زرداری صاحب کی سیاسی شطرنج پر غلط چال

پاکستان پیپلزپارٹی کی سابقہ چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ایک عام خیال کیا رہا تھا کہ پیپلزپارٹی کے لیے شاید اب اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوجائے. کیونکہ اُس وقت پارٹی میں کوئی بھی ایسی شخصیت موجود نہ تھی جو اِس قدر بااثر ہو کہ پارٹی کو وفاق کی علامت بناکر سب کو ساتھ لیکر چل سکے. محترمہ بینظیر بھٹو کی اولادوں میں سے کسی کی عمر ایسی تھی اور نہ ہی وہ سیاسی طور پر اِس قدر بالغ تھے کہ پارٹی کی قیادت سنبھالیں اور والدہ کے مشن کو آگے بڑھائیں۔

ایسے میں محترمہ بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے پارٹی کے کو شریک چیئرمین کی حیثیت سے اِس ذمہ داری کو اٹھانے کا عظم کیا. اُن کے اِس اقدام سے جہاں پارٹی میں موجود بہت سے دیگر سنیئر رہنماؤں کے ارمانوں کا خون ہوا وہاں سیاسی و عوامی حلقوں میں اُن پر شدید تنقید بھی کی گئی. اُن پر اِس تنقید کی وجہ اُن کا وہ ماضی تھا جو قتل اور کرپشن جیسے الزامات سے لدا پڑا تھا. جن کی پاداش میں انھیں ایک طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑا تھا. اُنکے اِسی ماضی کو دیکھتے ہوئے سیاسی و عوامی حلقے کسی طور زرداری صاحب کو پارٹی قیادت کے لیے موزو تصور نہیں کررہے تھے بلکہ اُن کے اِس اقدام کو پاکستان پیپلزپارٹی کی موت تصور کیا جارہا تھا۔

لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور زرداری صاحب نے سیاست کے میدان میں اپنے سیاسی جوہر دکھانا شروع کئے تو پھر لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ سیاست کے بڑے بڑے چیمپئن اِس سیاسی بازیگر کے آگے ڈھیر تھے. ایک وقت ایسا بھی دیکھنے میں آیا کہ ماضی میں جو سیاسی شخصیات انھیں سیاسی نابلد تصور کررہی تھیں وہ خود سیاسی اکھاڑے سے باہر تھیں. زرداری صاحب کے حامی اور مخالفین دونوں ہی اُن کی مداح سراحی کرنے لگے. کوئی انھیں سیاست میں پی ایچ ڈی کی ڈگری دیتا نظر آیا تو کوئی انھیں سیاست کا بازیگر اور مفاہمت کے بادشاہ جیسے خطابات سے نوازتا دکھائی دیا۔

سیاست کے اِس بازیگر نے محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے فوری بعد ملنے والی حکومت کو انتہائی نامساعد حالات میں ناصرف سنبھالا دیا بلکہ احسن انداز میں حکومتی معاملات کو چلاکر عوام کے ووٹ سے منتخب حکومت کے پانچ سال بھی پورے کرائے. حالانکہ اُس وقت بھی غیر جمہوری قوتیں جمہوریت پر شب خون مارنے اِسی طرح لنگرانداز ہوئی تھیں. جس طرح آج جمہوریت دشمن قوتیں کرپشن کے نام پر ایک منتخب حکومت کا پچھلے چار سالوں سے دھڑن تختہ کرنے کی غرض سے آئے دن لشکر کشی کرتی نظر آتی ہیں. لیکن زرداری صاحب نے بالکل اُسی طرح اِن غیر جمہوری قوتوں کے آگے جھکنے سے انکار کردیا تھا جس طرح آج میاں صاحب ڈٹے ہوئے ہیں. دیکھا جائے تو اُس وقت زرداری صاحب سے لاکھ سیاسی اختلاف رکھنے کے باوجود میاں صاحب نے جمہوریت کے دشمنوں کے مقابلے زرداری صاحب کا ساتھ دیا تھا. میاں صاحب نے اُس وقت بھی پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کرتے ہوئے دھرنے والوں کی مخالفت کی تھی. اور یہی وجہ تھی کہ حکومت اور اپوزیشن کے باہمی تعاون اور اتحاد سے غیر جمہوری قوتوں کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔

لیکن آج اگر ہم دیکھیں تو میاں صاحب کے مقابلے میں زرداری صاحب اپنا وہ کردار نبھانے سے قاصر نظر آتے ہیں. جو کردار میاں صاحب نے زرداری صاحب کے برے وقت میں ادا کیا تھا۔ زرداری صاحب کا میاں صاحب سے لاکھ سیاسی اختلاف سہی لیکن اِسے کسی طور دانشمندی تصور نہیں کیا جاسکتا کہ میاں صاحب کی مخالفت میں اِس قدر آگے نکل جائیں کہ اپنے ہی دشمنوں سے ہاتھ ملا لیا جائے، کم از کم زرداری صاحب جیسی زیرک قیادت سے اتنی بڑی سیاسی غلطی کی امید کسی کو بھی نہ تھی۔

پیپلزپارٹی پہلے بھی اِن شور شرابوں سے ہٹ کر خاموش حکمتِ عملی اپناتے ہوئے اپنا ورک کرتی رہی ہے. کیا یہ بہتر نہ ہوتا اِسی پالیسی کو جاری رکھتے ہوئے زرداری صاحب آئندہ الیکشن میں ن لیگ سے مقابلے کےلیے میاں صاحب کے مخالفین جو دراصل خود اُنکے مخالف ہیں سے سیاسی گٹھ جوڑ کرنے کے بجائے اپنے فطری اتحادی مسلم لیگ ن سے سیاسی اتحاد بناتے یا اپنی الگ سیاسی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے انتخابات کےلیے میدان میں اترتے. جن قوتوں کو ماضی میں زرداری صاحب خود مات دے چکے ہیں اُن ہارے ہوئے لوگوں کو جمع کرکے میاں صاحب کو مات دینے کی امید لگانا کہاں کی عقل مندی ہے؟ اِس کا اندازہ پیپلزپارٹی کی قیادت کو لاہور میں سترہ جنوری کے جلسہ پلس ناکام دھرنے سے بخوبی ہوگیا ہوگا. آٹھ سے دس چھوٹی بڑی جماعتیں ملکر بھی عوام کو جمع کرنے میں بری طرح ناکام نظر آئیں بلکہ پیپلزپارٹی نے اپنی توقیر اور کھوئی. پیپلزپارٹی کی قیادت کو اِس حوالے سے اپنی پالیسی پر ناصرف نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے بلکہ زرداری صاحب کو اپنی اُسی سیاسی بصیرت کو دکھانے کی ضرورت ہے جس کے سبب لوگ انھیں سیاست کا بازیگر مانتے ہیں. ورنہ یاد رکھیں عمران خان طاہرالقادری جیسے غیر جمہوری قوتوں کے آلہ کاروں سے ہاتھ ملانا آپ کی سیاسی بصیرت پر سوالیہ نشان تو چھوڑے گا ہی ساتھ آئندہ الیکشن میں اپنی باری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

ASIF ALI ZARDARI

IMRAN KHAN

tahir ul qadri

Nawaz Shariff

opposition Samaa Blogs

Tabool ads will show in this div