Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

اذان سےنیند خراب ہوتی ہے، پابندی کی درخواست دائر

SAMAA | - Posted: Mar 18, 2021 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Mar 18, 2021 | Last Updated: 1 year ago
[caption id="attachment_2221249" align="alignnone" width="800"] فوٹو: ڈان نیوز[/caption]

الہٰ آباد سینٹرل یونیورسٹی کی وائس چانسلر سنگیتا سریواستوا نے اونچی آواز میں اذان پر پابندی عائد کرنے کےلیے درخواست دائر کردی۔

انڈیا ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الہٰ آباد سینٹرل یونیورسٹی کی وائس چانسلر سنگیتا سریواستوا نے ضلعی انتظامیہ کوشکایت درج کرائی جس میں انہوں نے کہا کہ ہر روز صبح ساڑھے 5 بجے اونچی آواز میں دی جانے والی فجر کی اذان سے نیند میں خلل آتا ہے اور سر میں درد ہوتا ہے جس کے باعث ان کا کام متاثر ہوتا ہے لہذا فجرمیں اونچی آواز میں اذان پرپابندی عائد کی جائے۔

وائس چانسلر نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی مذہب، ذات یا نسل کے خلاف نہیں لیکن اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل نکلنا ضروری ہے۔ وائس چانسلرکی جانب سے صرف مائیک ہی نہیں بلکہ رمضان میں تیزآواز میں مخلتف اعلانات سے متعلق بھی شکایت درج کرائی گئی۔

مسجد کی انتظامیہ نے وائس چانسلر کی شکایت کے بعد لاؤڈ اسپیکر کی آوازکم کردی جبکہ مائیک کی سمت بھی وائس چانسلر کی رہائش گاہ کی جانب سے موڑ کر دوسری جانب کردی۔ اس کے باجود اذان کی اونچی آواز کو لے کر مختلف سیاسی و ہندوتوا جماعتوں نے اذان پر پابندی کے خلاف شہر میں مظاہرے کیے۔

اس سے قبل بھارت میں گلوکار سونونگم بھی نیند میں خرابی کا بہانا بناکر لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

دوسری جانب بھارتی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے وائس چانسلرکی اس شکایت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں لوگ ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں، یہاں مسجدوں سے اذانیں اور مندروں سے بھجن فضا میں گونجتے رہتے ہیں۔ اس لیے ان باتوں سے انتہاپسندی کی ہوا کا پرچار نہ کیا جائے تو بہتر ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube