Thursday, May 19, 2022  | 1443  شوّال  17

پاکستان کیجانب سے سپلائی لائن بند ہونے سے فرق نہیں پڑیگا،پینٹاگون

SAMAA | - Posted: Jan 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 7, 2018 | Last Updated: 4 years ago

خبر رساں ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق امریکی دفاعی محکمہ پینٹاگون پاکستان امداد بند ہونے کے بعد پاکستانی حکومت کے آنے والے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کہ وہ آنے والے وقتوں میں حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کیا مؤثر کارروائیاں زیر استعمال لاتے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی دفاعی محکمہ پینٹاگون پاکستانی حکومت کے آئندہ کے اقدامات، حکمت عملی اور فیصلوں پر گہرے نظر رکھے ہوئے ہے۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کو اس بات کا انتظار ہے کہ امداد بند ہونے کے بعد پاکستان حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کیا کارروائی بروئے کار لائے گا۔

رپورٹ کے مطابق امریکی سپورٹ فنڈز کی مد میں ملنے والی امداد بند ہونے کے بعد پاکستان کے پاس کئی ایسے آپشنز موجود ہیں، جنہیں وہ امریکا کے خلاف یا متبادل کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ میں اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ امداد بند ہونے کے نتیجے میں ہوسکتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے گزر کر افغانستان جانے والی امریکی امداد کو بھی بند کردے۔

اے ایف پی ذرائع کے مطابق امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی جانب سے حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف خاطر خواہ اقدامات کیے گئے تو پاکستان کی امداد بحال کردی جائیگی، تاہم اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

جیمز میٹس کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اگر امریکی سپلائی لائن بند بھی کرتا ہے تو انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں۔ افغانستان میں تعینات امریکی جنرل کا کہنا ہے کہ بحیثیت ملٹری پلاننگ کے ہم مختلف اور متبادل سپلائی روٹس کو ہمیشہ ذہین میں رکھتے ہیں، وسطی ایشیائی ممالک اور روس کے ذریعے بھی امریکا افغانستان تک اپنی طلب کی رسائی عمل میں لا سکتا ہے۔

امریکای دفاعی عہدے دار کے مطابق پاکستان کی جانب سے سپلائی لائن بند ہونے کی صورت میں امریکا متبادل ذرائع سے فوجیوں کو سامان کی رسد ممکن بنا سکے گا، تاہم سوال یہ ہے کہ یہ بندش کیا ہفتوں اور مہینوں پر محیط ہوگی اور اگر یہ بندش اس سے زیادہ عرصے تک کیلئے قائم رہی تو پھر پینٹاگون اور امریکی حکومت کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟

امریکی حکومت اور حکام کیلئے خطرہ کی ایک یہ بات بھی ہے کہ اگر پاکستان نے سرحدی علاقوں سے گزرنے والے امریکی سامان کی ترسیل کیلئے بارڈر بند کردیئے تو کیا ہوگا ؟۔ تاہم امریکی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے کسی بات کے ثبوت فی الحال نہیں ملے ہیں کہ اسلام آباد کی جانب سے ایسے کوئی اقدامات کیے جائیں، جیسا کہ ماضی میں ہوچکا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سال 2011 میں پاک افغان بارڈر پر قائم سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو اور امریکی فوج کے حملے کے بعد پاکستان نے احتجاج کے طور پر نیٹو اور امریکا کی سپلائی لائن کاٹ دی تھی، جس کے بعد امریکا کی افغانستان جانے والے سامان کی ترسیل کئی ماہ تک رکی رہی تھی۔ نیٹو اور امریکی فوج کے حملے میں تین افیسرز سمیت 28 فوجی شہید ہوئے تھے۔

جب کہ امریکا کی جانب سے ایبٹ آباد کے علاقے میں اسامہ بن لادن کے خلاف فوجی آپریشن کے بعد بھی تعلقات میں نیا تناؤ دیکھنے میں آیا تھا۔ سماء

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube