Tuesday, May 17, 2022  | 1443  شوّال  16

فاطمہ سہیل نے محسن عباس کےدعوے کی نفی کردی

SAMAA | - Posted: Jan 30, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 30, 2020 | Last Updated: 2 years ago

اداکاروگلوکار محسن عباس حیدر اور ان کی اہلیہ فاطمہ سہیل کے درمیان علیحدگی ہوچکی ہے تاہم بچے کے خرچے کیلئے فاطمہ کی جانب سے دائرکی جانے والی درخواست زیرسماعت ہے۔ فاطمہ نے تازہ انٹرویو میں محسن کی جانب سے خراب مالی حالات کے دعوے کی نفی کردی۔

سابقہ شوہر کے ایک انٹرویو پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فاطمہ نے کہا کہ محسن نے خود کو سچا ثابت کرنے کے لیے تصویر کا صرف ایک رخ دکھایا جو حقائق کے منافی ہے۔ ہمارا تعلق ختم ہوگیا تو محسن کو اس بارے میں بات ہی نہیں کرنی چاہیے تھی لیکن اب بات کا دوبارہ آغاز ہوا ہے تو میں حقیقت بتانے کا حق رکھتی ہوں۔

کھوج نیوز کو دیے جانے والے اس انٹرویو میں فاطمہ نے کہا کہ محسن کا کہنا ہے وہ ’’می ٹو ‘‘ کا شکار ہے جس پر مجھے حیرت ہوئی کیونکہ ’’ می ٹو‘‘ بالکل الگ چیز ہے جبکہ یہاں تو ایک بیوی شوہر کے تشدد کا شکار ہوئی ہے۔

فاطمہ نے کہا کہ محسن عباس لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا ہے کہ وہ بری ہوچکا ہے لیکن کیس ابھی زیر سماعت ہے جس میں محسن پر دفعہ 506 لگائی گئی ہے کیونکہ اس نے مجھ پر تشدد کیا اور جان سے مارنے کی کوشش بھی کی۔ایک آدمی ٹی وی پر سب کے سامنے بیٹھ کر کیسے جھوٹ بول سکتا ہے؟ اس بات سے اتنی تکلیف ہوئی کہ خود پر شرم آرہی ہے کہ میں نے ایک کمزور آدمی سے محبت کی ۔

محسن کے انٹرویو پرتبصرہ کرتے ہوئے فاطمہ نے مزید کہا کہ انٹرویو میں اس کا کہنا تھا کہ میں سوچتا ہوں کہ جن کے ساتھ اصل میں یہ ہوا ان کا حق مارا گیا۔ محسن عباس اکیلے میں تو سوچتے ہوں گے کہ تم نے میرے ساتھ کیا کیا ۔ یہ آدمی دنیا کے سامنے کب تک جھوٹ بولے گا،اب کس چیز کی جنگ ہے میرے ساتھ،اب کیسی لڑائی ہم اپنا سب کچھ تو ہارچکے ہیں۔

فاطمہ سہیل نے مزید کہا کہ یہ شخص یہ کہہ کر اپنے بچے کا خرچہ دینے سے انکار کرچکا ہے کہ وہ بےروزگار ہے جبکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اس کے پاس بہت کچھ ہے۔ سابقہ اہلیہ نے سوال اٹھایا کہ ڈیفنس فیز 6 کے گھر کی اقساط کیسے ادا کرتا ہے اور اپنا خرچہ کہاں سے چلاتا ہے، وہ تو باقاعدگی سے کنسرٹ اور شو بھی کررہا ہے لیکن اس کے پاس بچے کو دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں فاطمہ سہیل نے کہا کہ مجھے محسن عباس حید کے ساتھ رہ کر شہرت کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ میں خود میڈیا چھوڑ کر 2017 میں اس کے پاس ایسے وقت میں گئی تھی جب ایم ڈی پروڈکشن مجھے اپنے3 پراجیکٹ میں کاسٹ کررہا تھا۔اب یہ شخص خود کو مظلوم اور سچا ثابت کرنے کے لیے ’’ می ٹو‘‘ مہم کو بھی بدنام کررہا ہے لیکن دنیا اندھی نہیں ہے۔ محسن عباس حیدر نہ تو اچھا شوہر بن سکا اورنہ ہی اچھا باپ۔

محسن سے علیحدگی کے بعد فاطمہ فی الحال کراچی منتقل ہوچکی ہیں جہاں وہ نجی ٹی وی پر ایک ٹیلنٹ شو کی میزبانی کرنے کے ساتھ ساتھ ڈرامہ سیریل ’’دل میرا دشمن ‘‘ کی شوٹنگ میں بھی مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ تقریبا ایک ہفتہ قبل محسن عباس نےفاطمہ سہیل کی دائر کردہ خرچے کی درخواست پر جواب جمع کرواتے مالی حالات کو بنیاد بناتے ہوئے خرچہ دینے سے معذوری ظاہر کی تھی۔ محسن عباس کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ سابق اہلیہ کو پہلے بھی خرچہ ادا کرتا رہا اور تمام حقوق پورے کیے لیکن اب میں بیروزگار ہوں، ماہانہ کچھ بھی کما نہیں رہا جس کےباعث میرے مالی حالات سخت خراب ہیں ، سابق بیوی اور بچے کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube