ٹیم کی جانب سے نوجوان پی ٹی ٓائی رہنما کے سامنے چند سوالات رکھے گئے، جس کا انہوں نے خوبصورتی سے جواب دیا۔ خوبصورت نقش و نگار کی مالک کنول شازوب صرف نظریاتی یا بیان کی خوبصورتی تک محدود نہیں بلکہ خاتون رہنما کا تعلیمی سفر بھی شاندار کارکردگیوں سے بھرا ہے۔

دو بار فیلو شپ حاصل کرنے والی 36 سالہ کنول شازوب کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے،جنہیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد کی جنرل نشست سے امیدوار نامزد کیا ہے۔ 1997 میں کنول شوزاب صرف 15 سال کی عمر میں پی ٹی آئی کی رکن بنیں اور آج وہ شمالی پنجاب میں خواتین ونگ کی صدر ہیں۔ سیاسی سلسلہ صرف یہں ختم نہیں ہوتا، بلکہ سفر سیاست کا آغاز یہیں سے شروع ہوا۔اپنی زندگی کے ابتدائی دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کنول شازوب نے بتایا کہ " میرا تعلق جنوبی پنجاب کے علاقے احمد پور شرقیہ سے ہے، ہم ورائچ ہیں، والد کا تعلق رہیں سے ہے، والد آرمی میں بحیثیت کرنل ریٹائر ہوئے"۔

سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے کنول نے بتایا کہ "میں نے جب بی ایس سی کیا تو اس کے فوراً بعد ہی میری شادی ہوگئی تھی۔ پھر اس دوران لاہور ، کراچی آنا جانا بھی لگا رہا، وہاں کچھ عرصہ رہائش بھی رہی۔ پڑھائی کا شروع ہی سے شوق تھا اور اس کیلئے گھر والوں نے بھی ہمشیہ ساتھ دیا۔ گریجویشن میتھ میں کیا۔ جس کے بعد شادی ہوگئی، تاہم شوہر کے بھرپور تعاون کی وجہ سے شادی کے دس سال بعد دوبارہ پڑھائی کا ناتا جوڑا اور انگریزی میں ایم اے کیا، تاہم یہ سلسلہ یہی نہیں رکا۔ ایم اے کے بعد میں نے ایم فل کی جانب اڑان بھری اور پبلک پالیسی میں ایم فل کیا۔ اس دوران میرے سپروائزر ڈاکٹر عاصم ساجد اختر تھے، جو عوامی ورکر پارٹی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ تعلیمی شعبے میں ، میں نے ہمشیہ امتیازی نمبروں سے امتحان پاس کیا۔ اب انشااللہ پی ایچ ڈی کی جانب سفر کا آغاز ہے"۔

اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے دھرنے کا ذکر کرتے ہوئے کنول کا کہنا تھا کہ " مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ایم فل کے دنوں میں پی ٹی آئی کا اسلام آباد دھرنا جاری تھا اور میں اس دوران حاملہ بھی تھی، تاہم سیاست کو مقدس فریضہ سمجھتے ہوئے میں نے اپنی طبعیت کی پروا کیے بغیر بھرپور طریقے سے شرکت کی۔ دھرنے کی وجہ سے مجھے اپنا سسمٹر ڈراپ کرنا پڑا، لیکن دھرنے کے بعد یہ سلسلہ دوبارہ شروع کیا"۔

پی ٹی آئی میں شمولیت سے متعلق کنول شازوب کا کہنا تھا کہ "دیکھا جائے تو سال 1987 میں، میں نے پی ٹی آئی بحیثیت ایک سپورٹر جوائن کی، تاہم عملی سیاست کا آغاز سال 2007 میں کیا، اس سے قبل پارٹی کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا، ہمشیہ خان صاحب کی پارٹی اور منشور کا ساتھ دیا، پارٹی کو جہاں جہاں میری ضرورت پڑی میں موجود رہی۔ سال 2007 میں آئی ایس ایف میں شمولیت اختیار کی اور پھر ایسے آگے بڑھی کہ پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھا، سال 2013 میں، میں نے پارٹی میں بھرپور طریقے سے شمولیت اختیارکر کے باقاعدہ عملی سیاست میں قدم رکھا، سال 2013 کے دھرنے سے قبل بھی بہت سے عملی کام کیے، تاہم ایک پارٹی رہنما اور ورکر کی طرح اب کام کی نوعیت مختلف ہوگئی ہے"۔

کنول شازوب کا مزید کہنا تھا کہ "اسلام آباد میں ہونے والے پی ٹی آئی کے تاریخ ساز دھرنے میں اس وقت میں حاملہ تھی، مگر اس حالت کے باوجود میں ہر روز خان صاحب اور پارٹی کا ساتھ دینے دھرنے میں جاتی۔ دھرنے کے بعد میرے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی تو میرے بیٹے کو خان صاحب نے ہی ہماری خواہش پر گھٹی پلائی اور یہ وہ پہلا اور واحد بچہ ہے جیسے خان صاحب نے گھٹی پلائی ہے"۔ باتوں کے سلسلے کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کنول نے بتایا کہ "جب عمران خان میرے گھر آئے تو اس وقت ریحام خان بھی ان کے ساتھ تھیں۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ یہ اصل معنوں میں ٹائگریس ہے، جس نے ان حالات میں بھی پارٹی اور منشور کا ساتھ نہیں چھوڑا ، جو سردی ہو یا گرمی۔ بادل ہو یا برسات ہر حال میں روز دھرنے میں شرکت کرتی،پارٹی سے میری یہ ہی بے لوث محبت اور خدمت تھی ، کہ جس کے اعتراف میں مجھے سینیٹ ٹکٹ کے قابل سمجھا گیا، عمران خان نے ایک بار میرے بارے میں کہا تھا کہ یہ وہ ورکر ہے جو مرنا بھی جانتی ہے اور مارنا ، یہ جان لینے والی بھی اور جان دینے والی بھی"۔

ایک سوال کے جواب میں جلسوں میں ٹھاٹے مارتا عوام کا سمندر دیکھ کر کیسا محسوس ہوتا ہے، جس پر کنول شوزیب کا کہنا تھا کہ "میں آج تک کسی بھی جلسے میں اسٹیج پر نہیں بیٹھی۔ مجھے اسٹیج پر بیٹھا پسند نہیں، بلکہ ہمیشہ اسٹیج سے نیچے عوام کے ساتھ بیٹھ کر جلسوں میں بھرپور شرکت کی ہے، میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ جب تک آپ لوگوں کے ساتھ ملکر سیاست نہ کریں تو سیاست حقیقی معنوں میں نہیں ہوسکتی، میں نے خواتین ونگ کے صدر کی حیثیت سے بھی ذمہ داریاں نبھائیں، میڈیا کو آرڈینیٹر کے فرائض بھی انجام دیئے اور بڑے پیمانے پر لوگوں کی ٹریننگ سے متعلق ورک شاپز وغیرہ کا بھی حصہ رہی اور اب سابق سینیٹ کے ٹکٹ ہولڈر کا اضافہ بھی میرے پورٹ فولیو پر ایک فخر کا اضافہ ی ہے کہ میں اس سال ہونے والے سینیٹ انتخابات کیلئے جرنل سیٹ پر نامزد ہونے والی واحد خاتون تھیں"۔

خواتین کے سیاست اور پی ٹی آئی میں آنے سے متعلق سوال کے جواب میں کنول شوزیب کا کہنا تھا کہ " اتنی چھوٹی عمر سے ہی سیاست سے وابستگی پر کبھی حوصلہ شکنی نہیں کی گئی۔ میرے والد حالانکہ آرمی میں تھے اور میں پہلے آرمی میں جانا چاہتی تھی مگر اس زمانے میں آرمی میں خواتین میڈیکل کے علاوہ کسی اور شعبہ میں نہیں جاسکتی تھی، جس کے بعد میں نے سیاست میں اپنی دلچسپی بڑھائی اور اسی کو زندگی میں آگے لے کر چلی، میرے سیاست میں آںے پر دیگر خواتین کو بھی حوصلہ ہوا ہے کہ صرف پیسے والے ہی نہیں دیگر لوگ بھی سیاست میں آسکتے ہیں۔ میری تربیت اور تعلیم بھی اسی فلسفے کے گرد گھومتی رہی ہے کہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ سیاست میں آنا چاہیئے، وہ اس ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں، پالیسی سازی میں ان کا کردار اہم ہے اور سینیٹ جیسے ایوان میں جو دراصل ایک پالیسی ساز ادارہ وہاں مڈل کلاس ، اپر مڈل کلاس سے خواتین کو آنا چاہیئے، پارٹی کی جانب سے جب مجھے پی ٹی آئی کے سینیٹ کا ٹکٹ ملا تو خود مجھے خواتین کی جانب سے حوصلہ افزائی کے پیغامات آئے کہ تم نے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ خواتین کا کہنا تھا کہ جیسے تمہیں موقع ملا اگر ہم بھی آگے بڑھے اور کام کریں تو ہم بھی اس ایوان کا حصہ بن سکتے ہیں، صرف پیسے والے افراد ہی الیکشن نہیں لڑ سکتے ، بلکہ عام انسان بھی اسمبلی یا سینیٹ میں جانے کا سوچ سکتا ہے"۔

سینیٹ انتخاب سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کنول کا کہنا تھا کہ " بے شک الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داریاں شفاف طریقے سے انجام دیں، تاہم جو سیاسی جماعتوں کے درمیان ہوا اور جو ہارس ٹریڈنگ کا بازار گرم رہا یہ نہیں ہونا چاہیئے تھا، ہم نے سر عام ہارس ٹریڈنگ کرکے عوام کو اور دنیا کو کیا پیغام دیا"، سینیٹ میں چناؤ کے طریقے سے اختلاف کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ " سینیٹ میں چناؤ کا عمل تبدیل ہونا چاہیئے، اس الیکشن سے پیسہ نکال دیا جائے، تاکہ اچھے اور پڑھے لکھے اس اعلیٰ ترین ایوان میں آکر اپنی حکمت اور علم سے لوگوں کیلئے قانون سازی میں اہم کردار ادا کرسکیں، ہارس ٹریڈنگ روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کوٹا سسٹم نافذ کیا جائے اور اسے کے بل بوتے پر الیکشنز کرائیں جائیں، اس اعلیٰ ترین ایوان میں ٓانے کے وہی لوگ حقدار ہیں، جو حقیقی معنوں میں سوچ بوجھ رکھتے ہوں، جنہوں عوام کے مسائل کا عمل ہو اور اس کا ادراک کرنا جانتے ہوں اور انہیں عوام کے مسائل حل کرنے میں بھی دلچپسی ہوں، آپ ایسے سینیٹرز سے یا ایسے ایوان بالا سے کیا توقع کرتے ہیں، جہاں کے عوام اسپتالوں کے باہر سسک سسک کر جان دے دیں اور وہ اس ملک میں ایک گولی تک خرید کر نہ کھاتے ہوں، وہ زندگی تو باہر گزاریں اور ووٹ مانگیں پاکستان کے نام پر، جن سینیٹرز کی زندگی کا دارومدار ہی باہر کی چیزوں، سے وابستہ ہو، وہ بھلا عام آدمی یا عوام کے مسائل پر کیوں کر بات کرے گا، جس کا کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا ملک سے باہر ہوگا وہ لوگوں کے مسائل حل کرنے میں کیوں کر دلچسپی لے گا، انہیں کیوں کر اس بات کا علم ہوگا کہ یہاں عوام ایک ایک میڈیکل ٹیسٹ اور دوائی کیلئے کیسے ذلیل و خوار ہوتے ہیں"۔

سینیٹ انتخاب پر بات کرتے ہوئے کنول نے اس بات کا بھی دبے لفظوں میں افسوس کیا کہ پارٹی رہنما ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔

آخر میں کنول کا کہنا تھا کہ "سینیٹ ایک لاٗ میکنگ باڈی ہے، جب تک یہ قانون ساز ادارہ حقیقی معنوں میں قانون سازی کیلئے سنجیدہ نہیں ہوگا، آپ ملک میں جہالت، بدامنی، زیادتی کے واقعات، تشدد، صحت اور تعلیم سے متعلق کوئی ٹھوس اقدام نہیں دیکھ سکیں گے، وقت کی ضرورت ہے کہ اس اعلیٰ ترین عوام میں ایسے لوگوں کو لایا جائے جو اصل لفظوں میں قانون سازی کرسکیں"۔

ECP

PTI

ELECTION

IMRAN KHAN

POLLING

kanwal Shauzab

young leader

senate ticket

general seat

Tabool ads will show in this div