بیوی نہیں دوست بنائیے

دنیا میں دو ہی ایسے رشتے ہیں جن کا انتخاب انسان اپنی ترجیحات اور خواہشات کے مطابق خود کرتا ہے. ایک اپنے لیے مخلص دوست کا انتخاب جبکہ دوسرا جیون ساتھی کا چناؤ ہے۔ دونوں ہی رشتوں میں محبت،خلوص،اعتماد اور ذہنی ہم آہنگی کا ہونا اِس کی بنیادی شرائط میں شامل ہے۔ اِن کے بِنا دونوں رشتے ریت کے اُس گھروندے کی مانند ہیں جسے چاہے کتنا ہی خوبصورت و دلکش بنالیا جائے لیکن بالآخر اسے ڈھیر ہی ہونا ہے۔

ایک اچھے دوست کا انتخاب کرتے وقت یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ کا شریکِ حیات بھی ٹھہرے۔ لیکن شریکِ حیات کا انتخاب کرتے وقت اِس بات کا یقین ہونا ضروری ہے کہ وہ آپ کا دوست ہے کہ نہیں۔ دوست کا انتخاب کرتے وقت ہوسکتا ہے ہم اِن بنیادی شرائط کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوں۔ لیکن بدقسمتی سے جیون ساتھی کے چناؤ میں ہم اِن شرائط کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ اُس وقت ترجیحات میں صرف وصرف جنس مخالف کی قربت حاصل کرنا شامل ہوتا ہے. یہی وجہ ہے کہ قربت حاصل ہونے کے بعد ایک دوسرے سے اکتاہٹ ہونے لگتی ہے جوکہ جلد یا بدیرعلیحدگی پر منتج ہوتی ہے۔

اِس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو شادی کا بنیادی فلسفہ ہی معلوم نہیں ہوتا اور شادی کرلیتے ہیں۔ شادی اپنے ہی جیسے کسی دوسرے انسان کے ساتھ خوشیوں سے بھرپور ایک شاداب زندگی گزارنے کا نام ہے۔ لہذا اِس بندھن میں بدھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو پہچانا جائے۔ اپنی خوبیوں اور خامیوں کو جانچا جائے۔ ادراک ہونے کہ بعد اپنے ہی جیسے خوبیوں اور خامیوں کے حامل انسان کا انتخاب کیجئیے تاکہ زندگی کے طویل سفر میں وہ آپ کا مضبوط سہارا اور ایک اچھے مخلص بااعتماد دوست کے طور پر ہمیشہ آپ کا ساتھ نبھائے۔

یاد رکھیے آپ کی بیوی نے آپ سے شادی نہ تو بچے پیدا کرنے کےلیے کی ہے نہ اُنھیں پالنے کی غرض سے اور نہ ہی کسی قسم کی خدمت گار کے طور پر وہ آسمان سے آپ کےلیے اتاری گئی ہے۔ وہ تو آپ کی زندگی میں آپ کا ساتھ دینے آئی ہے نہ کہ آپ کی ماتحت بننے. اُسے بھی بالکل آپ ہی کی طرح جینے کا حق ہے. اسے بھی آپ کی طرح گھر سے باہر جانے کےلیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ کیا پہنے کیا نہ پہنے جسم کو کتنا فیصد ڈھانپے کتنا فیصد کھلا چھوڑے یہ سب اُس کی خود کی مرضی پر منحصر ہے۔ وہ اپنی زندگی کو جس انداز میں جینا چاہے اُسے جینے کا پورا حق ہونا چاہیے۔ اُسے مکمل آزادی دیجیے۔ آپ کی بیوی آپ کی باندی نہیں ہے اور نہ ہی وہ آپ کےلیے ہانڈی چولہا کرنے آئی ہے۔ وہ آپ کے ساتھ جینا چاہتی ہے لہذا آپ بھی اُس کی زندگی میں رنگ بکھیریں۔ ناکہ اُسے اپنی ضرورتیں پوری کرنے کا ذریعہ سمجھیں۔

انسان کی زندگی میں ایک سے زیادہ دوست ہوتے ہیں لیکن وہ سب سے زیادہ وقت اُسی کے ساتھ گزارتا ہے جو بالکل اُس جیسا ہوتا ہے۔ بیوی کو ماتحت نہیں اپنا سچا دوست سمجھیے۔ اُس کے ساتھ بالکل اسی طرح وقت بِتائیے جس طرح آپ باہر اپنے سب سے اچھے دوست کے ساتھ خوش گپیوں میں وقت گزارتے ہیں. اُس کے ساتھ اچھا وقت گزاریں، اُسے ہنسائیں، اُس کے ساتھ باہر گھومنے جائیے۔ اُس کے ساتھ مستقبل کی پلاننگ کیجیے۔

یقین جانیے اِن تجاویز پرعمل کرنے کے بعد آپ زندگی سے کبھی مایوس نظر نہیں آئیں گے بلکہ ایک پرکیف اور پرسکون زندگی کے مزے لے سکیں گے لیکن اِس کے لیے ضروری ہے کہ آپ بیوی کو باندی نہیں دوست بنائیے۔

husband and wife

marital relations

Tabool ads will show in this div