ایف سی کے23اہلکاروں کےقتل پرحکومتی کمیٹی کااحتجاج،مذاکرات کھٹائی میں

Nov 30, -0001

ویب ڈیسک:


اسلام آباد : کلعدم طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے والی حکومتی ٹیم نے طالبان مذاکراتی ٹیم سے احتجاجاً ملاقات سے انکار کردیا۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اجلاس میں احتجاجاً شرکت نہ کرنے کا فیصلہ 23 ایف سی اہل کاروں کی شہادت پر کیا۔


 باوثوق ذرائع کا کہنا ہے آج ہونے والے حکومتی اور کالعدم طالبان مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان اجلاس نہیں ہوگا، حکومت کی رابطہ کار کمیٹی نے بطور احتجاج آج اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا، اس موقع پر حکومتی رابطہ کار کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ امن مذاکرات میں ایف سی اہل کاروں کا قتل خطرناک موڑ ہے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے مزید مذاکرات سے قبل مشاورت ناگزیر ہے۔


 کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی کی جانب سے ایف سی کے 23 اہلکاروں کے قتل کے بیان کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی مشاورت کررہی ہے، باہمی مشاورت کے بعد میڈیا کو بیان جاری کیے جانے کا امکان ہے.


 سماء سے گفت گو میں رحیم اللہ یوسف زئی کا مزید کہنا تھا کہ آج حکومتی کمیٹی کے اراکین میں مختلف آپشن زیر غور آئیں گے، فائربندی کا معاملہ اب ہمارے ایجنڈے پر نہیں، ایف سی اہلکاروں کے قتل کے بعد حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔


 انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مذاکرات کی بات کر رہی ہے لیکن پھر بھی طالبان کے قیدیوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔خراسانی کا کہنا ہے کہ مہمند ایجنسی میں شوریٰ کا اجلاس جاری ہے جس میں امن مذاکرات کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا جائے گا۔کالعدم تنظیم کی جانب سے جاری ویڈیو میں ترجمان احسا ن اللہ احسان بھی موجود تھے۔


 واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کی جانب سے گزشتہ رات میڈیا کو ایک خط اور ویڈیو کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا کہ انہوں نے دو سال قبل جون 2010 کو شنکڑی چیک پوسٹ سے اغوا کیے گئے 23 ایف سی اہل کاروں کو شہید کردیا ہے، کالعدم طالبان مہمند ایجنسی کے امیر عمر خراسانی کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ایف سی اہل کاروں کو ٹی ٹی پی کے کارندوں کو نشانہ بنانے پر جوابی کارروائی کے تحت شہید کیا گیا۔ سماء

میں

سی

jundullah

ایف

sentences

Tabool ads will show in this div