مشال قتل کیس: اے ٹی سی کا فیصلہ معطل، 25 ملزمان رہا

ایبٹ آباد : پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ نے مشال قتل کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے 3، 3 سال قید کی سزا پانیوالے 25 ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس عتیق شاہ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مشال خان قتل کیس کی سماعت کی، وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئی عدالت عالیہ نے انسداد دہشت گردی عدالت سے 3، 3 سال قید کی سزا پانے والے 25 ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کے احکامات جاری کردیئے اور اے ٹی سی کا فیصلہ معطل کردیا۔

عدالت نے سزا یافتہ ملزمان کو 15 یوم میں اپیل کا اختیار دیا تھا، ملزمان کو دی جانے والی کم سزا کیخلاف مشال کے والد نے بھی عدالت عالیہ میں رٹ دائر کر رکھی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ سے رہائی پانیوالے ملزمان میں واجد ملنگ، ذیشان، حنیف، نصر ﷲ، امداد احمد، خیال سید، حسن اختر، انس، ملک توقیر، عامر، سدیس، حمزہ، عارف، شہاب علی شاہ، اشرف علی، عمران ولد ہاشم علی، ولید، علی خان، شعیب، نواب علی، سید عباس، صاحبزادہ محمد شعیب، فرحان لائق، وجاہت ﷲ اور ریاض شامل ہیں۔

پولیس رپورٹ کے مطابق مردان یونیورسٹی میں قتل ہونیوالے طالب علم مشال خان کو یونیورسٹی کے کمرہ نمبر 105 سے نکال کر پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں پستول سے فائرنگ کرکے بے دردی سے قتل کیا گیا تھا، جب پولیس افسران اور نفری ہاسٹل ون میں پہنچی تو مشال خان جاں بحق ہوچکا تھا۔ اے پی پی

ATC

Mardan University

Mashal Khan murder case

Tabool ads will show in this div