بندوق کے ذریعے شریعت کا نفاذ مسترد، مذہبی اسکالرز کا پرامن جدوجہد پر زور

ویب ڈیسک


اسلام آباد : مذہبی اسکالرز نے بندوق کے ذریعے اسلامی نظام کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے شریعت کیلئے پر امن جدوجہد پر زور دیا ہے، جاوید احمد غامدی کہتے ہیں کہ کسی گروہ کو یہ حق نہیں کہ بندوق کی نوک پر اپنی مرضی کا نظام نافذ کرے، قاری حنیف جالندھری کا کہنا ہے کہ آئین اور شریعت کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا گیا، پاکستان کی بقاء اور استحکام کیلئے آئین اور اسلامی نظام دونوں ضروری ہیں، مفتی محمد نعیم نے کہا ہے کہ آئین میں اسلامی تعلیمات موجود ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ انہیں نافذ کیا گیا یا نہیں؟، حکومت کو چاہئے کہ سودی نظام اور بے حیائی کے خاتمے کیلئے اقدامات کرے، سلمان اکرم راجہ نے رائے دی کہ شریعت کے نفاذ کیلئے مختلف طبقات کی رائے کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کی جائے۔


سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی نے کہا کہ پاکستان میں کروڑوں مسلمان بستے ہیں، یہاں ایک اسلامی نظام بنایا گیا، جو کسی ایک فرقے اور گروہ کی نمائندگی نہیں کرتا، اس کی بنیاد جمہوریت ہے، کسی کو یہ حق نہیں کہ ایک گروہ بنا کر بندوق کے ذریعے اپنی پسند کا نظام نافذ کرنے پر مجبور کرے۔


انہوں نے کہا کہ جو باتیں دین سے متصادم ہوتی ہیں ان پر لوگوں کو سمجھانے اور اسلامی تعلیمات سے متعلق آگاہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، میرے نزدیک سود سے متعلق شریعت بینچ کے بجائے پارلیمنٹ کو غور کرنا چاہئے تھا، شریعت کو مطالبہ بنا کر لوگوں پر تھوپنے کے بجائے اپنے اداروں میں معاملات زیر بحث لائے جائیں۔


قاری محمد حنیف جالندھری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور شریعت کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کردیا گیا، ہمارے ملک کا دستور تمام مکاتب فکر کے جید علماء اور اہل دانش نے تشکیل دیا، پاکستان کے دستور کا تقاضا قرآن و سنت کا نفاذ ہے، پاکستان کی بقاء اور استحکام کیلئے آئین اور اسلامی نظام دونوں ضروری ہیں۔


وہ کہتے ہیں کہ آئین پاکستان کا تقاضہ اور اس ملک کی بنیاد اسلام ہے، 2010ء میں جید علماء نے 3 روزہ اجلاس کے بعد مطالبہ کیا تھا کہ ملک میں اسلامی نظام نافذ کیا جائے، کسی کو بھی بندوق کی نوک پر اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ نہیں کرنا چاہئے، اسلامی نظام کا نفاذ پر امن طریقے سے ہونا چاہئے، ہمارے مکتبہ فکر کے تمام علماء کا اجماع ہے کہ پاکستان کے دستور کا تقاضا اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔


ان کا کہنا ہے کہ طالبان بھی اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں، امید ہے انہیں دستوری اور پر امن راستہ اختیار کرنے پر قائل کرلیا جائے گا، ابھی تک طالبان کے  باضابطہ مطالبات سامنے نہیں آئے، مفروضوں پر بات نہیں کرنی چاہئے، قوم کے اندر مایوسی پیدا نہ کی جائے اور مذاکرات کو متنازع نہ بنایا جائے، طالبان نے شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جو پاکستان کے عوام کا بھی مطالبہ ہے۔


قاری حنیف نے مزید کہا کہ آئین میں کہا گیا ہے کہ ملک میں قرآن و سنت کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو پارلیمنٹ میں نہ پیش کیا گیا اور نہ زیر بحث لایا گیا۔


انہوں نے بتایا کہ مفتی منیب الرحمان اور جید علماء کے ساتھ مل کر خودکش حملوں کو حرام قرار دیا، ہمارے فتوؤں کو میڈیا پر نمایاں طور پر پیش نہیں کیا جاتا۔


سودی نظام سے متعلق ان کا کہنا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ اور شرعی عدالت کے فیصلوں کیخلاف جانے کے بجائے اپنی مشکلوں سے آگاہ کرتی اور متبادل نظام پر بات کرتی، میں مانتا ہوں کسی بھی اسلامی ملک میں مکمل غیر سودی نظام نہیں تاہم وجود ناقص عدم سے بہتر ہوتا ہے، حکومت کو کچھ نہ کچھ اقدامات کرنے چاہئیں، سنجیدگی اور اخلاص نیت کے ساتھ سودی نظام کیخلاف اسلامی بینکاری پر توجہ دینی چاہئے۔


جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے کہا کہ مسلح جدوجہد سے اسلامی نظام نافذ نہیں کیا جاسکتا، پاکستان میں ہمیشہ بے دین طبقہ حکمرانی کرتا رہا، آئین میں اسلامی تعلیمات موجود ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ انہیں نافذ کیا گیا یا نہیں، اسلامی تعلیمات کے مطابق سود حرام ہے، سپریم کورٹ نے بھی سودی نظام کے خاتمے کیلئے فیصلہ دیا تاہم حکومت اس پرعمل نہیں کرتی۔


 ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں ثقافت کے نام پر بے حیائی اور فحاشی عام ہے، ایسی چیزیں دیکھ کر مخالف لوگوں کے جذبات بھڑکتے ہیں، بعض مذہبی طبقوں میں بھی جذباتی لوگ پیدا ہوگئے ہیں حکومت کو چاہئے کہ اسلامی عادلانہ نظام نافذ کیا جائے۔


مفتی نعیم کہتے ہیں کہ حکومت سودی نظام کے خاتمے کا ارادہ کرلے تو متبادل نظام نافذ ہوسکتا ہے، حکومت کو چاہئے کہ سودی نظام کے بجائے اسلامی تعلیمات کے مطابق نوجوانوں کو قرضے دے، حکومت کو سودی نظام اور بے حیائی کے خاتمے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔


انہوں نے کہا کہ خودکش حملوں کو حرام قرار دینے کا فتویٰ ہزار بار دہرایا جاچکا، سودی نظام کو اللہ اور رسول نے حرام قرار دیا، اسلامی بینکاری کے نظام کو دنیا تسلیم کررہی ہے، ہم سودی نظام سے چمٹے ہوئے ہیں، بنیادی اسلامی تعلیمات سے متصادم قوانین کو ختم کرنا چاہئے۔


معروف وکیل سلمان اکرم راجہ نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ علامہ اقبال نے 1930ء میں اپنے خطبے میں کہا تھا کہ اسلامی نظام کا نفاذ صرف منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے ممکن ہے، علماء اور دیگر طبقات کی رائے اور مشورے کے مطابق پارلیمنٹ میں اکثریت کے ذریعے قانون سازی ہونی چاہئے۔


وہ کہتے ہیں کہ ضیاء دور میں آئین میں شریعت کورٹ شامل کی گئی جس سے دستور میں بڑی تبدیلی آئی، میری نظر میں یہ درست نہیں تھی تاہم آئین میں اسلامی تعلیمات اور شرعی قوانین نہ ہونے کی بات سراسر زیادتی ہے، شرعی عدالت کے سربراہ مفتی تقی عثمانی نے 20 سال کی انتھک محنت کے بعد صرف چند قوانین کو غیر اسلامی اور غیر شرعی قرار دیا، ان میں بھی ترمیم کردی گئی۔


ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں مذہبی حلقے میں سود اور بے پردگی و فحاشی سے متعلق خدشات ہیں، سپریم کورٹ کی شریعت اپیلٹ بینچ نے سود سے متعلق معاملے پر اپنے فیصلے کو واپس لے لیا اور دوبارہ اس پر غور کیا جارہا ہے، سودی نظام کے خاتمے سے متعلق باتیں جذباتیت سے لبریز ہیں، جس چیز کو یہاں سود کہا جارہا ہے وہ نظام دنیا کے تمام ممالک میں نافذ ہے، اسٹیٹ بینک نے اسلامی بینکنگ کو ترقی دینے کی بہت کوششیں کیں، ایک دن میں معاشی نظام کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، بتدریج ہم اس نظام سے چھٹکارا پاسکتے ہیں، پاکستان میں اس وقت 20 اسلامی بینک کام کررہے ہیں۔ سماء

کے

کا

پر

federal

زور

azarenka

sacrifice

prophet

Tabool ads will show in this div