پاکستان میں ڈی این اے ڈیٹا بنک موجود نہیں، شواہدضائع ہوجاتےہیں

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2018/01/FSD-DNA-DATA-BANK-PKG-23-01.mp4"][/video]

لاہور: پاکستان میں ڈی این اے ڈیٹا بنک ہی موجود نہیں،باربار ٹیسٹ وقت اور پیسے کا ضائع ہے۔ پروفیسر فرانزک میڈیسن نے حکومتی نااہلی کا پردہ اٹھا دیا۔

ڈی این اے ٹیسٹس تو خوب ہو رہے ہیں ،مگر ان کا ڈیٹا کہاں جمع ہو رہا ہے؟پاکستان میں ڈی این اے ڈیٹا بنک ہی موجود نہیں۔فیصل آباد میں پروفیسرآف فرنزک میڈیسن ڈاکٹرخرم سہیل راجا نےانکشاف کردیا۔

ڈیٹا بنک نہ ہونے کے باعث جرائم پیشہ افراد کابار بار ڈی این اے کرنا پڑتا ہے،جو پیسے کے ساتھ ساتھ وقت بھی ضائع کرتاہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فرانزک کے ڈاکٹرز کو تفتیشي ٹیم میں شامل کرنے سے کیسز جلد حل ہوسکتے ہیں۔ سماء

HEALTH

Tabool ads will show in this div