ممکن ہے نااہلی کی مدت کا تعین کردیں، چیف جسٹس

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت ںااہلی کی مدت کے تعین کے کيس ميں چيف جسٹس نے ريمارکس دیئے ہیں کہ قانون مبہم ہو تو تشریح عدالت کو کرنا ہوتی ہے، ممکن ہے نااہلی کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت کا تعین کریں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ بے ایمان قرار دیا گیا شخص کچھ عرصے بعد ایماندار کیسے ہوگا؟۔ عدالت عظمیٰ نے آئندہ سماعت پر معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ پاکستان میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کے تعین کے کیس کی سماعت کی۔

عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جو کام سیاستدان نہیں کرسکے وہ عدالت کیسے کرسکتی ہے، سیاسی معاملات پر فیصلے پارلیمنٹ سے ہی ہونے چاہئیں، پارلیمنٹ تاحال آزاد نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس بولے کہ ہم عدلیہ پارلیمنٹ کو مکمل آزاد سمجھتے ہیں، ہم آپ کی رائے سے متفق نہیں، سینئر وکیل نے کہا کہ جو خوف ضیاء الحق کے دور میں تھا آج بھی ہے، بی اے کی ڈگری کی شرط سے ووٹرز کی پسند محدود ہوگئی، عدالت نے 2009ء کے فیصلے میں اس بات کو تسلیم کیا۔

جسٹس ثاقب نثار بولے کہ کیا نااہل ہونے والا شخص ضمنی انتخاب لڑسکتا ہے؟، قانون مبہم ہو تو تشریح عدالت نے کرنے ہوتی ہے، عدالت 62 ون ایف کو کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ ایمانداری کا تعین کرسکتی ہے، عوام اور قانون ساز بے ایمان لوگ پارلیمنٹ میں نہیں چاہتے، بے ایمان قرار دیا گیا شخص کچھ عرصے بعد ایماندار کیسے ہوگا؟۔ چیف جسٹس نے پوچھا کہ بے ایمان شخص کو مختصر مدت کیلئے کیسے نااہل کیا جاسکتا ہے؟۔

جسٹس عمر نے ریمارکس دیئے کہ جعلی ڈگری پر مستعفی رکن نے ڈگری کا دفاع نہیں کیا تھا، مستعفی رکن عوام کے پاس گیا اور پہلے سے زیادہ ووٹ لے کر آیا۔ جسٹس عظمت سعید بولے کہ نااہلی کی مدت ڈیکلیریشن برقرار رہنے تک ہوگی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ڈیکلیریشن کیخلاف فیصلے تک امیدوار نااہل رہے گا۔

عاصمہ جہانگیر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بے ایمانی پر بھی نااہلی کی مدت 5 سال ہونی چاہئے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہماری نظر میں آرٹیکل 62 اور 63 آزاد اور الگ ہیں، قانون سازوں نے سزا پر نااہلی کی مدت کا تعین خود کیا، آئینی نکتے کا جائزہ لے رہے ہیں، ممکن ہے نااہلی کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ مدت کا تعین کریں۔

جسٹس سجاد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عام آدمی اور منختب نمائندے کیلئے معیار مختلف ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق صرف منتخب نمائندوں پر ہوتا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کہتے ہیں کہ اعلیٰ معیار کے لوگوں کو اسمبلیوں میں ہونا چاہئے۔ جس پر عاصمہ جہانگیر بولیں کہ اتنے اعلیٰ معیار کے لوگ پاکستان میں نہیں ہیں۔ سماء

 

CJP

Asima Jahangir

SCP

PM Disqualification

Article 62-1F

Tabool ads will show in this div