عرب امارات میں پی ایس ایل مہنگا سودا ہے

تحریر: سجاد خان

متحدہ عرب امارات پاکستان کے سب سے مقبول کرکٹ ایونٹ پاکستان سپر لیگ کی تیسری بار میزبانی کررہا ہے ۔ ایونٹ میں پاکستانی اورغیرملکی کرکٹرز ایکشن میں ہیں۔یہ یقینی طور پر پاکستان کی بڑی کامیابی ہے لیکن اب پی سی بی کو ملک میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے آئی سی سی اور غیر ملکی کرکٹ بورڈز کا نہیں بلکہ غیر ملکی کھلاڑیوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایکشن میں آناہوگا ۔ پی ایس ایل کے پلے آف میچز اور فائنل پاکستان میں ہوگا۔ یو اے ای میں پاکستان اپنی ہوم سیریز بھی کھیلتا ہے مگر اب یو اے ای میں ہوم سیریز پاکستان کے لئے مشکلات آ رہی ہیں ۔ یواے ای میں کئی دیگر ایونٹس تواتر سے شیڈول کیے جانے کی وجہ سے شائقین کی دلچسپی کم ہونے لگی ہے جب کہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

یواے ای میں بھی حالات پہلے جیسے نہیں رہے،اکتوبر میں شارجہ میں افغان لیگ کرانے کی پلاننگ ہو رہی ہے،پاکستان کو اس دوران یواے ای میں ہی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی میزبانی کرنا ہے۔ اس دوران ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے، اس صورتحال میں کم از کم شارجہ میں میچز تو نہیں ہوسکیں گے۔کرکٹ میں پیسہ دیکھ کر یو اے ای کرکٹ بورڈ کی بھی رال ٹپکنے لگی  ہے۔یو اے ای کی اپنی کرکٹ ٹیم تو ایسوسی ایٹ ممبر ہے آئی سی سی کی اور امارات کرکٹ بورڈ ہر سال جنوری میں عریبین لیگ کرانے کیلیے پر تول رہا ہے۔ایسے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل اور انٹرنیشنل میچز کی میزبانی کے لیے ملائیشیا کے آپشن پر غور شروع کر دیاہے ۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی گراؤنڈز اور سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے جلد ملائیشیا اڑان بھریں گے۔اگر معاملات طے پاگئے تو امارات کی نسبت اخراجات آدھے رہ جائیں گے۔

ملائیشین کنڈیشنز پاکستان سے ملتی جلتی ہیں،پی سی بی کی جانب سے اپنی ٹیم بھارت بھجوانے سے انکار کے بعد وہاں انڈرنائٹین ایشیا کپ کا اہتمام کیا گیا جس میں پچز اور ماحول پاکستان یا یواے ای سے زیادہ مختلف نہیں تھا۔ نجم سیٹھی پہلی کوشش کے طور پر آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز کی میزبانی ملائیشیا میں کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن ایک خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔ اکتوبر میں وہاں تسلسل کے ساتھ ہونے والی بارشیں امیدوں پر پانی پھیر سکتی ہیں،اس دوران ملک میں ہر دوسرے اور تیسرے روز رم جھم معمول کی بات ہے۔ ایسے حالات میں فل ممبرز کے مابین ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کیلیے موزوں مقامات کا فیصلہ کرتے ہوئے پی سی بی کو سوبار سوچنا ہوگا۔

پی ایس ایل ملائشیا میں کرانے کے بجائے پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ پی ایس ایل کے میچز انگلینڈ ، آئرلینڈ یا آسٹریلیا میں کرائے یقیناَ یہ وینیوز پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے مہنگے ثابت ہوں گے لیکن نقصان دہ نہیں ہوں گے  اور اس بات کو بھی مد نظر رکھا جائے کہ ان ممالک میں بڑی تعداد میں پاکستانی مقیم ہیں اور یہاں پر یو اے ای کے مقابلے میں ایونٹ کے اسپانسرز بھی زیادہ ملنے کی امید ہے۔ان وینیوز پر جب ان ہی ممالک کے کرکٹرز ایونٹ کھیل رہے ہوں گے تو کرکٹرز کو پاکستان میں پی ایس ایل کے پلے آف میچز اور فائنل کھیلنے کے لئے آمادہ کرنا زیادہ آسان ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی کاوشوں کی بدولت دوہزار پندرہ میں زمبابوے کی ٹیم محدود اوورز کی سیریز کھیلنے کیلیے لاہور آئی،ورلڈ الیون کیخلاف آزادی کپ سیریز اور سری لنکاکی ٹی ٹوئنٹی میچ میں میزبانی بھی لاہور میں کی گئی۔ پی ایس ایل ٹو کا فائنل لاہور میں کھیلا گیا۔ اس موقع پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل  کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن کا کہناتھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو صرف آئی سی سی کی طرف نہیں دیکھنا چاہیئے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے خود پر انحصار کرناہوگا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پی سی بی ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ بحالی کے لئےغیرمعمولی تگ و دو کر رہاہے لیکن اب پی سی بی کو انٹرنیشنل کرکٹ بورڈز کو پاکستان میں ٹیمیں بھیجنے کے ساتھ ساتھ  پی ایس ایل میں شامل کھلاڑیوں کو پاکستان میں کھیلنے پر آمادہ کرنے کی بھی بھرپورکاوشیں کرنا ہوں گی۔

PSL 3

Tabool ads will show in this div