کالمز / بلاگ

گود لئے بچے آخر کس کی اولاد ؟

’’امی آج مجھے بتا ہی دیں کہ میں آپ کا بیٹا بھی ہوں یا نہیں ؟ مجھے تو سب یہی کہتے ہیں کہ میں آپ کا اور بابا کا بیٹا نہیں ہوں بلکہ آپ نے مجھے گود لیا ہے اور آپ دونوں مجھے بالکل بھی پیار نہیں کرتے ۔ ‘‘ ہمیشہ تو نہیں لیکن کم و بیش یہی الفاظ زیادہ تر گود لئے بچوں کے ہوتے ہیں۔

ایسے بچوں کو خواہ یتیم خانوں سے لیا جائے یا کسی رشتے دار کے بچے کو لے لیا جائے اس بچے سے کب تک چھپایا جا سکتا ہے کہ وہ ان والدین کی جو انھیں ایڈاپٹ کرتے ہیں کی پہلی چوائس نہیں ہوتے اور اگر ان کی پہلی چوائس بھی ہوتے ہیں تو صرف تب تک جب تک کہ شادی شدہ جوڑا بے اولاد ہو یا جب تک ان کا اپنا کوئی بچہ نہ ہوا ہو ۔

دیکھا جائے تو قصور وار معاشرہ ہوتا ہے جو بے اولاد خواتین و حضرات کو جینے نہیں دیتا  کہ کوئی بچہ  ہی گود لے لو کیونکہ کوئی تو تمھارا نام لیوا ہو ، اسی طرح ایک خاندان میں رشتے دار خواتین جن کے ہاں بچے ہوتے ہیں ان کو اپنے ہی خاندان میں بے اولاد جوڑوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔

میں نے اکثر گھرانوں میں دیکھا کہ بچے یہ کہتے ہیں کہ ہمیں تو ابو نے پھوپھو کو دے دیا تھا کیونکہ پھوپھو بے اولاد تھیں  ، ایسی صورت میں صرف والد ہی وعدے کرتے ہیں  اس ماں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تم نے اتنی تکلیف سے یہ بچہ پیدا کیا ہے اور تمھارا شوہر اپنی بہن کی گود بھر رہا ہے  کیا تم اسکی جدائی برداشت کر لوگی ؟ ۔

غربت بھی بچوں کے  گود لئے جانے کا سبب بنتی ہے کہ جناب بچوں کو امیر گھرانوں کو دے دیتے ہیں  کہ ہم تو ان کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھلا سکتے۔ ہمارے تو آٹھ آٹھ بچے ہیں ہمارے بچے کی کوئی ذمہ داری لے لے تو ہم دنیا پر ہی جنت میں آجائیں گے ۔ یہ اسی معاشرے کی باتیں ہیں ، یہیں کے قصے ہیں  ، اس سب میں اس بچے کے دل ٹوٹنے کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا جسے اسکے اصل ماں باپ بی پیار نہیں کرسکتےجو اپنے اصل ماں جایوں کے ساتھ زندگی کی خوشیوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا  ، جو بڑا ہونے پر لوگوں کے طعنے سنتا ہے۔

اسلام کے مطابق بچے اچھی تعلیم و تربیت کی غرض سے گود لئے جا سکتے ہیں تاہم اگر بچہ دو سال سے کم ہے اور گود لئے جانے والی عورت نے اسے دودھ پلایا ہے تو وہ اسکا رضاعی بیٹا بن جائے گا لیکن بصورت دیگر وہ بڑا ہونے پر نامحرم ہی رہے گا اور اسے وراثت بھی حقیقی والدین کی طرف سے ملے گی ۔ ایسے بچے جتنے کم عمر ہوں گے اتنا ہی اچھا ہوتا ہے کیونکہ وہ نئے ماحول سے جلد مانوس ہو جاتے ہیں ۔

ہمارے ہاں گود لئے بچوں کی مثالیں موجود ہیں ، ایدھی سینٹر میں گمنام بچوں کے لئے پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں  ، ایسے بچے جو غیر فطری تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں ان کے لئے جھولا پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے اور اب تک سولہ ہزار بچوں کی زندگیاں محفوظ بنائی گئی ہیں ۔

ایدھی سینٹرز سمیت کئی ادارے جو بچوں گود د یتے ہیں ان کے چند اصول و ضوابط بھی  ہیں کہ میاں بیوی کی شادی کو دس سال ہوئے ہوں اور کیا گود لینے والے ماں باپ اتنی حیثیت کے حامل ہیں کہ وہ اس بچے کی اچھی پرورش کر سکتے ہیں ؟ اسی طرح چھ ہزار سے کم تنخواہ والے خواتین اور حضرات کو بچہ نہیں دیا جاتا اور بچہ دینے کے بعد پانچ سال تک اسکی خبر گیری بھی کی جاتی ہے ۔

بالی وڈ کی بھی کئی اہم شخصیات نے بچوں کو گود لیا ہے ان میں سے کئی کی اپنی اولادیں بھی موجود ہیں ان میں متھن چکرورتی ، روینہ ٹنڈن،  سشمتا سین ، سلمان خان کے والد سلیم خان وغیرہ شامل ہیں  ۔ پاکستان میں کرکٹر احمد شہزاد نے لاوارث اور بے سہارا بچوں کی کفالت کے لئے پندرہ بچوں کو گود لیا ہے تاہم  یہ بچے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں ہی رہیں گے ۔

گود لئے بچے محبت کے بھی بھوکے ہوتے ہیں اگر ان کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک کیا جائے تو یہ اپنے سگے ماں باپ سے بڑھ کر ان سے محبت کرتے ہیں جو ان کو گود لیتے ہیں ۔

دنیا کے کئی ممالک میں بچوں کو گود لینے سے متعلق سخت قوانین بنائے گئے ہیں  ، کینیڈا میں تو ایک دفعہ یہ قانون سازی کی گئی تھی کہ کوئی مسلم بچہ گود نہیں لیا جا سکتا تھا ۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریائی معاشرے میں نسل ،حسب و نسب اور خاندان کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اسی لئے یہاں بچے گود نہیں لئے جاسکتے ۔ کوریا میں زیادہ تر بچے غیر شادی شدہ افراد سے پیدا ہوئے ہیں ۔جو اب یتیم خانوں میں باقی ماندہ زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ۔

بچوں کو گود لئے جانے کا عمل اچھا ہے یا برا اس سے قطع نظر اس عمل میں کوشش یہ ہونی چاہیے کہ بچے کی اپنی ہستی فراموش نہ ہونے پائے اور معاشرے کو تمام کمپلیکسسز سے آزاد فرد مل سکے ۔

 

PARENTS

CHILD

Tabool ads will show in this div