زندانوں میں کیاگذری؟

منٹو نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ’’ میں سزائے موت کا قائل نہیں ہوں ، میں جیل کے حق میں بھی نہیں ہوں کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ جیل انسان کی اصلاح نہیں کر سکتا لیکن میں ایسے اصلاح خانوں کے حق میں ہوں جو غلط رو انسانوں کو صیحح راستہ بتا سکیں ‘‘۔

اگرچہ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں تو کم ازکم اسی فیصد ضرور بجا ہے، کیونکہ بے شک غلطی یا گناہ کی سرزنش کے لئے ضروری تو ہے کہ سزا دی جائے لیکن ہمارے ہاں آج کل جو تھانوں اور جیلوں کا تصور ہے وہاں کسی انسان کا رہنا تو کیا کسی جانور کا وقت گذارنا ہی محال ہوتا ہے۔جیلیں جرائم کی اصلاح کرنےکی بجائے گندگی اور ظلم پھیلانے کا ایک مرکز بن گئی ہیں۔

معذرت کے ساتھ ہمارے قانونی نظام میں اتنے سقم ہیں جن کی وجہ سے بھی بہت سے جرائم سرزد ہونے لگتے ہیں۔ثانوی مسائل توایک طرف رہے پہلی بات تو یہ ہے کہ بااثرافراد کےکہنے پر ہی ایف آئی آر کاٹی جاتی ہے اور اسی وقت سے خرابی کاآغازہونےلگتاہے۔بےقصورافراد کے آنسو کہیں زندانوں میں چھپ کررہ جاتےہیں،ان بے کس افراد کی چیخیں جن میں خواتین اور مرد دونوں شامل ہیں دب کر ختم ہو جاتی ہیں ۔

ایف آئی آرپہلاقدم ہے جس کی بنا پر ہی کسی مقدمے کانہ تو صرف فیصلہ کیا جاتا ہے بلکہ انسان کی زندگی و موت کے پروانے پر مہر بھی  ثبت کر دی جاتی ہے۔پھراگر جیل کے حالات پر آجائیں تو وہاں بھی بہت افسوسناک صورتحال ہوتی ہے،اگرچہ سپریم کورٹ نے مارچ 2015 میں اس ابتر صورتحال کا ازخود نوٹس لیا تھا لیکن پھر بھی کوئی امید افزا صورتحال پیدا نہیں ہو سکی  ۔

 وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب میں چار ہزار تین سو چھیالیس قیدی پھانسی کی سزا کے منتظر ہیں جن میں ستاون قیدی ایسے بھی ہیں جو دماغی معذور ہیں ۔ صوبہ بھر کی جیلوں  میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا ہے مثلا چالیس جیلوں میں قیدیوں کی گنجائش 30 ہزار تین سو تینتیس ہے جبکہ ان جیلوں میں 47 ہزارچھ سوچوہتر افراد کو رکھا گیا ہے۔

خواتین کے بارے میں بات کریں تو زیادہ تر وہ معمولی نوعیت کے جرائم میں قید ہیں تاہم ان میں اکسٹھ سنگین جرائم میں قید ہیں ، خواتین قیدیوں کی  تعداد پنجاب میں  843 ہے،بلوچستان میں 27 ، جبکہ کےپی کے میں 175 خواتین جیلوں میں قید ہیں۔معمولی جرائم میں قیدان خواتین کی رہائی کےلئےعملی سطح پر کوئی قابل ذکراقدامات نظر نہیں آرہے۔

ہماری جیلوں میں اصلاحات کے لئے کسی حد تک کام کیاجارہاہےلیکن یہ سب ابھی ناکافی ہے۔آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں تین اور جیلیں قائم کی جائیں گی جس پر تین ارب بیالس کروڑ تک کی رقم خرچ ہوگی۔

اسی طرح لاہور،ملتان اور فیصل آبادمیں چون رومزبمعہ واش رومز کے بنائے گئے ہیں جہاں پر پانچ سال سے زائد مدت کے قیدی  ہرتین ماہ میں اپنی بیوی بچوں کےساتھ تین دن تک قیام کرسکیں گے۔لیکن یہ سب اقدامات کافی نہیں ہیں،ابھی بہت کچھ باقی ہےکیونکہ ان جیلوں میں تو بہت سے مسائل ہیں،ایک طرف خواتین ہیں توان کےساتھ بچے بھی ہیں،ان معصوم بچوں کےلئےتوجیل کی چار دیواری ہی ایک طرح کا گھر ہے،ان کی کل کائنات ہےلیکن ظاہر ہےکہ وہ اسی برے ماحول میں بہت بری طرح پرورش پاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود بھی ایک عادی مجرم بن کرنکلتے ہیں ۔

 ان بچوں کی خوراک اور تعلیم کا کوئی بہتربندوبست نہیں کیا جاتا۔اسی طرح معمولی جرائم کےمجرموں کو سنگین مجرموں کے ساتھ کررکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے بھی ان مجرموں کو دیکھ کر اور بھی لوگ مجرم بن رہے ہیں۔کیونکہ بہت سے قیدی ایسے ہیں جن پرجیلوں کی خراب حالت کا اثر پڑ رہا ہے اور وہ نفسیاتی مریض بن رہے ہیں،ان کے لئے کسی قسم کی کوئی کونسلنگ کا بھی انتظام نہیں ہے۔ان کو کسی نفسیاتی معالج کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی اور جیل کا ماحول ان کے لئے اور بھی ناقابل برداشت ہوجاتا ہے ۔

بیشتر خواتین تو ایسی ہوتی ہیں جو حاملہ ہیں اور کئی زچگی کے مسائل کا شکار ہیں لیکن یہاں پر کسی  لیڈی تو کیا مرد ڈاکٹروں کی دستیابی کو بھی یقینی نہیں بنایا جاتا ۔ قیدیوں کو سپلائی کیجانے والی ادویات بھی اکثر زائد المعیاد ہوتی ہیں اس وجہ سے ان کی حالت غیر ہو جاتی ہے اور یہ سب خبریں میڈیا میں تواتر کے ساتھ رپورٹ ہوتی رہی ہیں ۔

کئی مجرم تو ایسے ہوتے ہیں وہ صرف جرمانہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے جیل کی ہوا کھاتے رہتے ہیں ایسے میں کوئی این جی اوز موجود نہیں ہوتیں کہ وہ ان کی پرسان حالی کر سکیں ۔ دوسری طرف قیدیوں کی اصلاح کے لئے کئی ممالک میں پروگرام موجود ہیں ۔

ایران میں ایک جج قاسم نقی زادہ نے قیدی بچوں کے لئے ایک پروگرام متعارف کروایا ہے جس کے تحت معمولی جرائم میں پکڑے جانے والے بچوں کو پانچ کتابوں کا مطالعہ کرنے کو کہا جاتا ہےاور مطالعہ کے بعد ان کو اسکا ایک خلاصہ لکھنا ہوتا ہے جس میں ایک حدیث کا حوالہ ضروری ہوتا ہے اور جب یہ خلاصہ تکمیل پا جاتا ہے تو اسے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا دیا جاتا ہے ۔

پاکستان میں بھی ایک شخص کو باجماعت نماز ادا کرنے کی سزا دی گئی ۔ امریکا میں دنیا بھر کی پچیس فیصد آبادی قید ہے  اور ان پر سالانہ اسی ارب ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں لیکن وہاں کوئی خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے ۔

اب اگر اپنے دین کی بات کریں تو اسلام سے پہلے قیدیوں کے ساتھ نہایت انسانیت سوز سلوک کیا جاتا تھا۔بعد میں ہمارے نبی آخر الزماں نے تمام قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیا کیونکہ وہ تو رحمت العالمین تھے ۔

نبی اکرم نے زیادہ تر قیدیوں کو احسان کر کے رہا کر دیا  یا فدیہ لیا گیا یا پھر انھیں غیر تعلیم یافتہ مسلمانوں کی تعلیم کا کام دیا گیا،یہ انسانی تاریخ میں ایک بہترین مثال ہے۔المختصر قیدیوں سے حسن سلوک ہماری اخلاقی بلندی کا اظہار ہے اور اس کے لئے حکومت ، غیر سرکاری اداروں اور ہم عوام کو مل کر کام کرنا ہو گا ۔

Jail Reforms

Tabool ads will show in this div