ایڈیٹر نیوز ویک پاکستان کی متنازعہ ٹوئٹس،لوگوں کا سخت ردعمل اور غصہ

کراچی : نیوز ویک پاکستان کے ایڈیٹر کی جانب زینت قتل کیس پر متنازعہ ٹوٹتس کیے جانے کے بعد امریکی جریدے نیوز ویک کی جانب سے واضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نیوز ویک پاکستان کے ایڈیٹر فصیح احمد کی جانب سے کی گئی متنازعہ ٹوئٹس پر میگزین کی جانب سے واضاحت کا انتظار ہے۔

امریکی جریدے نیوز ویک کا پاکستانی نیوز ویک ایڈیشن کے ایڈیٹر کی جانب سے دئیے گئے بیان سے کوئی تعلق نہیں، نہ وہ ادارے کی پالیسی کے مطابق ہے۔ فصیح احمد کے بیانات ان کی ذاتی رائے ہے، تاہم ان تمام بیانات اور ٹوئٹس کے تناظر میں نیوز ویک پاکستان اور امریکی جریدے نیوز ویک کے ساتھ اپنی تمام تر تعلق کا ازسر نو جائزہ لے گی۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ نیوز ویک پاکستان کے ایڈیٹر فصیح احمد کی جانب سے زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد متنازعہ ترین ٹوئٹس کرکے ہمارے معاشرے کا اصل اور بھیانک چہرہ دکھایا گیا تھا، تاہم طنزیہ انداز میں پیش کی گئی ان ٹوئٹس کو کچھ لوگوں کی جانب سے پذیرائی تو بڑی تعداد میں لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔

 

اپنی متنازعہ ٹوئٹس میں فصیح کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ زیادتی کوئی نہیں بات نہیں،ہم کسی طور اس چیز کو ختم نہیں کرسکتے۔ تاہم اکثر یہ معاملات ایک شاندار فن کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

 

فصیح کی متنازعہ ٹوئٹس کے بعد ان کے اکاؤنٹ سے ایک ایسی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا گیا، جس میں کہا گیا تھا کہ نیوز ویک پاکستان کے ایڈیٹر قانون کے اندھے انصاف پر دلبرداشتہ ہوگئے ہیں یا غالباً کچھ زیادہ پی گئے ہیں۔

 

جس کے بعد لوگوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا تو اکثر ایسے بیانات دینے کے بعد سامنے آتا ہے کہ شاید ان کا اکاؤنٹ ہیک ہوگیا ہے۔

اس تمام تناظر میں یہ بات کہنا مشکل ہے کہ یا تو فصیح کے طنزکا طریقہ غلط تھا یا پھر ہمارے معاشرے میں ایسی چیزوں پر بات کرنا اب بھی معیوب سمجھا جاتا ہے، کہ جس پر لوگوں کی بڑی تعداد نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔

 

ایڈیٹر نیوز ویک پاکستان فصیح احمد نے گزشتہ روز زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم کی گرفتاری پر پے در پے متعدد متنازعہ ٹوئٹس کی تھیں، جس میں انہوں نے بچی کے ساتھ پیش آنے والے سفاک درندگی پر مذاق اڑایا تھا۔

     

لیکن لچھ لوگوں نے بہت ہی بھونڈے انداز میں تبصرے کیا اور اس بھی زیادہ بھونڈے الفاظ میں لوگوں نے اس کا دفاع کیا۔

 

PUNJAB

ATC

IMRAN

MINOR GIRL

SERIAL KILLER

Justice for Zainab

postmortem report

Justice4Zainab

Forensic Laboratory

Geofencing

imran ali

Tabool ads will show in this div