قصور میں ننھی زینب کے قتل پر احتجاج، پولیس کی ہوائی فائرنگ

قصور :  قصور میں ننھی زینب کے قتل کے خلاف شہر بھر میں احتجاج جاری ہے، شہریوں کی جانب سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے ڈی سی آفس کے باہر احتجاج کیا گیا، جس پر پولیس کی جانب سے وقفے وقفے سے ہوائی فائرنگ کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق قصور کی مرکزی شاہراہ سمیت مختلف علاقوں میں ننھی زینب کے زیادتی کے بعد قتل کے خلاف شدید غم و غصہ اور احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کیلئے شہر میں جگہ جگہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔

مظاہرین کی جانب سے ناکے لگا کر اور ٹائر جلا کر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ وکلاء برداری اور تاجر کمیونٹی کی جانب سے بھی شہر بھر میں زینت کے قتل کے خلاف ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔

شہر میں بڑھتے بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات پر پورا شہرا سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ ڈی سی او آفس کے باہر اہل خانہ اور شہر بھر کے شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے کے دوران لوگوں کو منتشر اور روکنے کیلئے پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ کی گئی۔ دھکم پیل اور احتجاج کے دوران دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

مظاہرین کی جانب سے ڈی سی او آفس پر پتھراؤ بھی کیا گیا اور اندر جانے کی کوشش کی، جس کے بعد مظاہرین نے ڈی سی او آفس کا گیٹ توڑ دیا۔ مظاہرین کو اندر داخل ہونے سے روکنے کیلئے پولیس کی مزید نفری طلب کرلی گئی ہے، جب کہ مظاہرین کو اندر داخلے سے روکنے کیلئے ڈنڈے بھی برسائے گئے، جس کے بعد مظاہرین کو باہر کی جانب دھکیل دیا گیا۔ مظاہرین کی بڑی تعداد اس وقت بھی فیروزپور روڈ پر موجود ہے۔

واضح رہے کہ چھ روز قبل اغوا ہونے والی سات سالہ ننھی زینب کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے کل دوپہر برآمد کی گئی۔ سات سالہ زینب ٹیوشن کے بعد واپس آ رہی تھی کہ اس اغوا کیا گیا۔ زینب کے اغوا ہونے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کردی گئی ہے۔ جب کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیادتی اور گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔

دلخراش واقعہ پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی جانب سے سخت نوٹس لیا گیا ہے۔ بچی کے والدین عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئے ہوئے تھے، جو آج پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ سماء

PUNJAB

CHILD

MINOR GIRL

ABUSE

DCO

aerial firing

JusticeForZainab

ape

Tabool ads will show in this div