بھارتی انتخابات میں مورثی سیاست کا راج ہوگا یا انتہاپسند ہندو؟

اسٹاف رپورٹ
نئی دہلی : ایشیا کی ریاستوں میں ہونے والے عام انتخابات اکثر موروثی سیاست کی نظر ہوتے ہیں، تاہم بھارت میں اس سال ہونے والے انتخابات میں عوام نے اپنوں کو نوازنے اور مووثی سیاست کی کھل کر مخالفت کردی۔ بھارتی عوام کا کہنا ہے کہ سیاست دانوں کے گھر والوں اور خاندان والوں کو انتخابی ٹکٹ نہیں ملنا چاہیئے۔

پاکستان کی طرح بھارت میں بھی حکمرانوں اور سیاست دانوں کی سرکاری مراعات اور آسائش سے عزیز و اقارب ہر جگہ مزے لوٹتے نظر آتے ہیں، دوسری جانب انتخابی مہم کے دوران جماعتوں کے ایک دوسرے پر برابر سے الزامات کی بوچھاڑ بھی جاری ہے۔ بھارت کی سرکاری جماعت کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر'بھائی کو بھائی سے لڑانے' کی سیاست کا الزام عائد کردیا، دوسری طرف یوگا گرورام دیونے اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کردی۔

بھارت میں عام انتخابات کی مہم آخری مرحلہ میں ہے، کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے ناگپورمیں انتخابی ریلی سے خطاب میں کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بھائی سے بھائی کو لڑانے کی سیاست کررہی ہے۔ بھارت تقسیم کی اس سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا، بی جے پی اقتدار کے حصول کیلئے حکومت کی کارکردگی کے بارے میں عوام کو گمراہ کررہی ہے۔

دوسری طرف نئی دلی میں ہندوؤں کے مذہبی رہنما اوریوگا گرورام دیو نے ایک تقریب کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی حمایت کا اعلان کردیا، رام دیو کا کہنا تھا کہ بی جے پی بھارت میں افراط زر اور بیروزگاری کا خاتمہ کردے گی۔ سماء

vote

Red Zone

christians

Tabool ads will show in this div