تعلیم کا ستیاناس

جدت کے بے لگام گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ہم کہاں جارہے ہیں؟ پاتال کی طرف یا کمال کی طرف؟ تعلیم انسان کا زیور ہے، حسن ہے،خوبصورتی  ہے مگرہم نے اس کی شکل کو کس طرح بگاڑ رکھا ہے۔ چاند کی چکنی مٹی کو چکھنے کی خواہش ہے، ستاروں کے بیچ رہنے کی تمنا ہے اور خلا کی سیر کو بھی دل کررہا ہے مگر افسوس کہ محنت سے بھی جان چھڑاتے ہیں۔

ملک میں پھیلی انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا ہو، قصورجیسے دلخراش سانحے سے معاشرے کو پاک کرنا ہو، ترقیافتہ قوموں کی ہمسری کرنی ہو، سائنس و ٹیکنالوجی کے سفر میں جدید دنیا کا ہمسفر بننا ہو تو اس کیلئے ضروری ہے کہ معاشرہ علم وآگہی کے نور سے منورہو۔ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ جس کی فوج دنیا کی گیارہویں بڑی فوج ہے۔ سی پیک جیسے میگا پراجیکٹ سے مملکت خداد کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ سوہنی دھرتی ہرموسم میں سونا اگل رہی ہے، آب و ہوا ایسی کہ سب رشک کریں۔ مگر ہم ایک میدان میں مات کھا رہےہیں۔ اور وہ ہے ہمارا تعلیمی نظام۔

کسی بھی معاشرے میں تعلیمی درسگاہیں اسلئے قائم کی جاتی ہیں تاکہ ملک کے مستقبل کو تابناک بنایا جائے۔ نئی نسل کو سائنسی اور سماجی علوم سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ معاشرے کیلئے بہترین سرمایہ ثابت ہو۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ نہ تو ہمارا تعلیمی نظام ایسا ہے جس کے ذریعے ہم جدید دنیا کا مقابلہ کرسکیں اور نہ ہی نصاب۔

سابق صدر پرویزمشرف کو کوئی لاکھ برا بھلا کہے مگر اس میں شک نہیں کہ تعلیم کے میدان میں ان کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ 2002 میں اعلیٰ تعلیم میں انقلاب لانے کیلئے ہائرایجوکیشن کمیشن (HEC) کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا مقصد اعلیٰ تعلیم عام کرنا، ملکی آبادی کے لحاظ سے یونیورسٹیوں کی تعداد میں اضافہ کرنا اور عالمی معیار کی تعلیمی پالیسی بنانا تھا۔ قیام پاکستان سے لیکر دوہزار دو تک اور پھر دوہزار دو سے لیکر آج تک تاریخ کی ورق گردانی کریں اور دیکھیں کہ گزشتہ پندرہ برس میں پاکستان نے اس حوالے سے کتنی ترقی کی ہے۔

قیام پاکستان کے وقت یہاں صرف چند ہزار سکول وکالجز اور صرف ایک یونیورسٹی (جامعہ پنجاب) تھی جبکہ آج ملک بھر میں 103 سرکاری اور 80 کی لگ بھگ نجی یونیورسٹیاں ہیں۔ جن سےسالانہ لاکھوں طلباء فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ ویسے کہنے کی حد تک تو تعلیم عام ہوئی ہے لیکن کاش کہ ہم ’مقدار‘ کے ساتھ ساتھ ’معیار‘ کو بھی پرکھتے۔ آپ 183 جامعات کی فہرست اٹھا کر دیکھ لیں اور عالمی درجہ بندی کی رپورٹ دیکھ لیں۔۔ کیا کوالٹی ایجوکیشن میں ہمارا کہیں نام موجود ہے؟۔

دنیا بھر میں جن چھ سو یونیورسٹیوں کی درجہ بندی کی گئی ہے ان میں پاکستان پہلی سو تو دورکی بات دوسو میں بھی جگہ نہیں بنا سکا۔ ہم دنیا کو کیسے باور کرائیں کہ ہمارا تعلیمی نصاب جدید تقاضوں کے ہم آہنگ ہے، ہماری ڈگری بہت کارآمد ہے۔ یہاں بے شک آئین اسٹائن نہ پیدا ہوتے ہوں مگر عبدالسلام جیسے نابغہ روزگار تو جنم لیتے ہیں (یہ الگ بات کہ انہیں بے توقیری کے ساتھ دیس نکالا کردیا گیا تھا)۔ ہم لاکھ چیخیں اور چلائیں مگر دنیا نہیں مانے گی کیونکہ دنیا خواہش و خیالات پر نہیں حقائق پر چل رہی ہے اور یہی حقیقت ہے کہ ہم تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی جانب گامزن ہیں۔

سی ایس ایس میں پاس ہونے والے امیدواروں کی فہرست اٹھالیں، ایم فِل ، پی ایچ ڈی کرنے والے دانشوروں کی دانش پرکھ لیں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ تعلیمی میدان میں تنزلی کی ایک وجہ شاید ہماری سیاست بازی بھی ہے۔ پاکستان میں حکومت بدلتی ہے تو ساتھ ہی پالیسیاں بھی ردی کی ٹوکری میں پھینکی جاتی ہیں۔ کوئی مادری زبان، کوئی قومی زبان تو کسی کو گوروں کی زبان (انگریزی) میں ترقی نظر آرہی ہے۔۔ ایسے میں ہم آدھے تیتر اور آدھے بٹیر رہ جاتے ہیں۔

دوسری بڑی اہم وجہ ہمارے ہاں تحقیق نہ کرنے کا وطیرہ ہے۔ میدان چاہے سائنس و ٹیکنالوجی کا ہو، سماجی علوم کا ، ادب ، آرٹ یا پھرموسیقی کا، تحقیق سے ہی تخلیق میں نکھار آتا ہے۔ لیکن جہاں تحریک پر جمود غالب آجائے، ذہنی پختگی پر ذہنی پسماندگی راج کرنے لگے تو وہاں ریسرچ کے دروازوں پر تالے پڑتے ہیں اور انہی تالوں پر رفتہ رفتہ اتنی زنگ لگ جاتی ہے کہ وہاں نئے خیالات کی کرنیں پہنچ نہیں پاتیں۔

تعلیمی زبوں حالی سے بچنا ہے تو اس کیلئے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنا ہوگی۔ تعلیمی انقلاب برپا کرنا ہوگا۔ ایچ ای سی سمیت پالیسی ساز اداروں، ماہرین تعلیم اور ہمارے حکمرانوں کو سوچنا ہوگا۔ 20 کروڑ کے اس ہجوم کو ایک قوم بنانا ہے، پاکستان کی اچھی تصویر دنیا کو دکھانی ہے ، بہترین شناخت پیدا کرنی ہے۔ تو ہمیں ہمارے نظام تعلیم کو از سرِنو دیکھنا ہوگا۔ نصاب کو جدید سانچے میں ڈالنا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ویژن 2025 کے حسین خواب دکھانے والے کیا تعلیم سے متعلق بھی کوئی ویژن دے سکیں گے؟۔

education system

Tabool ads will show in this div