انسانی فطرت اور اصلاح کا عمل

تحریر: احسن وارثی

"جینیٹک عادتوں کو تبدیل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن ناممکن نہیں ہوتا۔ بعض لوگوں کو مسلسل تعلیم اور تبلیغ کے زریعے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جو لوگ مثبت تعلیم اور تربیت کے پہلوؤں کو جذب کرنے کی زرہ برابر کوشش نہیں کرتے، اُن پر مثبت تعلیم و تربیت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

انسان کو خود احتسابی اور اصلاح کے عمل سے گزرتے رہنا چاہیے۔ دنیا میں کامیاب اور بڑا انسان صرف وہی ہوتا ہے اور وہی ہوسکتا ہے جو اپنے اندر اصلاح کرنے کی طاقت اور صلاحیت رکھتا ہو۔ جو لوگ اپنے اندر اصلاح کی گنجائش رکھتے ہیں، سیکھنے کا عمل جاری رکھتے ہیں اور خود احتسابی کے عمل سے خود کو گزارتے رہتے ہیں ایسے لوگ جب عروج پر پہنچتے ہیں تو انہیں رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا ہے۔ جس نے خود کو مکمل سمجھ لیا اس کی ترقی کی کہانی ختم ہوگئی۔ ہر انسان کو اپنے اندر اپنی اصلاح کے لیے گنجائش رکھنی چاہیے کیونکہ جس میں اپنی اصلاح کی صلاحیت اور قبولیت ہوتی ہے وہی ترقی کرتا ہےاور بڑا اور کامیاب انسان بن سکتا ہے۔"

( بانی ایم کیوایم کی فکری نشست انسانی فطرت اور اصلاح کا عمل سے اقتباس)

رواں سال ماہ جنوری کے آخر میں ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب کی جانب سے زینب قتل کیس میں گرفتار مجرم عمران کے 37 بینک اکاونٹس ہونے اور بین الاقوامی گروہ سے تعلق ہونے کا الزام لگایاگیا۔ اگلے روز جب چیف جسٹس صاحب کی جانب سے اس حوالے وضاحت اور ثبوت  مانگے گئے  تو اُنکی جانب سے تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔ اسٹیٹ بینک نے بھی اگلے روز ہی تحقیقات کرکے واضح کردیا کہ مجرم عمران کا کوئی بینک اکاونٹ نہیں ہے۔  جس کے بعد ڈاکٹر صاحب اپنی خبر غلط ثابت ہونے کے باوجود معافی مانگنے کے بجائے اپنی بات پر ڈٹے رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے رویے پر دیگر صحافیوں کی جانب  سے اخلاقیات کا درس دیا جانے لگا کہ کوئی بات نہیں اگر کسی صحافی کی خبر غلط ثابت ہوجائے تو غلطی کا اعتراف کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کی جانب سے نہ ہی معافی مانگی گئی اور نہ ہی کسی پلیٹ فارم پر ثبوت فراہم کیے گئے۔  ڈاکٹر صاحب نے اپنے الزامات کی بنیاد پر جسطرح کا رویہ اپنایا وہ ہمارے معاشرے کی درست عکاسی کرتا ہے۔ یہاں ڈاکٹر صاحب کے حوالے سے مثال دینے کا مقصد اُنکی تضحیک یا تنقید کا نشانہ بنانا ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ زکر کرنے کا مقصد صرف قارئین کو سمجھنے میں مدد دینا ہے۔ کیونکہ  اس طرح کا عمل کہیں نہ کہیں جانے انجانے میں ہر انسان کی جانب سے کیا جاتاہے۔ اکثر بیشتر ہم جانے انجانے میں سامنے والے پر بنا سوچے سمجھے الزامات کی بارش کردیتے ہیں اور جب الزامات کاثبوت مانگا جاتا ہے توہمارے پاس آئیں بائیں شائیں کے اعلاوہ کچھ نہیں ہوتا۔۔ انسان کو ہمیشہ اپنے اندر اصلاح کی گنجائش رکھنا چاہیے اورسیکھنے کے عمل کو ہمیشہ جاری رکھنا چاہیے۔ اگر کہیں آپ کا اندازہ ، اطلاع یا خبر غلط ثابت ہوجائے تو اپنی غلطی تسلیم کرکے آئندہ ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے ایسے عمل سے گریزکرنا چاہیے۔ ناکہ غلطی پر ہونے کے باوجود اپنی غلطی پر ڈٹے رہیں۔  ہمیں ہمیشہ اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی شخص مکمل نہیں ہوتا۔ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خامی ہوتی ہے۔  جہاں انسان اپنے آپ کو مکمل درست سمجھنے لگتا ہے وہاں اسے دوسرے انسان کی درست بات بھی غلط لگنے لگتی ہے۔ اس طرح کے عمل سے کسی دوسرے کا کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ  انسان اپنے لیے سیکھنے کے دروازے بند کردیتا ہے۔ ایسے عمل کو تواتر کے ساتھ  دہرانے کے باعث انسان میں اصلاح کی گنجائش بالکل ختم ہوجاتی ہے۔

کسی بھی انسان کی جانب سے اپنی غلطی کا اعتراف ، اپنی  اصلاح کرنا  ایک بڑے پن کا مظاہرہ سمجھا جاتا ہے۔ جس کے باعث اسکی غلطی کو بعض اوقات نظر انداز بھی کردیا جاتا ہے۔ جو انسان غلطی پر ہونے کے باوجود اپنی اصلاح نہیں کرتا وہ گمراہی کے دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔ بےشک انسان خطا کا پتلا ہے۔ ہر انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں۔ لیکن جہاں اپنی اصلاح کے بجائے ایک غلطی چھپانے کے لیے دوسری غلطی یا جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے وہاں زلت اور رسوائی ہی مقدر ٹہرتی ہے۔

 

zainab murder case

Shahid Masood

Tabool ads will show in this div