ڈاکٹر فاروق ستار کنوینر کے عہدے سے فارغ

کراچی : ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے فارغ کردیا۔ کنور نوید جمیل کہتے ہیں فاروق ستار پر بہت سے چارجز ہیں، میرٹ پر فیصلہ کیا جاتا تو کوئی پریشانی نہ ہوتی، صورتحال کو سنبھالنے کی ہر کوشش ناکام ہونے کے بعد تکلیف دہ فیصلہ لینا پڑا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ آج فیصلہ نہ کرتے تو خطرہ تھا کہ تنظیم پر شب خون مار لیا جاتا، عوام بتائیں گے کہ فیصلہ تقسیم کا باعث ہے یا تعمیر کا، ہمیں کوئی عہدہ نہیں چاہئے، گھر جانے کو تیار ہیں۔

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس بہادر آباد آفس میں ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈاکٹر فاروق ستار سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے، تمام اراکین نے رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کردی۔

ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کنور نوید جمیل نے بتایا کہ رابطہ کمیٹی نے متفقہ طور پر ڈاکٹر فاروق ستار کو کنوینر کے عہدے سے فارغ کردیا، ان پر بہت سے چارجز ہیں، کوشش کی کہ گھر کی بات گھر میں ہی رہے، فاروق ستار نے ہمارے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی۔

مزید جانیے : رابطہ کمیٹی کا خط کام کرگیا؛فاروق ستار ہاتھ ملتے رہ گئے

انہوں نے مزید کہا کہ فاروق ستار پر الزام ہے کہ فاروق ستار نے ہر عہدے کو شامل اور فارغ کرنے کا اختیار اپنے ہاتھ میں لیا، فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لیے، ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے کے کے ایف کو تباہ کردیا گیا، چیف ٹرسٹی کے کے ایف فاروق ستار اس پر خاموش رہے، نذیر حسین یونیوسٹی تباہ حالی کا شکار ہے، یونیورسٹی کے ملازمین کو 7 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں۔

کنور نوید جمیل بولے کہ صورتحال کو سنبھالنے کی ہر کوشش ناکام ہونے کے بعد تکلیف دہ فیصلہ لینا پڑا، انتہائی بوجھل دل کے ساتھ بتارہا ہوں کہ ڈاکٹر فاروق ستار اب ایم کیو ایم کے ایک کارکن ہیں، فاروق ستار اپنی اصلاح کرلیں تو دوبارہ انہیں کنوینر بنایا جاسکتا ہے، پارٹی کو تقسیم سے بچانے کیلئے ہم نے تمام شرائط واپس لے لی تھیں

مزید جانیے : لیڈراختیارنہیں،اعتماد مانگتا ہے؛خالد مقبول

ان کا کہنا ہے کہ تمام عہدیدار ڈاکٹر فاروق ستار سے محبت رکھتے تھے اور رکھتے ہیں، تنظیم میں اقرباء پروری کے باوجود ہم خاموش تھے، پارٹی کو بچانے کی خاطر فاروق ستار کو منانے کی ہر ممکن کوشش کی، روزانہ منانے جاتے تھے، کل فاروق ستار کی ساری باتیں تسلیم کیں، رابطہ کمیٹی فاروق ستار کی خاطر اپنے خط سے دستبردار ہوئی، مخالفین کو ہنسنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے، ہمارا مطالبہ تھا کہ جنرل ورکرز اجلاس ملتوی کیا جائے، 22 اگست کے بعد طے ہوا تھا کسی شخصیت کو نہیں صرف تنظیم کو پروموٹ کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ نئے کنوینر کا فیصلہ رابطہ کمیٹی اجلاس میں کرے گی، پارٹی عہدیداروں کی ذمہ داریاں بدلتی رہتی ہیں، میرٹ پر فیصلہ کیا جاتا تو کوئی پریشانی نہ ہوتی۔

تفصیلات جانیے : ثابت ہوگیا مسئلہ ایم کیو ایم پاکستان پر قبضے کا تھا، فاروق ستار

ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کئی روز سے بار بار بات کی جارہی ہے ایم کیو ایم کے 2 گروہ ٹکٹوں پر جھگڑ رہے ہیں، کل رات متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے ڈاکٹر فاروق ستار کو بتا دیا تھا کہ سینیٹر، رکن قومی و صوبائی اسمبلی کی تنظیم کے آگے کوئی حیثیت نہیں، عامر خان نے سینیٹر بننے سے بھی انکار کردیا تھا اب تو کبھی بھی کنوینر نہ بننے کا اعلان کرچکے ہیں، رابطہ کمیٹی کے کئی ارکان 2018ء الیکشن میں حصہ لینے سے بھی انکار کرچکے ہیں، عوام بتائیں گے کہ یہ فیصلہ تقسیم کا باعث بنے گا یا تعمیر نو کا۔

وہ بولے کہ ہمیں کوئی عہدہ نہیں چاہئے، گھر جانے کو تیار ہیں، خطرہ تھا، آج فیصلہ نہ کرتے تو تنظیم پر شب خون مار لیا جاتا۔ سماء

rabita committee

coordination committee

FAROOQ SATTAR

MQM-P

MQMP

Muttahida Qaumi Movement-Pakistan

Tabool ads will show in this div