Monday, May 16, 2022  | 1443  شوّال  14

کرونا وائرس امریکا نے پھیلایا ہے،چین کاامریکا پرالزام

SAMAA | - Posted: Mar 14, 2020 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Mar 14, 2020 | Last Updated: 2 years ago
اے ایف پی

چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ کی جانب سے امریکا پر الزام کے بعد چینی سفیر کو احتجاجا طلب کرلیا گیا۔

مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے کہا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ امریکی فوج نے ووہان میں کرونا وائرس پھیلایا ہو۔

ترجمان چینی وزارت خارجہ نے امریکی مشیر سلامتی کے بیان کے ردعمل میں کہا تھا کہ امریکی فوج ہی شاید ووہان میں کرونا وائرس لائی تھی۔ اپنے ٹویٹ میں ترجمان نے کہا کہ شفافیت کا فقدان امریکا میں ہے ، چین میں نہیں۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن نے الزام لگایا تھا کہ چین نے کرونا وائرس پر ردعمل میں سستی کا مظاہر کیا، جس کی گزشتہ ماہ سے دنیا قیمت ادا کر رہی ہے، حالانکہ ووہان میں اس وائرس کی نشاندہی ایک سال قبل ہوگئی تھی۔

امریکا نے چینی ترجمان کے بیان پر امریکا میں تعینات چینی سفیر کو کرونا وائرس سے متعلق الزام لگانے پر طلب کیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی سفیر برائے ایشیا ڈیوڈ اسٹل ویل نے امریکا میں تعینات چینی سفیر سووئی ٹی انکائے کو طلب کر کہ چینی ترجمان کے بیان پر برہمی کا اظہار کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بیان میں چینی حکومت کو عالمی وبا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی کا مقصد چینی حکومت پر تنقید سے توجہ ہٹانا ہے۔ بیان میں امریکا کی جانب سے چین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ امریکا اس قسم کے بیانات برداشت نہیں کرے گا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کا “کانسپری تھیوری” پھیلا رہا ہے جو خطرناک اور مضحکہ خیز ہے۔

امریکا میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کے بعد صدر ڈونلد ٹرمپ نے ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو 50 بلین ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ نے ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے اسٹیفورڈ ایکٹ نافذ کیا ہے جس کے تحت ریاستی حکومتوں کو انسانی جانیں اور املاک محفوظ بنانے کے لیے وفاق مدد فراہم کرے گی۔

اسٹیفورڈ ایکٹ کا نفاذ

امریکی کانگریس کی جانب سے سال 1988 میں پاس کیے گئے اسٹیفورڈ ایکٹ کے تحت مقامی حکومت اور ریاستوں کی مدد کے لیے وفاقی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس امداد کے ذریعے ریاستوں کو بڑے حادثات مثلاً ہری کین، زلزلوں، لینڈ سلائیڈز، سیلاب، سونامی اور آگ لگنے جیسے واقعات سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے متعلقہ اداروں کے سربراہوں کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ صرف وفاقی حکومت ہی وبا سے نمٹنے میں ضروری معاونت فراہم کر سکتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی ہدایات میں نیشنل ایمرجنسیز ایکٹ کی کچھ شقوں کا حوالہ بھی دیا ہے جو وزیر صحت اور انسانی خدمات کے اختیار میں اضافے سے متعلق ہیں۔

اسٹیفورڈ ایکٹ کے تحت فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (فیما) ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ میں مالی امداد کا اضافہ کر سکتی ہے۔

بدھ کو 36 ڈیموکریٹک سینیٹرز کی جانب سے امریکی صدر کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ملک میں 2،000 سے زائد افراد کو متاثر کرنے اور 47 اموات کی وجہ بننے والے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق وسائل فراہم کیے جائیں۔

سینیٹرز کے مطابق “ریاستی اور مقامی نمائندے وبائی صورت حال کے مقابلے اور امریکا کو محفوظ رکھنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں، ایسے میں وفاقی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے مقامی کوششوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

یہ فنڈ مختلف مقاصد مثلاً ٹیسٹنگ، تشخیص، علاج اور مانیٹرنگ، طبی آلات اور عارضی پناہ گاہوں کے قیام کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

وفاقی ادارے 75 فیصد اخراجات مہیا کریں گے، جب کہ باقی 25 فیصد کی فراہمی ریاستوں کی ذمہ داری ہوگی۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube