پاکستان قربانی کا بکرا نہیں بنے گا، وزیر دفاع کا پالیسی بیان

اسلام آباد : وزیر دفاع خرم دستگیر خان کہتے ہیں کہ ہمیں دنیا کو یاد دلانا ہوگا کہ پاکستان اب ضرب عضب کے بعد کا پاکستان ہے، دھمکیوں سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات آگے نہیں بڑھ سکتے، افغان جنگ کی ناکامی پاکستان پر نہ ڈالی جائے، افغان جنگ میں پاکستان قربانی کا بکرا نہیں بنے گا، امریکا پاکستان سے کہتا ہے بھارت خطرہ نہیں، بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے جارحانہ رویہ اپنا رہا ہے۔

وزیر دفاع خرم دستگیر نے قومی اسمبلی میں پالیسی بیان جاری کیا، ان کا کہنا تھا کہ افغان جنگ میں پاکستان کی قربانيوں کا کيا نتيجہ نکلا؟ پاکستان قربانی کا بکرا بنا رہا، پاکستان کو معاشی طور پر بھی بڑے دھچکے لگے، کیا ہم مواصلاتی نظام کی اجازت دینے کے پیسے مانگیں؟ کیا ہم افغان مہاجرین کو رکھنے کے پیسے مانگیں؟، ہمیں دنیا کو یاد دلانا ہوگا، پاکستان اب ضرب عضب کے بعد کا پاکستان ہے، ہم نے جنوبی وزیرستان اور فاٹا کلیئر کیا، کراچی میں امن قائم کیا۔

وہ بولے کہ دھمکیوں سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات آگے نہیں بڑھ سکتے، افغان جنگ کی ناکامی پاکستان پر نہ ڈالی جائے، کئی دہائیوں سے افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کررہے ہیں، افغان جنگ میں پاکستان قربانی کا بکرا نہیں بنے گا۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے دورہ ایران سے دوطرفہ تعلقات کی بہتری پر بات ہوئی، پاکستان اور چین افغانستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں، ہم اپنے دفاع سے غافل نہیں۔

خرم دستگیر نے مزید کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت نے حالات خراب کئے، بھارتی آرمی چیف کے بیانات سے ان کی ذہنیت واضح ہوتی ہے، ایل او سی کی خلاف ورزی معمول بن چکی ہے، امریکا پاکستان سے کہتا ہے بھارت خطرہ نہیں، بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے جارحانہ رویہ اپنا رہا ہے، کلبھوشن یادیو کا پکڑا جانا بھارتی جارحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، آج بھی ایل او سی پر بھارتی فائرنگ سے 4 فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ سماء

 

USA

DEFENSE MINISTER

Khurram Dastagir

War on Terror

Tabool ads will show in this div