جاتی امرا،طاہرالقادری کی رہائشگاہ سمیت مختلف سڑکوں سے فوری رکاوٹیں ہٹانےکاحکم

لاہور : چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکیورٹی کے نام پر سڑکوں کی بندش پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران جاتی امرا، ماڈل ٹاﺅن میں وزیراعلیٰ کیمپ آفس، طاہر القادری کی رہائش گاہ، گورنر ہاﺅس، آئی جی آفس، پاسپورٹس آفس، ایبٹ روڈ، گارڈن آفس، چوبر جی میں جامعہ قدسیہ کے سامنے سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے مختلف کیسز کی سماعت کی۔ پنجاب میں صاف پانی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران عدالتی حکم پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔

سماعت کے آغاز میں ایڈووکیٹ جنرل نے بند کی گئی سڑکوں کی تفصیلات عدالت میں بتائیں ، چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ سڑکیں کس قانون کے تحت بند کیں؟ اس موقع پر چیف جسٹس نے بند کی گئی سڑکوں کو کھولنے کا حکم دیتے ہوئے آئی جی پنجاب کو سڑکیں کھول کر شام تک رپورٹ دینے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے سیکیورٹی کے نام پر سڑکوں کی بندش پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران جاتی امرا، ماڈل ٹاﺅن میں وزیراعلیٰ کیمپ آفس، طاہر القادری کی رہائش گاہ، گورنر ہاﺅس، آئی جی آفس، پاسپورٹس آفس، ایبٹ روڈ، گارڈن آفس، چوبر جی میں جامعہ قدسیہ کے سامنے سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دے دیا۔

سماعت میں چیف جسٹس نے وزیراعلیٰ پنجاب کو روسٹرم پر بلالیا اور خادم اعلیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سیاست نہیں، آپ کے آنے کا شکریہ، جس کے بعد چیف جسٹسں نے عدالتی معاون کو رپورٹ پڑھنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے ڈر کر نہیں چلنا، وزیراعلیٰ کو ڈرا کر مت بٹھائیں، سیاستدان تو عوامی آدمی ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب سے پولیس مقابلوں کی تفصیل ایک ہفتے میں طلب کرلی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ دریاؤں میں گند جا رہا ہے اور حکومت نے ٹریٹمنٹ پلانٹ نہیں لگائے، جو ہوگیا وہ ہوگیا ، آگے کیا کرنا ہے۔

جس پر شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے آزاد عدلیہ کی تحریک چلائی، آزاد عدلیہ کا وجود انتہائی ضروری ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ خواہش ہے کہ یہی سوچ آپ کی پارٹی کی سطح پر بھی نظر آئے، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ آزاد عدلیہ جمہوریت اور ملکی بقاء کیلئے ضروری ہے، میں بھی انسان ہوں،غلطی کرسکتا ہوں، صوبے کے عوام کی خدمت کیلئے پوری کوشش کر رہا ہوں۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ 2دن ان کیسوں کی سماعت کی، لیکن ماحولیات اور صحت کے معاملے پر ہم مطمئن نہیں ہیں، اسپتال ویسٹ پر بڑا کام کیا، ہمارا نظام بہت اچھا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ اسے آؤٹ سورس کرنا صحیح نہیں لگتا، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے کئی منصوبوں پر عوام کے پیسے بچائے، 3ہفتے دیں ہم پلان کے ساتھ آئیں گے۔

شہباز شریف کی درخواست پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہاں ہیں، آزاد الیکشن ہوں گے، آپ کی پارٹی جیتی تو ہم آپ کو وزیراعظم دیکھنا چاہتے ہیں، اس پر شہباز شریف نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو آپ میرے پیچھے پڑگئے ہیں، جس پر کمرا عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

اس موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان نے وزیراعلیٰ ہاؤس، طاہر القادری، گورنر ہاؤس ، آئی جی آفس، نادرا آفس ایبٹ روڈ ، گارڈن اور ٹاؤن آفس کے باہر سے رکاوٹیں ہٹانے کا حکم دیا۔ سماء

PUNJAB

CJP

tahir ul qadri

water issue

rana mashood

POLLUTION

gallons

chief justice of pakista

barricades

Tabool ads will show in this div