ننھی اسماء کا قاتل اس کا 15 سالہ کزن محمد نبی نکلا

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/02/GMF-IG-KP-SOT-07-02.mp4"][/video]

مردان : آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین محسود کا کہنا ہے کہ ننھی اسماء کا قاتل اس کا 15 سالہ کزن محمد نبی تھا، جو اسی گلی میں رہتا تھا اور شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے آیا ہوا تھا۔ دکان پر بچی کو اکیلا دیکھ کر وہ اسے گنے کے کھیتوں میں لے گیا اور اپنا مکروہ کام انجام دیا۔

تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز آر پی او مردان اور آئی جی خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے ننھی اسماء کے قتل کا کیس 25 دن بعد حل کرلیا ہے، بچی کا قاتل کوئی اور نہیں بلکہ اس کا پندرہ سالہ کزن محمد نبی ہے، جو اسی گلی میں رہتا تھا اور شادی کی تقریب میں شرکت کیلئے موجود تھا۔

پولیس افسران کے مطابق گزشتہ رات ملزم نے پولیس کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور کیسے قتل کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کی عمر 15 سال ہے، ملزم بچی کو گنے کے کھیت میں لے کر گیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا ملزم شام تک وہی رہا، تاہم سراغ رساں کتوں کے آنے پر وہ سائیکل پر بھاگ نکلا اور دکان پر پہنچ گیا، جہاں وہ ایک ملازم کی حیثیت سے کام کرتا تھا۔

پولیس کے مطابق قتل کے بعد ملزم نے اسما کی لاش کو وہی کھیتوں میں چھوڑ دیا، کھیت 16 کنال کی اراضی پر بننے ہوئے ہیں، جہاں سے پولیس نے خون کے ایک قطر کی تلاش کے بعد اس کیس کو حل کیا۔

بچی کے قبل کے بعد ملزم نے اپنے دوست کو اعتماد میں لیا اور روپوش ہوگیا، تاہم وہ اپنے دوست سے مسلسل رابطے میں رہا اور اسے بتاتا رہا۔ ملزم کو کھیتوں میں لگے گنے پر خون کے نمونوں سے شناخت کیا گیا ہے، جس کا ڈی این اے ٹیسٹ مثبت نکلا۔

پولیس کے مطابق ملزم بھی اس گلی میں رہتا ہے، جہاں ننھی اسماء رہتی تھی، ملزم ایک ہوٹل میں ڈیلی ویجز پر کام کرتا ہے، تین بجے اس نے بچی کو دکان پر اکیلا کھڑے دیکھا اور اس کا پیچھا کیا۔ اس سے قبل بچی کو اکیلے کھڑے دیکھ کر اس کے چچا نے کہا تھا کہ وہ گھر جائے۔ جس کے بعد بچی دکان پر کچھ دیر رک کر گھر کیلئے جا رہی تھی تو ملزم راستے میں کھڑا تھا، جب بچی گھر جا رہی تھی تو اس نے اس کو دیکھا، بچی نے ملزم سے کہا کہ اسے گنا چاہئے، جس پر لڑکا اسے گنے کے کھیت میں لے گیا جب اس نے دیکھا کہ یہاں کوئی نہیں ہے تو وہ لڑکی کو کھیتوں کے اندر لے گیا، جس کے بعد اس نے زیادتی کی کوشش کی، جس پر بچی نے چیخنا شروع کردیا، اس کے بعد اس نے خوف سے کہیں بچی لوگوں کو بتا نہ دے، اس نے اس کا گلا دبا کر مارنے کی کوشش کی اور اس کا گلا دبا کر مار دیا۔

پولیس کے مطابق کیس کو حل کرنے کیلئے مردان سے 145 سیمپلز لیے گئے تھے، جس کے بعد ایک شخص کا ڈی این اے میچ ہوا۔ ڈی این اے سے متعلق پنجاب حکومت نے کے پی کے حکومت کی مدد کی تھی۔

واضح رہے کہ مردان کے نواحی علاقے گوجر گڑھی سے چار سالہ بچی اسما گھر کے سامنے کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوگئی تھی تاہم بعد میں اس کی لاش گھر کے قریب واقع گنے کے کھیت سے ملی تھی۔ 4 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا۔ سماء

Minor Girl Killed

Asma Murder Case

Mardan Murder case

Tabool ads will show in this div