Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

کیا آپ اس بچے کو پہنچانتے ہیں

SAMAA | - Posted: Feb 23, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 23, 2020 | Last Updated: 2 years ago

سوشل میڈیا پر ان دنوں یہ تصویر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس تصویر میں کون دکھائی دے رہا ہے؟

سماجی رابطے کی سائٹ پر پوسٹ کی گئی یہ تصویر سعودی شہزادے ولید بن طلال کی ہے۔ ان کی یہ تصویر شہزادی ریم بنت طلال نے لوگوں کیساتھ سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے، جو ان کے والد ہیں۔

یہ تصویر شہزادہ ولید بن طلال کی بچپن کی ہے۔ تصاویر میں شہزادہ ولید بن طلال مکمل عربی لباس میں دکھائی دے رہے ہیں۔

شہزادی ریم نے اپنے والد کی دیگر 3 پرانی تصاویر بھی شیئر کیں، جس میں انہیں مختلف طرح کے پوز میں دکھایا گیا ہے۔

شہزادی ریم نے تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’اللہ والد صاحب کی حفاظت فرمائے۔ یہ ان کے بچپن کی تصویر ہے‘۔

واضح رہے کہ شہزادہ ولید بن طلال کو بلومبرگ ایجنسی نے 2019 میں دنیا کے 500 امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل کیا۔ شہزادہ الولید بن طلال سعودی عرب کے امیر ترین شخص ہیں۔ ان کی دولت کا تخمینہ 13.9ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

کھرب پتی سعودی شہزادے نے دنیا کے نامور ترین مالیاتی اداروں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

شہزادہ ولید بن طلال سعودی شاہ سلمان کے سوتیلے بھتیجے ہیں اور دنیا کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں،ان کے والد کا نام طلال بن عبدالعزیز آل سعود ہے ۔ بے پناہ دولت اورشاہانہ طرز زندگی کے باعث دنیا کے امیر تریم افراد کی فہرست میں شامل ہونے والے سعودی شہزادے طلال بن ولید دل کے بھی شہنشاہ ہیں، جنہوں نے اپنی تمام تر جائیداد فلاحی مقاصد کیلئے عطیہ کی۔

شہزادہ ولید بن طلال ذاتی سفر کے لئے ’سپر جمبو‘ استعمال کرتے ہیں۔ طلال بن ولید وسیع وعریض مکان کے مکین، ہیرے جڑے گاڑی سمیت بیش قیمت گاڑیوں کے بھی مالک ہیں اور تو اور ان کے پاس فضائی سفرکیلئے تمام تر سہولیات سے آراستہ پرآسائش ذاتی ہوائی جہازبھی موجود ہے۔ برطانوی اخبار کے مطابق 32بلین ڈالرز کی جائیداد کے مالک سعودی شہزادے کے اس اقدام کا مقصد ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔

ان کے ذاتی ہوائی جہاز کی قیمت500 ملین ڈالرز ہے، سعودی عرب کے شاہی خاندان کے کھرب پتی شہزادہ ولید بن طلال دنیا کے پہلے شخص ہیں جو ذاتی سفر کے لئے ایک بڑے ہوائی جہاز کا استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے نئے ملکیتی طیارے ”سپر جمبو“ ایئر بس A 380 کی کل مالیت پانچ سو ملین ڈالرز سے زیادہ ہے۔ اس میں ایک آرام کمرہ بنایا گیا ہے جس میں شہزادے کے پچیس معاونین قیام کر سکیں گے۔ ”اڑن محل“ کے نام سے موسوم خصوصی جہاز میں میٹنگ روم‘ بینکوئٹ ہال‘ پانچ شاہی کمرے‘ جائے نماز، دوران پرواز قبلے کی سمت بتانے کے خصوصی الیکٹرانک آلات نصب ہیں۔ جہاز کی تین منزلوں تک فوری رسائی کے لئے لفٹ بھی لگائی گئی ہے۔ اس میں رولز رائس کار کےلئے پارکنگ بھی ہے۔

وہ اپنی کمپنیوں میں خواتین کو نوکریاں دینے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ ان کے عملے میں دو تہائی خواتین ہیں۔ شہزادہ ولید دنیا کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک ہیں اور یہاں تک ہوچکا ہے کہ 2013ء میں جب جریدے فوربز نے انہیں 26 ویں نمبر پر رکھا تو ان کی جانب سے اس پر شدید تنقید کی گئی کہ انہیں ان کا صحیح مقام نہیں دیا گیا۔ ولید بن طلال کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی بیٹی کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات ہیں اور وہ ان کی بہترین دوست ہے۔

شہزادہ ولید کی سو ملین ڈالر مالیت کی تفریح گاہیں صحرا میں بنائی ہوئی ہیں جہاں انہوں نے پست قد لوگوں کو رکھا ہوا ہے تا کہ وہ آنے والوں کو تفریح فراہم کر سکیں۔

دو سال قبل شہزادہ الولید نے ان پائلٹوں کو مہنگی گاڑیاں دینے کی پیشکش کی تھی جو پڑوسی ملک یمن پر بمباری میں حصہ لے رہے ہیں۔ چند برس قبل انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ہوٹل اور ایک پرآسائش کشتی کو خرید لیا تھا۔ اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ سیاست میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں خواتین پر گاڑی چلانے کی پابندی ختم کروانے میں بھی ان کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

پيرس کا جارج پنجم ہوٹل ہو يا لندن کا سیوائے یا پھر نیو یارک پلازہ ہوٹل يا ہارف سائيڈ، شہزادہ وليد سب کے شراکت دار ہيں۔ پرنس وليد دنیا کی سب سے بڑی میڈیا کارپوریشن فوکس نیوز کے دوسرے سب سے بڑے شیئر ہولڈر ہیں۔ بل گيٹس ہوں،روپرٹ مرڈوک يا پھرمائيکل بلوم برگ،بڑے بڑے ارب پتی سرمایہ کار ان کے حلقہ احباب میں شامل ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube