مریم نواز کی سیاست اور عمران خان کی حماقت

تحریر: عمران احمد راجپوت

کامیاب لوگ اور قومیں اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں۔ یہ الفاظ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے کیے گئے ایک ٹوئیٹ پیغام کے ہیں۔ جو انہوں نے قومی اسمبلی کے حلقہ 154 لودھراں کے ضمنی انتخاب میں اپنے امیدوار کی شکست کے بعد کارکنوں میں پھیلنے والی مایوسی کو روکنے لیے کیا تھا۔ بارہ فروری کو لودھراں این اے 154 کے ضمنی الیکشن میں بڑا اَپ سیٹ اُس وقت دیکھنے میں آیا جب مسلم لیگ ن کے امیدوار اقبال شاہ نے پاکستان تحریک انصاف کے مضبوط ترین امیدوار نااہل جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق تقریباً چھبیس ہزار تین سو ایک ووٹ سے شکست دے کر جیت کا سہرا مسلم لیگ ن کے سر باندھا۔ یہ سیٹ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو سپریم کورٹ کی جانب سے نااہل قرار دئیے جانے کے باعث خالی ہوئی تھی جس پر مورثی سیاست کی سب سے بڑی مخالف اور اِس حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اِس نشست پر ضمنی الیکشن کےلیے فوری طور پر جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو ٹکٹ دیتے ہوئے اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔

خان صاحب کی جانب سے علی ترین کو این اے 154 لودھراں سے امیدوار نامزد کئے جانے سے نہ صرف عمران خان کے حمایتی حیران تھے بلکہ ان کے ورکرز اور سپورٹرز میں بھی کافی بےچینی پائی جارہی تھی اور وہ خان صاحب کے اِس فیصلے سے کافی پریشان تھے۔ حالانکہ پی ٹی آئی میں موجود سنجیدہ حلقوں کی جانب سے عمران خان کو اِس غیر سنجیدہ فیصلے سے روکنے کے لئے کوششیں بھی کی گئیں اور پارٹی کو پہنچنے والے نقصان سے آگاہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن عمران خان نے بھی شاید دیگر جماعتوں کے قائدین کی طرح اپنی گردن میں سریہ فٹ کر رکھا ہے۔ جبکہ موجودہ صورتحال میں جن کی گردنوں میں کبھی سریے ہوا کرتے تھے آج کل ان کی گردنوں میں بھی پُھریری آئی ہوئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز سپورٹرز کو دیکھ کر ترس آتا ہے۔ اِن کی حالت آج کل بالکل ایسی ہی ہے جیسے کبھی ایم کیوایم کے ورکرز سپورٹرز کی ہوا کرتی تھی۔ پارٹی قائد کی جانب سے غیر سنجیدہ رویوں پر وہ بھی بالکل اِسی طرح کی وضاحتیں دیتے پھرتے تھے جیسے آج کل عمران خان کے غیر سنجیدہ فیصلوں پر پارٹی رہنما اور دیگر سیاسی ورکرز صفائیاں دیتے پھر رہے ہیں۔

خان صاحب کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ پاکستان میں سیاست عوام کو سنہرے خواب دکھا کر ان کے دلوں پر وقتی راج کرنے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ اپنی فہم و فراست کا استعمال کرتے ہوئے میدان میں موجود اپنے حریف کو زیر کرنے کا نام سیاست ہے۔ ایک بہترین سیاستدان کا کام مخالف کے ووٹر کو اپنی جانب راغب کرنا ہوتا ہے۔ عوام مقبول لیڈر بنانے میں تو اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں لیکن ایک بہترین سیاستدان اپنی فہم و فراست اور وسیع سیاسی تجربے سے ہی بنا جاسکتا ہے۔ عوام نے آپ پر اعتماد کرتے ہوئے بطور لیڈر آپ کو مقبولیت کی اُس بلندی پر پہنچا دیا ہے جس کا آپ کبھی تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ خود کو ایک بہترین سیاستدان ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ بیس سالہ سیاسی تجربہ رکھنے کے باوجود خان صاحب سیاست کا یہ گُر سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جبکہ یہ بات مسلم لیگ ن کی ابھرتی ہوئی قیادت مریم نواز بخوبی سمجھتی ہیں۔ جب سے وہ سیاست میں متحرک ہوئی ہیں میاں صاحب کے مخالفین کی ہر چال اُلٹی اُنھی پر چوٹ لگاتی نظر آتی ہے۔ جس طرح انھوں نے مسلم لیگ ن کے زوال کو عروج میں بدلا ہے وہ واقعی قابلِ ستائش ہے۔ پاناما ہو اقامہ ہو یا پھر میاں صاحب کی نااہلی کا معاملہ ہو اِن سب کے منفی اثرات کو اپنی مثبت سیاسی چالوں سے  زائل کرنے کا ہنر مریم نواز خوب جانتی ہیں۔ اگر آج مریم نواز سیاست میں اِس طرح متحرک نہ ہوئی ہوتیں تو یقیناً میاں صاحب کےلیے خود کو اِن مشکلات سے نکالنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا۔ لیکن جس طرح مریم نواز سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مخالفین کی ہر چال کو ناکامی میں بدل رہی ہیں نہ صرف مسلم لیگ ن کے ورکرز سپورٹرز کے دلوں میں اپنی جگہ بناتی دکھائی دیتی ہیں بلکہ عوام میں بھی بڑی تیزی سے مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ اِس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ ن کو اُس کا نیا قائد مریم نواز کی صورت میں مل گیا ہے۔ ایک ایسا قائد جس میں ایک مقبول لیڈر اور بہترین سیاستدان بننے کی بھرپور صلاحیت ہیں۔

PTI

Politics

IMRAN KHAN

by polls

na 154

MARYAM NAWAZ

stupidity

Tabool ads will show in this div