Saturday, January 29, 2022  | 25 Jamadilakhir, 1443

مغرب اضطراب و افراتفری کا شکار ہے، فاطمہ بھٹو

SAMAA | - Posted: Feb 18, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 18, 2020 | Last Updated: 2 years ago

فاطمہ بھٹو کا کہنا ہے کہ مغرب خود کو طاقت اور ثقافت کا مرکز سمجھتا ہے مگر میں نہیں سمجھتی کہ ہر سو مغرب کا طوطی بول رہا ہے۔ مجھے یہ بات کہتے ہوئے خوشی محسوس نہیں ہوتی مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ ہم نے دنیا میں بادشاہتوں کا عروج و زوال دیکھا ہے۔ اس مرتبہ عروج کی ہوائیں جنوب (ایشیا) سے چل رہی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں اپنی کتاب ’نیو کنگز آف دی ورلڈ‘ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈووکیٹ سبین جتوئی بھی موجود تھیں۔

امریکا اور برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے فاطمہ بھٹو نے کہا کہ ٹرمپ اور برطانیہ کا یورپی یونین سے الگ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مغرب اضطراب اور افراتفری کا شکار ہے۔ اس کے باوجود مغرب اب بھی ہمیں یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ ہی سب سے برتر اور بصیرت رکھنے والی قوم ہے مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ سچ نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں کہ جنوب ( ایشیا) سب سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے مگر ہم ایک دلچسپ مقام پر ہیں اور کلچر کے ذریعے ہم بصیرت حاصل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ کتاب بھی پچھلی تصانیف کی طرح سیاسی ہے اور اس میں پاور، نیو لبرل ازم اور گلوبلائزیشن پر بحث کی گئی ہے۔

فاطمہ بھٹو نے کہا کہ کتاب میں چین، نائجیریا اور کرکٹ فرنچائزیشن کے بارے میں بھی بات کرنا چاہتی تھی مگر پبلشر کی جانب سے 50 ہزار الفاظ کی حد مقرر تھی اور چین کے بارے میں 50 ہزار الفاظ میں بات کرنا ممکن نہیں۔

نیو کنکز آف دی ورلڈ میں انہوں نے جنوبی افریقی ملک پیرو کے بالی ووڈ، ترکش ڈراموں اور جنوبی ایشیا کے میوزک انڈسٹری کے ساتھ لگاؤ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

مصنفہ نے کہا کہ کتاب لکھنے کا آغاز 2016 میں کیا تھا۔ آگر آج لکھتی تو کچھ دیگر عنوانات کتاب کا حصہ ہوتے۔ میں مقبول اور عام کلچر پر لکھنا چاہتی تھی اور مقبول ثقافتوں کو فلم ٹی وی اور موسیقی کے ذریعے ہی ایک دوسرے سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح بالی ووڈ کو بھی کتاب میں شامل نہ کرتی کیوں کہ بالی ووڈ کو اب بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ ان کو آگے بڑھنے میں مشکلات درپیش ہوں گی مگر 2016 میں یہ باتیں میرے سامنے نہیں تھیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ بالی ووڈ کی فین نہیں مگر رنویر سنگھ اور عالیہ بھٹ کی فلم گلی بوائے دیکھ کر مزہ آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راج کپور کی کلاسیکل فلم مدر انڈیا کو پیرو میں شاندار پذیرائی ملی تھی۔ لوگ مدر ڈے سمیت مقدس ایام میں یہ فلم دیکھنے سینیما جاتے تھے۔

فاطمہ بھٹو نے کہا کہ پیرو میں انہیں جوہن نامی نوجوان ملا جو پاکستانی فلم اسٹار شان شاہد کا مداح تھا اور یہ بات میرے لیے انتہائی حیران کن تھی کہ پیرو میں بھی کوئی ہماری فلمیں دیکھ رہا ہے۔

کتاب میں ترکی کو شامل کرنے کی توجیہ پیش کرتے ہوئے مصنفہ نے کہا کہ ٹیلی ویژن کے ناظرین تک رسائی میں امریکا کے بعد ترکی سب سے آگے ہے۔ مستند رپورٹ کے مطابق ترک ڈرامہ میرا سلطان ایک وقت میں 200 ملین سے زائد افراد نے دیکھا جبکہ دیگر ذرائع سے معلوم ہونے والی اعداد و شمار 500 ملین کے قریب ہیں۔

فاطمہ بھٹو نے کہا کہ وہ کابل میں پیدا ہوئیں اور شام میں پلی بڑھیں مگر اس کے باوجود براعظم ایشیاء ان کے دل کے ایک گوشے میں موجود رہا۔

مصنفہ نے کہا کہ نیو کنگز آف دی ورلڈ اس لئے ان کیلئے دلچسپ ہے کہ اس میں ایشیا کی بات کی گئی ہے اور ہم ایشئین ہیں۔ ہم ( پاکستان) ایشیا کا ہراول دستہ تو نہیں مگر ہمیں اس سے فائدہ ضرور ہوتا ہے۔ ایشیا کی ثقافت ہماری ثقافت ہے۔ ایشیا کی اقدار ہماری اقدار ہیں اور ایشیا میں ابھرنے والی کہانیاں ہماری اپنی کہانی ہے۔

زندگی تماشا

سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا پر پابندی سے متعلق بات کرتے ہوئے مصنفہ نے کہا کہ دنیا میں کہیں ایسا ملک نہیں ہے جہاں ایک فلم سنسر بورڈ سمیت تمام متعلقہ اداروں سے کلیئر قرار پانے کے باوجود اسکرین پر نمودار ہونے سے روک دی گئی ہو اور جہاں ایک گروہ یہ فیصلہ کرے کہ لوگوں کو کیا دیکھنا چاہیے اور کیا نہیں۔

فاطمہ بھٹو نے کہا کہ ہمیں بطور معاشرہ مزید مضبوط ہونے اور اخلاف رائے کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کے جذبات مجروح نہیں ہونے چاہئیں مگر زندگی تماشا میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ فلم ساز نے اس پر بہت محنت کی ہے مگر کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم فلم پر پابندی عائد کرنے کے بجائے اس کو دیکھ کر اختلاف کریں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube