Wednesday, May 18, 2022  | 1443  شوّال  16

افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے فیصلے پر شرمندگی نہیں،جوُبائیڈن

SAMAA | - Posted: Aug 17, 2021 | Last Updated: 9 months ago
SAMAA |
Posted: Aug 17, 2021 | Last Updated: 9 months ago

امريکی صدر جو بائيڈن نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فیصلے پر شرمندگی نہیں ہے۔

پیر کووائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ افغانستان میں امریکی مشن دہشت گردی کی روک تھام کے لیے تھا اور امریکا نے وہاں افغان ملٹری فورسز کو تربیت کے ساتھ تنخواہيں تک دی تھیں تاہم امریکا انھیں لڑنے کا جذبہ نہيں دے سکتا۔

امريکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کی صورتحال پر قوم کو اعتماد ميں لیتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے واپسی کا فیصلہ درست تھا اورطالبان سے معاہدہ سابق صدر ٹرمپ نے کیا تھا امریکی صدر نے واضح کیا کہ فوج کےانخلا کوروکنے کی کوشش کرنے والوں کو سخت جواب دیں گے۔امریکا ماضی کی غلطياں نہيں دہرانا چاہتا اور اشرف غنی کو جو جو کام کہے انھوں نے ایک بھی ٹھیک سے نہیں کیا اورجب دباؤ پڑا تو ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے۔

جو بائيڈن نے کہا کہ 20 سال بعد يہ سيکھا کہ انخلا کے ليے کوئی بھی وقت اچھا نہ تھا۔امریکا اس منصوبے کے نقصانات اور اثرات سے بخوبی واقف تھا مگريہ توقع سے زيادہ جلد سامنے آئے۔افغانستان کے سياسی رہنما بھاگ کھڑے ہوئے اور فوجی قوت پسپا ہوگئی۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ افغانستان ميں تعمير نو ہمارا مشن نہيں تھا اور نہ ہوسکتا تھا۔ صدرجوبائیڈن نے یہ بھی بتایا کہ اشرف غنی کو طالبان سے مذاکرات کا مشورہ دیا تھا تاہم اشرف غنی نے ہماری تجویز مسترد کی اور کہاکہ افغان فورسزلڑیں گی۔

ائيڈن نے اعتراف کيا کہ افغانستان ميں امريکا سے بڑی غلطياں ہوئيں۔ ان غلطيوں ميں 4 صدور نے اپنا حصہ ڈالا ہے مگر  کسی پرالزام نہيں دھروں گا۔۔اُن حقائق پر شديد رنجيدہ ہوں جوسامنے آرہے ہيں مگر افغان جنگ ختم کرنے پر کوئی خلش نہيں ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube