انسانی زندگی بچاتی ایمبولینس

زندگی بہت قیمتی ہوتی ہے لیکن کب کس کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آجائے یہ کوئی نہیں جا نتا اور انسان کی زندگی بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ایمبولینس۔

دنیا میں جہاں بھی کوئی حادثہ ہو جائے یا کوئی گھر میں بیمار مریض کو اسپتال منتقل کرنے کا کام ایمبولینس کرتی ہے۔اس لیے دنیا میں ہر جگہ ایمبولینس ایک مخصوص اور توجہ طلب گاڑی کو کہا جاتا ہے اور ہر ملک کی حکومت اپنی ایمبولینس سروس کو تمام تر سہولیات فراہم کرتی ہیں۔ان ایمبولینس میں زندگی بچانے والے جدید سامان موجود ہوتے ہیں تاکہ مریض کوگھر سے اسپتال منتقل کرنے کے دوران جس قدر ممکن ہو مریض کو طبی امداد دی جاسکے اور اس کی زندگی بچانے کی کوشش ایمبولینس سے ہی شروع کی جاسکے۔

کیا ہمارے ملک کی بھی تمام ایمبولینسز اسی طرح کی ہو تی ہیں؟ تو افسوس کے ساتھ ایسا نہیں ہے کیونکہ ہماری حکومت اس طرف توجہ نہیں دیتی ہے۔ ہماری تقریباًتمام ایمبولینسزسروس چندوں پر چل رہی ہیں جن میں اکثرو بیشتر صرف ناموں تک ہی محدود ہے اور رمضان میں زکوة لینے پہنچ جاتے ہیں۔ ان اداروں کی مجموعی تعداد کتنی ہے،فوری طور پر یہ بتانا تو مشکل ہے مگر ایک اندازے کے مطابق یہ تعداد کم ازکم کئی درجن تو ہے۔ ان میں سے کچھ ادارے بہت بڑا ایمبولینس نیٹ ورک رکھتے ہیں مثلاً ایدھی ایمبولینس ، چھیپا ایمبولینس، خدمت خلق فاﺅنڈیشن، امن فاﺅنڈیشن وغیرہ تمام سروسسزاپنی خدمات بخوبی انجام دے رہی ہیں لیکن تمام سروسسز کی ایمبولینس میں جدید سامان موجود نہیں ہو تا لیکن ہمارے خوشی کی بات یہ ہے کہ کراچی میں امن ایمبولنسز میں یہ تمام تر جدید سامان موجود ہو تا ہے۔ ابھی امن کے پاس 80ایمبولینسز ہے اور 60ایمبولینسز روڈ پرخدمت انجام دے رہی ہوتی ہیں لیکن کراچی کی آبادی کے حساب سے تقریباً230 ایمبولینسز کی ضرورت ہے یا اس سے بھی زیادہ کیونکہ شہر قائدکی دوکروڑ سے زائدکی آبادی میں ٹریفک حادثات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایمبولینسز کی موجودگی فطری امر بن گئی ہے۔امن ایمبولینس میں ایمرجینسی میں مریض کے لئےتمام جدید آلات نصب ہوتے ہیں جنہیں چلانے کیلئے ٹیکنشنز موجود ہوتے ہیں اور ڈاکٹر بھی جو بر وقت مریض کو طبی امداد مہیا کرتے ہیں ۔ امن ایمبولینس میں آکسیجن اور 50 سے زائدادویات ،اے ای دی ڈی ڈیوائس موجود ہوتی ہے”اے ای ڈی“جو پوری آٹومیٹک ہوتی مریض کی ردھم مانیٹر کرتی ہے اور پورے جسم میں الیکٹرک شاک دیتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہ آٹومیٹک ہدایات مہیا کرتی ہے امن ایمبولنس کا تمام سٹم (ایم پی دی ایس)کہلاتا ہے جو کہ امریکہ کے 911کا سسٹم کے تحت چلایاجاتا ہے۔ امن ایمبولینسز کی تین اقسام ہےں(اے ایل ایس،اے سی ایل ایس ،بی ایل ایس)یہ مریض کی طبعی حالت کودیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی ایمبولینس سروس مہیا کی جائے ۔ کراچی کے ٹریفک کاکوئی نظام نہیں جگہ جگہ ٹریفک جام ہوتے ہیں اگر ایمبولینس کہیں پھنس گئی تو اس صورت میں امن کا ریپڈرسپانس یونٹ کے ذریعے مریض طبی امداد دینے پہنچ جاتے ہیں۔ یہ موٹر سائکل پر سوار ہوتے ہیں ۔امن فاﺅنڈیشن جدید ترین ایمبولینس سروسز سمیت متعدد سہولیات کے ذریعے لوگوں کو خدمات فراہم کررہا ہے لیکن افسوس ہماری حکومت کی طرف سے اس ادارے کو بلکہ تما م فاﺅنڈیشن کو کوئی سپورٹ نہیں کیو نکہ ہمارے حکمران تو اپنی اپنی تجوری بھرنے میں مصروف ہیں۔ ابھی سندھ حکومت نے احسان کر کے صرف ٹھٹہ سے سجاول تک امن کے ساتھ پارٹنرشپ کی ہے۔ یہ ایمبولینس صرف کراچی میں ہی نہیں پورے پاکستان میں ہونی چاہیئے اور یہ تب ممکن ہو گاجب حکومت ان اداروں کو سپورٹ کریں۔

حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام سرکاری اسپتال کو جدید طرز کی ایمبولینسز فراہم کرے کیونکہ پوری دنیامیں ایمبولینس سروس حکومت فراہم کرتی ہے ۔ ہماری گزارش ہے پاکستان کی حکومت سے برائے مہربانی اپنے اکاﺅنٹ میں ملک کا پیسہ جمع کرنے کے بجائے عوام کی خدمت میں بھی خرچ کریں۔ کیاہماری حکومت سوچ سکتی ہے کہ اگر ایمبولینس وقت پر نہ پہنچے یا اس کی سہولیات موجود نہ ہو توکیا ہو گا؟ کیونکہ حادثہ تو سب کے ساتھ پیش آتا ہے چاہے وہ سیاستدان ہو یا پھر عام انسان ایمبولینس کی ضرورت تو سب کو پڑ سکتی ہے امیر لوگ تو اپنی گاڑیوں میں بھی اسپتال جا سکتے ہیں مگر وہ فوری طبی امداد جو امن ایمبولینس دیتی ہے وہ امیروں کی کار نہیں ضرورت اس امر کی ہے حکومت ان اداروں کا ساتھ دیںتا کہ اسطرح کی جدیدسہولت سے ہر آدمی مستفید ہوسکیں۔

health issue

ambulance service

Tabool ads will show in this div