نقیب کوکیوں مارا،معاملہ الجھ گیا،وزیرداخلہ سندھ کانوٹس

کراچی:نقیب کوکیوں مارا،معاملہ الجھ گیا،وزیرداخلہ سندھ نےنوٹس لیتےہوئےڈی آئی جی ساؤتھ کوانکوائری افسر مقررکردیاہے۔

کراچی میں شاہ لطیف ٹاؤن میں جعلی پولیس مقابلےمیں مارے جانے والے نقیب اللہ کے معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ اطلاعات کےمطابق نقیب اللہ کا تعلق وزیرستان سے تھااوروہ 2007 میں کراچی آیا۔ نقیب اللہ کےکزن نےبتایاکہ نقیب حب چوکی پر فیکٹری میں محنت مزدوری کرتاتھا۔نقیب اللہ نے حب چوکی کے قریب ہی گھر کرایے پر لیا تھا۔اس نےدو ماہ قبل سہراب گوٹھ کی مارکیٹ میں دکان کرایے پرلی اوروہ دکان میں کپڑے کا کاروبار کرنا چاہتا تھا۔

اس کوکاروبار کے لیے نقیب اللہ کے بڑے بھائی نے دبئی سے پیسے بھیجنے تھے۔3 جنوری کو سادہ لباس افراد نے نقیب اللہ کومارکیٹ سے اٹھایااور13 جنوری کوشاہ لطیف ٹاؤن میں راؤانوار نے جعلی مقابلہ میں نقیب اللہ کوقتل کردیا۔

اس کے کزن نوررحمان نے مزید بتایاکہ نقیب اللہ کو بہت تلاش کرنے کی کوشش کی۔ تاہم جب سوشل میڈیا پر مقابلہ میں ہلاک لوگوں کی تصویریں دیکھیں تونقیب کوشناخت کیااورڈرتے ڈرتےلاش لینے سرد خانہ گئے۔

کزن نےواضح کیاکہ نقیب اللہ کے کسی تنظیم سے رابطے نہیں تھے۔راؤانوار نے جعلی مقابلہ کے بعد نقیب اللہ کو بیت اللہ محسود کا محافظ بتایا۔اگرنقیب اللہ مجرم تھا تو اسے عدالت میں کیوں پیش نہیں کیا گیا؟۔

اس کےکزن کاکہناتھاکہ نقیب اللہ کی پانچ سال قبل شادی ہوئی تھی اوراس کی 2بیٹیاں اورایک بیٹا ہے۔نقیب کےکزن نےبتایاکہ اس کی تدفین وزیرستان میں ہوگی۔

ادھر وزیرداخلہ سندھ سہیل انورسیال نےمبینہ پولیس مقابلےکانوٹس لےلیا۔ نقیب محسودکے قتل پرڈی آئی جی ساؤتھ انکوائری افسرمقررکردئیے گئیےہیں۔انوارسیال نےہدایت کی کہ شفاف اورغیرجانبدارانہ تحقیقات کي جائيں۔ واضح رہے کہ نقيب محسودکي پوليس مقابلےميں موت پربلاول بھٹونےوزيرداخلہ سندھ کوانکوائري کاحکم دیاتھا۔ سماء

Tabool ads will show in this div