پولیس ہمارا ہی ادارہ ہے،اسے عزت دیں، اس کا ساتھ دیں
راؤ انوار کے جعلی پولیس مقابلوں نے جہاں راؤ انوار کی برائے نام کارکردگی سے پردہ ہٹایا، وہی محنتی ، ایماندار اور فرض شناس پولیس اہل کاروں کے کردار اور کارکردگی پر بھی بد نما دھبہ لگا دیا ہے۔ اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرنے والے اہل کار اب یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ کیا ان کو بھی اپنے ایمانداری کے ثبوت پیش کرنا پڑیں گے؟؟۔ زرا سوچیں۔
میڈیا اور عوام میں کی جانب سے راؤ انوار کی ہنڈیا بیچ چوراہے پر پھوٹنے کے بعد ایماندار افسران بھی اپنی سچائی کی گواہیاں دیتے پھر رہے ہیں، تاہم ایماندار اور فرض شناس افسران نے اس بات کا بھی گلہ کیا ہے کہ میڈیا پر تمام پولیس افسران کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔

وقت کی ضرورت کہیں یا اپنی کردار شناسی کی گواہی کے نامور اور اچھی شہرت رکھنے والے افسران بھی ڈیوٹی پر جاتے ہوئے عجیب مخمصے میں مبتلا ہیں۔ ایس ایس پی عمر شاہد حامد نے بھی اسے معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے ٹوئٹر کا سہارا لیا اور نقیب اللہ محسود کی ہلاکت پر لب کشائی کر ڈالی۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے ایس ایس پی عمر شاہد حامد نے دیگر ایماندار پولیس افسران کے خدشات، ان کے ذہنوں میں جنم لینے والے سوالات اور میڈیا میں پولیس کے خلاف ایک مخصوص انداز میں رپورٹنگ پر کہنا تھا کہ تمام پولیس افسران برے نہیں ہوتے اور ایک فرض شناس افسر کی حیثیت سے میں اور میرے ماتحت اہل کاروں کی نظر میں بھی ملیر پولیس مقابلہ کسی طور جائز نہیں تھا۔

ٹوئٹر پر نشست سنبھالتے ہوئے ایک سیریز آف ٹوئٹ اپ لوڈ کرتے ہوئے عمر شاہد حامد نے کہا کہ منگھوپیر تھانے میں نقیب اللہ محسود کی المناک ہلاکت اور قتل پر ایک غیر روایتی نشست رکھی گئی، جس میں میرے ماتحت کام کرنے والے اہل کاروں نے چند نہایت اہم باتوں کی جانب توجہ مبذول کرائی، جس کا یہاں ذکر کرنا ضروری ہے۔

عمر شاہد کا کہنا تھا کہ پولیس میں موجود کوئی اہلکار بھی ملیر مقابلے کا تحافظ اور اس کا دفاع نہیں کرے گا، لیکن یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس واقعہ کے بعد بننے والی صورت حال سے اہل کار یہ محسوس کرتے ہیں کہ نقیب اللہ کی ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس انہیں کمزور کردیں گی۔

اس موقع پر ایک اہل کار نے ان ادوار کا بھی ذکر کیا اور اپنے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دور بھی زیادہ پرانا نہیں کہ جب منگھوپیر تھانے کی حدود میں کالعدم طالبان کا اثرو رسوخ تھا اور پولیس اہل کار تھانے کے باہر قدم رکھنے سے ڈرتے تھے۔ اس عرصے میں ایک سال کے دوران ایک ہی تھانے کے 24 پولیس افسران کو قتل کیا گیا۔

ایسے موقع پر جب شہر میں کالعدم طالبان نے اپنی دہشت جما رکھی تھی، یہ اسی پولیس کے دلیر جوان تھے، جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر اس شہر کا امن لوٹایا۔ سینے پر گولیاں کھاتے ان ہی افسران نے کالعدم طالبان کو اس شہر سے اکھاڑ پھینکا اور کالعدم طالبان کے زیر تسلط اس شہر کی سڑکوں کو اس شہر میں بسنے والوں کو امن کے ساتھ واپس کیں۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ہم اپنے محکمہ میں کبھی کسی کالی بھیڑ کو برداشت نہیں کریں گے۔ تاہم اس ایک جعلی پولیس مقابلے کے بعد ہماری ایمانداری اور کارکردگی کو تباہ نہ کیا جائے اور سب پولیس والوں کو ایک نظر سے نہ دیکھا جائے۔
ایک بار پھر ملیر پولیس مقابلے کا ذکر کرتے ہوئے عمر شاہد حامد کا کہنا تھا کہ نقیب واقعہ اور پولیس کی دیگر کاردکردگیوں کو الگ الگ تناظر میں دیکھا جائے۔ ایک پولیس اہل کار کی اولین ذمہ داری اور فرض ہے کہ وہ معاشرے میں قانون کی عمل داری کو یقینی بنائے۔

ہمیں میڈیا کے ساتھ مل کر ایک ایسے متوازن اور مثبت معاشرے کو پروان چڑھانا ہے جہاں ایک پولیس اہل کار ڈیوٹٰی پر جاتے ہوئے اور صیحیح اقدام اٹھاتے ہوئے اس ڈر اور خوف میں مبتلا نہ رہے کہ وہ اس کے اچھے کام کو بھی جعلی ، غلط اور گناہ کی ںظر سے دیکھا جائے گا۔ اس کی ایمانداری پر سوالیہ نشان نہیں لگایا جائے گا اور اس کی ہر ہر کارکردگی کو قانون کے ترازو میں نہیں تولا جائے گا۔ وہ سر فخر سے اٹھا کر اور بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنے فرائض کو انجام دینا چاہتا ہے۔ سماء
On the tragic killing of #NaqeebMehsud: held an impromptu darbar in Mangopir police station and my men highlighted some points that I think are worth highlighting....
— Omar Shahid Hamid (@omarshamid) 22 January 2018
...While no one in the police force will for a single minute defend or justify whatever happened in Malir, it is also pertinent to mention the genuine concerns of my constabulary, who fear that the media backlash created by the killing of Naqeebullah Mehsud will weaken them...
— Omar Shahid Hamid (@omarshamid) 22 January 2018
...the constables reminded me that there was a time not so long ago when hey were unable to step outside Mangopir police station because the Taliban were dominant. 24 officers were killed in one year in one police station....
— Omar Shahid Hamid (@omarshamid) 22 January 2018
...and it was he police who fought back and won back Karachi's streets for its citizens. Of course we should never condone any black sheep in our department but also not forget the genuine apprehension of our men that now that the media has become hyper critical of the police...
— Omar Shahid Hamid (@omarshamid) 22 January 2018
...that now that the media has become hyper critical of the police that their every action will be prosecuted. I would request that this aspect also be kept in mind when debating the Malir issue. Our police constables represent the writ of law and society....
— Omar Shahid Hamid (@omarshamid) 22 January 2018
...They should not go to their jobs worried about the consequences of their actions.
— Omar Shahid Hamid (@omarshamid) 22 January 2018
تبصرہ :
یقیناً ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، یہاں اس بات کی قوی ضرورت ہے کہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فوری فراہمی کیلئے پولیس کے ہاتھوں کو مضبوط کیا جائے اور کالی بھیڑوں سمیت کسی بھی صف میں موجود ملک دشمنوں کا قلع قمع کرنے کیلئے اپنے اداروں خاص کر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہر صورت بھرپور ساتھ دیا جائے اور جو اچھی چیز ہے اس کی ضرور تعریف کی جائے، ایک برائی تمام اچھائیوں پر حاوی نہیں ہونی چاہیئے۔