مشال خان قتل کیس، 1مجرم کو موت اور 30 کو قید کی سزا

ہری پور جیل : ہری پور جیل میں مقتول مشاک خان قتل کیس کا تاریخ فیصلہ تقریباً ایک سال بعد سنا دیا گیا۔ کیس کا فیصلہ بند کمرے میں سنایا گیا ہے۔ براہ راست گولی مارنے والے مجرم عمران  کو موت کی سزا سنائی گئی۔ ، جب کہ 5 ملزمان کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی گئی، 25 کو 4، 4 قید کی سزا دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ موت کی سزا پانے والا مجرم پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ضلعی ناظم منتخب  ہوا تھا۔

ہری پور سینٹرل جیل میں  نا حق قتل کیے گئے مردان یونی ورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کے کیس کا فیصلہ سنا دیاگیا،  انسداد دہشت گردی عدالت کے جج فضل سبحان نے مشال قتل کیس کا فیصلہ سنایا، انسداد دہشت گردی کی عدالت میں 57 ملزمان کو پیش کیا گیا ہے۔ اس موقع پر جیل کے اندر اور باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کیس کا تحریری فیصلہ جاری نہیں کیا گیا ہے۔

 

عدالت میں ایک ملزم جو کیس کا مرکزی کردار بھی ہے عارف کو پیش نہیں کیا گیا، ملزم عارف مرکزی ملزم تھا، جو روپوش ہے اور اس کا کسی کو پتا نہیں کہ وہ کہاں ہے، وہ  پاکستان میں موجود بھی ہے یا نہیں۔ عارف نے یونی ورسٹی میں تمام لوگوں کو اکسایا تھا اور مشال خان پر توہین رسالت کا الزام لگا کر لوگوں کو اشتعال دلایا کہ اسے قتل کرنا ہے۔

 

کمرہ عدالت میں مشال کے والد اور بھائی موجود نہیں تھے۔ اس موقع پر عدالت کے جج نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک مرکزی ملزم جس نے مشال پر براہ راست فائرنگ کرکے اسے قتل کیا تھا ، اسے موت کی سزا، دیگر پانچ ملزمان کو 25،25 سال قید کی سزا اور دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت  کے جج فضل سبحان کیس کا فیصلہ سنا یا۔ فیصلے سنانے سے قبل عدالت میں گرفتار57ملزمان کی حاضری لگائی گئی۔ نمائندہ سماء کے مطابق عدالت میں گرفتار ملزمان کے اہل خانہ کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے باعث مشال کے وکلا آج ہونے والی اہم کارروائی کے موقع پر عدالت میں پیش نہیں ہوسکے۔

دوسری جانب کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے نمٹنے کیلئے صوابی میں مشال کے گھر پر بھی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ رہا ہونے والے بھی وہی لوگ ہیں جو جنونی ہجوم میں شامل تھے اور مشال خان کے قتل میں شرکت ہوئے۔

 

اس کیس میں ستمبر 2017 سے جنوری 2018 تک 25 سماعتیں ہوئیں، جن میں 68 گواہ پیش ہوئےتاہم عدالت نے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد 27 جنوری کو مقدمے کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ سال 2017 اپریل میں عبدالولی خان یونی ورسٹی مردان میں جرنلزم کے 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر جان سے مار دیا تھا۔

مشال خان قتل کیس کا مقدمہ پہلے پشاور ہائی کورٹ میں چلا، تاہم مشال کے والد محمد اقبال کی درخواست پر مقدمہ پشاورہائی کورٹ سے انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت ایبٹ آباد منتقل کردیا گیا، جہاں ہری پور سینٹرل جیل میں آج کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔ سماء

Mardan University

Abdul Wali Khan university

Mashal Khan

Mashal Khan murder case

haripur jail

Tabool ads will show in this div