ہو مبارک تمھیں ہمنوا مل گیا

تحریر: صلاح الدین یوسف

اور بالآخر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تیسری شادی کا باضابطہ اعلان کر ہی ڈالا۔ کافی دنوں سے عمران خان کی تیسری شادی کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی تھیں۔ پاکستان کے ایک معروف صحافی کی جانب سے مسلسل یہ دعوی کیا جارہا تھا کہ نئے سال کے آغاز پر یکم جنوری 2018ء کو عمران خان نے اپنی روحانی ڈاکٹر بشریٰ بی بی سے تیسری شادی کرلی ہے۔ اس خبر کے بعد سے تو ایسے معلوم دینے لگا جیسے ہر طرف عمران خان کی تیسری شادی سے بڑا پاکستان میں کوئی دوسرا ایشو ہی نہیں ہے۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا سے لیکر سوشل میڈیا تک بس اسی خبر کی بازگشت سنائی دینے لگی۔ جبکہ خبر کی تردید کے حوالے سے عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے بیانات بھی آتے رہے۔ اور یہ کہا جاتا رہا کہ شادی کی خبریں بےبنیاد اورجھوٹ پر مبنی ہیں۔ ہاں البتہ عمران خان کی طرف سے بشری بی بی کو رشتے کا پیغام ضرور بھیجا گیا ہے۔

لیکن اٹھارہ فروری کو عمران خان نے اپنی روحانی معالج بشری بی بی کے ساتھ تیسری شادی کا ناصرف باضابطہ اعلان کیا بلکہ نکاح کے وقت لی گئی تصاویر بھی میڈیا پر جاری کردیں جبکہ خبر یہ بنائی گئی کہ نکاح اٹھارہ فروری کو ہوا ہے اور نکاح کے وقت کھینچی گئی تصاویر اٹھارہ فروری کے دن کی ہی ہیں۔ لہذا اِس سے پہلے شادی کی خبریں جھوٹ پر مبنی ہیں۔ جبکہ معروف صحافی کی جانب سے ابھی بھی یہی دعوی کیا جارہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے اٹھارہ فروری کو جاری کی گئیں شادی کی تصاویر اٹھارہ فروری کی نہیں بلکہ یکم جنوری 2018ء کی ہی ہیں۔ جس کا باضابطہ اعلان اٹھارہ فروری کو کیا گیا ہے۔ لہذا اُن کی خبر سو فیصد درست تھی۔ کیونکہ خان صاحب کی شادی کی تصاویر اِس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ جو خبر انھوں نے یکم جنوری کو بریک کی تھی اور نکاح خواں اور گواہان سمیت نکاح میں شریک جن لوگوں کے نام اُس وقت بتائے تھے وہ سب کردار اِن تصاویر میں موجود ہیں۔

دوسری جانب بشری بی بی کی قریبی دوست سمجھی جانے والی فرح خان کا کہنا ہے کہ بشری بی بی کا نکاح اٹھارہ فروری کو ہی ہوا ہے کیونکہ سابق شوہر سے علیحدگی کے بعد وہ عدت میں تھیں اور انکی عدت کا دورانیہ چودہ فروری کو مکمل ہوا ہے لہذا اِس سے پہلے نکاح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر فرح خان کی بات کو درست مان بھی لیا جائے تو یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ جب بشری بی بی کی عدت کا دورانیہ چودہ فروری کو مکمل ہوا ہے تو عمران خان کی جانب سے انھیں رشتے کا پیغام کب بھیجا گیا۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے تو یکم جنوری کے بعد سے ہی یہ کہا جاتا رہا ہے کہ عمران خان کا بشری بی بی سے نکاح نہیں ہوا بلکہ عمران خان کی جانب سے نکاح کا پیغام بھیجا گیا ہے۔ مذہبی حلقے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام میں عدت کے دوران رشتے کا پیغام بھیجنے کی منادی ہے۔ تو پھر دورانِ عدت نکاح کا پیغام کیسے بھیجا گیا اور ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والی خاتون نے یہ پیغام دورانِ عدت کیسے منظور کرلیا۔

بشریٰ بی بی کی زندگی کے حوالے سے جو خبریں اب تک منظرِ عام پر لائی گئی ہیں وہ بھی کچھ واضح نہیں ہیں اور اِس حوالے سے مختلف خبر گردش کر رہی ہیں حال ہی میں ان کی سابقہ شوہر خاور مانیکا سے علیحدگی ہوئی ہے جبکہ اِس اچانک علیحدگی کی بھی اب تک اصل وجوہات سامنے نہیں لائی جا سکی ہیں جہاں ایک جانب دونوں کے درمیان خراب تعلقات کی وجہ خان صاحب کا دونوں کے درمیان میں آنا بتایا جارہا ہے تو دوسری جانب اِسے بشری بی بی کے کسی خواب سے بھی تعبیر کیا جارہا ہے۔ خیر وجہ چاہے جو بھی ہو لیکن اب حقیقت یہ ہے کہ بشری بی بی پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ ہیں۔ جو اِس وقت پاکستان کی سیاست کا چکمتا دمکتا ستارہ ہیں۔ پی ٹی آئی کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے کچھ بعید نہیں کہ آنے والے انتخابات میں اگلی حکومت پاکستان تحریک انصاف کی ہو اور پاکستان کا یہ چمکتا دمکتا ستارہ وزیراعظم کے منصب پرفائز ہوجائے۔ یقیناَ عمران خان نے کافی کٹھن مراحل سے گزر کر اور انتہائی نامساعد حالات میں کئی مشکل فیصلے کئے ہیں امید کرتے ہیں انکا یہ فیصلہ بھی دانشمندانہ فیصلہ ثابت ہوگا۔ مخالفین جو چاہیں کہتے رہیں لیکن ماہرین علم نجوم بشری بی بی سے اُن کی تیسری شادی کو عمران خان اور ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے خوش آئند قرار دے رہے ہیں۔ اللہ پاک سے دعا ہے ایسا ہی ہو تبدیلی کے اِس پیامبر کی یہ خوشی صرف ازدواجی زندگی میں ہی بہاریں نہ لائے بلکہ سیاسی زندگی میں بھی مثبت انقلاب کا باعث بنیں۔ آمین

IMRAN KHAN

pti chairman

Third Marriage

Bushra Manika

Tabool ads will show in this div