Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

بھارتی فوج نے پہلےانسانی ڈھال بنا کر استعمال کیاپھرشہید کردیا

SAMAA | - Posted: Nov 18, 2021 | Last Updated: 6 months ago
SAMAA |
Posted: Nov 18, 2021 | Last Updated: 6 months ago
[caption id="attachment_2437643" align="alignnone" width="960"] فائل فوٹو[/caption]

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کے ہاتھوں شہید کشمیریوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے پہلے انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گیا اور بعد ازاں جعلی مقابلے میں شہید کردیا گیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فوج کی بدترین ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے،جہاں 9 کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔ ضلع کلگام میں بھارتی فوج نے محاصرے اور تلاشی کی آڑ میں 5 کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا۔ علاوہ ازیں بھارتی فوج نے ضلع پلواما سے 5 کشمیری نوجوانوں کو گرفتار بھی کیا۔ گزشتہ روز بھی بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک کشمیری نوجوان شہید ہوگیا تھا۔

کے ایم ایس کے مطابق دوسرے واقعہ میں بھارتی فوجیوں نے ایک دکاندار الطاف احمد بٹ، پراپرٹی ڈیلر اور ٹی سٹال کے مالک سمیت 3 تاجروں اور ایک ڈاکٹر مدثر کو سرینگر کے علاقے حیدرپورہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الطاف کے اہلخانہ نے میڈیا کو بتایا کہ اسے بھارتی فوجیوں نے بلااشتعال فائرنگ کر کے بہیمانہ طور پر شہید کیا۔ اہلخانہ نے الطاف کی میت کی واپسی کیلئے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ فوجی اہلکار بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حالیہ مقبوضہ علاقے کے دورے کے دوران تیار کی گئی پالیسی کے تحت بے گناہ کشمیریوں کا قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پالیسی کے تحت فوجیوں کو مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں پر کسی بھی حملے کی صورت میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

جعلی پولیس مقابلے کے بعد بھارتی فوجیوں نے الطاف احمد اور مدثر گل کی نامعلوم مقام پر تدفین بھی کردی اور اہل خانہ کو میتیں دینے سے انکار کردیا۔ شہید افراد کے لواحقین نے پولیس کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ان جعلی مقابلوں پر سوال کیا ہے جس میں معصوم افراد مارے گئے۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ان کے پیاروں کی لاشیں ان کے حوالے کی جائیں۔

شہید ہونے والے شخص الطاف احمد بٹ کے بھائی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ میرا بھائی برسوں سے اپنا کام کر رہا تھا۔ اس کی دکان کے قریب سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہمیشہ تعینات رہتے تھے۔ یہ اس دن پانچ بجے کا واقعہ ہے۔ میرا بھائی الطاف احمد اپنی دکان پر بیٹھا تھا کہ سیکیورٹی اہلکار اس کے پاس آئے اور کہا کہ دکان کا شٹر بند کر دو۔ اس کے بعد وہ اسے قریب ایک موٹر سائیکل شوروم پر لے گئے اور اسے وہیں رکھا۔ وہاں اور لوگ بھی رکھے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس شو روم میں تقریباً 30 افراد کو رکھا گیا تھا۔ عامر اور مدثر کو بھی شو روم میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے میرے بھائی کو بتایا کہ یہ ایک سرچ آپریشن ہے اور اب اس عمارت کی چھان بین کی جائے گی۔ الطاف احمد بھی ان کے ساتھ گیا اور عمارت میں چھان بین کی۔ سرچ آپریشن سے واپسی پر انھیں دوبارہ شو روم پر بٹھا دیا گیا۔

واقعہ کے عینی شاہد نے بتایا ہے کہ قریب پانچ بجے دو گاڑیوں میں پولیس اور فوج کے لوگ سادہ لباس میں آئے اور ہم تمام افراد (تقریباً 30 لوگ) کے موبائل فون ضبط کر لیے۔ انھوں نے ہمیں 50 میٹر دور ایک موٹر سائیکل شو روم پر رکھا۔ الطاف کو واپس اس عمارت میں لے جایا گیا۔ اس بار مدثر الطاف کے ساتھ گئے اور تقریباً 20 منٹ بعد ہمیں گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔ اس کے بعد وہ واپس نہیں آئے۔‘

ایک دوسرے عینی شاہد کا کہنا ہے کہ قریب پانچ بجے فرن (کشمیری لباس) پہنے سیکیورٹی اہلکار آئے اور سب کے فون چھین لیے۔ کچھ دیر بعد وہ الطاف اور مدثر کو اپنے ساتھ لے گئے اور کچھ دیر بعد فائرنگ کی آواز آئی اور دونوں واپس نہیں لوٹے۔ مدثر گل کی اہلیہ حمیرا گل نے بدھ کو سرینگر میں احتجاج کے دوران مطالبہ کیا کہ یہ ثابت کیا جائے کہ ان کے شوہر شدت پسدنوں کی مدد کر رہے تھے۔ حمیرا گل نے بتایا ہے کہ ان کے شوہر ایک ڈینٹسٹ (دانتوں کے ڈاکٹر) ہیں اور ان کا مکمل نام ڈاکٹر مدثر گل ہے۔

دوسری جانب بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے سرینگر سے 70 کلومیٹر دور ہندوارہ میں ان چار افراد کو دفن کیا ہے جو حیدرپورہ میں ہلاک ہوئے تھے۔

بی بی سی کے مطابق کشمیر کے انسپیکٹر جنرل وجے کمار نے منگل کو سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا ہے کہ ہم اس جگہ کے مکمل پتے سے آگاہ نہیں تھے۔ مکان مالک اور کرایہ دار کو بلایا گیا تھا۔ مکان مالک کا نام الطاف احمد ڈار ہے اور جو وہاں کاروبار کرتے تھے ان کا نام مدثر گل ہے۔ دونوں نے دروازے پر دستک دی مگر شدت پسندوں نے دروازہ نہیں کھولا۔ شدت پسندوں نے دروازہ کھول کر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری سرچ ٹیم نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی اور انکاؤنٹر شروع ہوا۔ پھر ہم نے انکاؤنٹر روکا اور وہاں سے دو شہریوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ لیکن جہاں ہم کھڑے تھے وہاں سے نکلنا مشکل تھا۔ دونوں شدت پسند اس انکاؤنٹر میں زخمی ہوئے اور ہلاک ہو گئے۔ ان میں سے ایک بلال عرف حیدر ہے جو پاکستانی شہری ہے اور دوسرا شاید بانہال یا رام بن کا مقامی شہری ہے۔ ہم ان کے اہل خانہ کو بلا رہے ہیں تاکہ ان کی شناخت ہو سکے۔

وجے کمار نے کہا کہ الطاف احمد نے مدثر گل کو کرائے پر تین کمرے دے رکھے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدثر گل ایک بزنس مین تھا جو غیر قانونی کال سیٹر چلا رہا تھا۔ ہم نے وہاں سے کافی سامان ضبط کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کو دو پستول، تین میگزین، چھ موبائل فون اور کچھ کپڑے ملے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مدثر اپنے کاروبار کے نام پر شدت پسندوں کا ایک نیٹ ورک چلا رہا تھا اور وہ جنوبی کشمیر سے شمالی کشمیر تک شدت پسند لاتا تھا اور انھیں اپنے گھر پر رکھتا تھا۔

وجے کمار کے مطابق حال ہی میں ایک پولیس اہلکار کو سرینگر کے مرکزی علاقے میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا تھا اور اس واقعے میں شدت پسند ملوث تھے۔ انھوں نے بتایا کہ مدثر حیدرپورہ میں اپنے کار میں شدت پسندوں کو اپنے دفتر لائے تھے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube