قصور، بچوں کے ساتھ زیادتی، ایک یا دو افراد کے ملوث ہونے کا خدشہ

قصور : آر پی او کا کہنا ہے کہ قصور میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں ایک یا دو افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ پانچ کیسز میں ڈی این اے اور طریقہ واردات ایک جیسے تھے۔ بہت جلد ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔

سماء سے خصوصی گفت گو میں آر پی او نے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ قصور میں ہونے والے پانچ کیسز میں ڈی این اے اور طریقہ واردات میں مماثلت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک یا دو افراد کارروائیوں میں ملوث ہوں۔

آر پی او کا مزید کہنا تھا کہ قصور میں ایک سال میں بارہ زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے، تاہم زنیب کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری بہت جلد عمل میں لائی جائے گی۔

دوسری جانب ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد نے کہا کہ قصور میں بچیوں سے زیادتی کے واقعات پر پانچ ہزار سے زائد افراد سے تفتیش کی گئی ہے،جب کہ67افراد کا میڈیکل چیک اپ کرایاگیا۔ انہوں نے کہا کہ شہرمیں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تفتیش جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بچی کے لواحقین نے سی سی ٹی وی ویڈیو فراہم کی ہے،ویڈیو میں بچی کو ملزم کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا گیاہے،مقتولہ بچی کے والدین عمرہ کی ادائیگی کےلئےگئےہوئےہیں۔ بچی کی لاش منگل کی شام کوڑے کے ڈھیر سے ملی۔

ڈی پی او قصور نے مزید کہا کہ مجموعی طور پر زیادتی کے بعد قتل ہونےوالی یہ آٹھویں بچی ہےزیادتی کا شکار بچیوں کے ڈی این اے سے ایک ہی نمونہ ملاہے۔ سماء

PUNJAB

cm punjab

CHILD

MINOR GIRL

RPO

ABUSE

DCO

chief minister shahbaz sharif

aerial firing

JusticeForZainab

ape

Tabool ads will show in this div