ایس ایس پی تشدد کیس؛عمران خان کی بریت اوراستثنیٰ کی درخواست

اسلام آباد: چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے ایس ایس پی عصمت اللہ تشدد کیس میں حاضری سے استثنیٰ اور بریت کی درخواست دائرکردی۔ کہتے ہیں سیاسی احتجاج پرمقدمات بن جاناسراسرغیر جمہوری عمل ہے۔

جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کے خلاف ایس ایس پی عصمت اللہ تشدد کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کی۔ عمران خان کو آج 2014 کے دھرنے کے دوران ایس ایس پی عصمت اللہ پرتشدد کے کیس میں طلب کیا گیا تھا۔

آج سماعت کے دوران عمران خان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ اور بریت کی درخواستیں جمع کرائی گئیں۔ عدالت نے عمران خان کو دونوں درخواستوں کی نقول پراسیکیوشن کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ درخواست پر بحث کیلئے پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کررہے ہیں، بحث کیلئے سماعت یکم مارچ کو مقرر کرلیتے ہیں۔

عمران خان کے وکیل بابراعوان مصروفیت کے باعث آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ایڈووکیٹ شاہد نسیم گوندل نے پوچھا کہ کیا آئندہ سماعت پر بھی ملزم کو آنا پڑیگا؟۔عدالت نے ریمارکس دیے کہا بھی حاضری سے استثنیٰ نہیں ملا تو آنا پڑے گا۔

وکیل نے کہا کہ پھر آئندہ تاریخ 26 فروری کی رکھ لیں۔ 26 فروری کو پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ سمیت دیگر کیسز سماعت کیلئے مقرر ہیں۔ جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 26 فروری تک ملتوی کردی۔

کمرہ عدالت میں عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک آدمی سیاسی احتجاج کرے اور اسکے خلاف کیسز بن جائیں، یہ سراسر غیر جمہوری عمل ہے۔ جج شاہ رخ ارجمند نے کہا کہ کیس عدالت میں ہے اور ہم نے قانون کے مطابق کام کرنا ہے۔

واضح رہے کہ سال 2014 میں حکومت کے خلاف اسلام آباد کے ڈی چوک پر دھرنے کے دوران عمران خان، سربراہ عوامی تحریک طاہر القادری اور دیگر کے خلاف 4 مقدمات درج کیے گئے تھے۔جن میں پی ٹی وی حملہ، پارلیمنٹ حملہ اور ایس ایس پی عصمت جونیجو تشدد کیس شامل ہے۔

PTI

IMRAN KHAN

ATC

SIT IN

asmat ullah junejo

acquittal

ssp torture case

appearance exemption requests

Tabool ads will show in this div