ڈاکٹر شاہد مسعود کون ہے؟

پچھلے دنوں میں فیس بک کی ٹائم لائن اسکرول کر رہا تھا تو ایک ویڈیو سامنے آئی میں جس میں ایک بزرگ آدمی یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ علامہ اقبال اُن کے خواب میں آئے اور انہوں نے اُس بزرگ کو صدر پاکستان بنا دیا ہے، قرآن پا ک کی سورتیں سنی ہیں اور حلف لے لیا ہے ، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔!!! اب ایک ذی شعور انسان کیا کرے گا، ہنسے گا اور آگے بڑھ جائے گا۔

ایسے ہی ایک بزرگ ہمارے میڈیا میں بھی ہیں، جن کا نام ہے ’’ڈاکٹر‘‘ شاہد مسعود۔ آج کل’اپنی خبر‘ کہ زینب کیس کے مجرم عمران کا تعلق بین الاقوامی مافیا سے ہے اور اُس کے 37 اکاؤنٹس ہیں وغیرہ کی بنیاد پرمیڈیا میں چھائے ہوئے ہیں ۔یہ موصوف ہیں کون؟؟

ڈاکٹر صاحب پروفیشن سے فزیشن ہیں جن کے پاس جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی ڈگری جبکہ رائل کالج آف سرجن انگلینڈ کی فیلو شپ ہے۔ ان کی والدہ تدریس کے شعبےسے وابستہ رہی ہیں جبکہ ان کے والد ایک سول انجنئیر تھے، جنہوں نے 15 سال کے لگ بھگ سعودیہ عرب میں خدمات سر انجام دی ہیں۔ان کا بچپن طائف اور ریاض میں گزرا ہے ۔

 نامور صحافی پی جے میر نے نصر اللہ ملک صاحب کے پروگرام میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہد کو وہ اس شعبے میں لائے۔ (میر صاحب، اے کی گناہ کر بیٹھے ہو) موصوف نے کبھی بھی نیوز روم میں نہیں جھانک کردیکھا ہوگا لیکن ’اسکرین سائنس‘کوگھول کر پیا ہوا ہے اور آج تک اسکرین سے چمٹ کر بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے 2001 ء میں میڈیا کو جوائن کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان میں نجی میڈیا نو مولود تھا اور نجی چینلز بھی گنتی کے تھے۔ اپنے تعلقات اور بلاشبہ شاندار قسمت کی بنیاد پر موصوف ایک چینل کے سینئر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر تعینات ہوئے۔ اس کے بعد ان کا یہ دعویٰ سامنے آیا کہ انہوں نے انٹرنیشنل ریلیشنز اور ڈیفنس اسٹڈیز میں  بھی ڈگری حاصل کی ہوئی  ہے۔اسی چینل پر انہو ں نے اپنا پروگرام ’’ویو ز آن نیوز‘‘ شروع کیا۔ 2005 ء میں ڈاکٹر صاحب کو ایک بین الاقوامی میڈیا کی جانب اسکالر شپ ملا اور اس کے بعد 2007 ء میں ڈاکٹر صاحب نے ایک اور نجی چینل کو گروپ ایگزیکٹیو کے طور پر جوائن کیا۔ یہاں پر انہوں نے اپنا پروگرام ’’میرے مطابق‘‘ شروع کیا اور شہرت کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کر دی۔ اس کے بعد 2008ء میں ڈاکٹر صاحب کو 2 سالہ کنٹریکٹ پر پاکستان کے سرکاری نیوز چینل کا چیئر مین اور منیجنگ ڈائریکٹر لگا دیا گیا۔انہوں نے مبینہ طورپر سنجیدہ اختلافات کی بنیاد پر وہاں سے استعفیٰ دیا او ر اُس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر خاص مقرر ہو گئے جس کا عہدہ وزیر کے برابر تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی وی سے اُن کی تنخواہ ساڑھے 8 لاکھ روپے اور مراعا ت تھی۔ اس کے بعد ڈاکٹر صاحب چھوٹی موٹی اسکرینوں پر چلے گئے تاہم میڈیا میں بطور تجزیہ کار نظر آتے رہے۔2014 ء میں انہوں نے اُس نجی چینل کو بطور مہمان تجزیہ کار جوائن کیا جس کے پروگرام ’’لائیو ود ڈاکٹر شاہد مسعود‘‘ سے انہوں نے حالیہ ’خبر ‘ بریک کی جس کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور وہ آج کل زیر بحث ہیں۔

نصر اللہ ملک صاحب نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے ساتھ کام کیا ہوا ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک کالم میں یہ دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود نماز ، روزے کا عملی باغی انسان ہے ۔انہوں نے مزید لکھا کہ جب آزاد کشمیر میں تباہ کن زلزلہ آیا تو رمضان المبارک مہینے میں یہی موصوف سارادن روزےکےدعوے کے ساتھ صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے پر عوام سے داد و تحسین پاتے تھے اور جونہی موقع ملتا تھا تو اپنی ائیر کنڈیشنڈ کار میں رکھے ٹھنڈے مشروبات سے تسکین پا کر سب کا مذاق اُڑاتے اور کہتے  کہ کیسے بیوقوف ہیں جو میرے روزہ دار ہونے کا یقین کر لیتے ہیں۔یہ وہی صاحب ہیں جن کو قیامت کے حوالے سے مذہبی ڈاکومینٹریاں کرنے پر بھی شہرت حاصل ہوئی تھی۔

میں ڈاکٹر صاحب کے بارے میں اور بہت کچھ نہ صرف جانتا ہوں بلکہ لکھ بھی سکتا ہوں تاہم تنگی داماں اس کی اجازت نہیں دیتی ۔ اوپر بیان کردہ ماضی میں کہیں بھی اُن کا صحافت کا تجربہ ثابت نہیں ، ہاں اسکرین اینکر وہ رہے ہیں اور ریٹنگ لیتے رہے ہیں۔ اب انہوں نے جو دعویٰ کیا ہے ، وہ صحافت کے بنیادی اصولوں کے بالکل خلاف ہے اور سپریم کورٹ نے بھی اس کا نوٹس لے لیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ اگر ان کا دعویٰ غلط ثابت ہو جائے ، جو کہ میرا یقین ہے کہ عقلی بنیادوں پر ہو جائے گا، تو سپریم کورٹ ہی قوم کو ایک ’اسکرین انٹرٹینر‘ سے نجات دلوا دے جو ایک عرصہ سے اسکرین پر صحافی کے روپ میں براجمان ہے اور اپنی غلط پیش گوئیوں سے قوم کو گمراہ کر رہا ہے ۔ صحافت ایک ذمہ دار پیشہ ہے جو کہ اس قسم کے مسخروں کی وجہ سے بدنامی کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے ۔

zainab murder case

Shahid Masood

Tabool ads will show in this div